حسن نثار کا ایک فرضی کالم

حسن نثار کا ایک فرضی کالم

ثاقب ملک کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ ان کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی توہین یا دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

جاوید چوہدری اور زید حامد کے فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
سارے چمو چمار اپنی تھوتھنیاں لٹکا کر لائن میں لگ گئے .پاکستان میں یہ فرعون کسی قطار میں نہیں لگتے اور یہاں اپنا گند اپنے مکروہ جسم سے نکالنے کے لیے فوراً لائن میں لگ گئے۔ جب ان شودروں کی باری آئی تو کاونٹر پر کھڑی لڑکی نے پوچھا کہ کہاں جانا ہے؟ اس گھامڑ وزیر کو کچھ سمجھ تو نہ آئی بس یہی جواب دیا کہ ٹائلٹ جانا ہے۔
اوئے بل شٹ، چل اوئے، چپ اوئے، ٹکے ٹکے کے جمہوریے جگاڑ یئے کرپٹ سیاستدان، غلیظ اور پلید ناپاک ملاوٹ زدہ دودھ کی جعلی مکروہ پیدوار، مارشل لا کی نرسریوں میں پرورش پانے والے فارمی برائلر لیڈر، تم لوگ مجھے دھمکی دیتے ہو؟ مجھے انارکسٹ کہتے ہو؟ اوئے تم لوگوں نے تو صدیوں سے اصلی خالص دودھ نہیں پیا، تمہاری رگوں میں گندے اور غلیظ پانی کا ناپاک ملاوٹ زدہ دودھ ہے۔ تمہاری اوقات ہی کیا ہے؟ میں تمہاری اوقات بتاتا ہوں۔ تمہارا ایک جمہوری وزیر اپنے جمہوری چماروں، چمچوں، چیلے چانٹوں کے ساتھ ملائشیا گیا۔ وہاں ایک ٹرین سٹیشن پر وزیر محترم کو جمہوری “حاجت” پیش آ گئی اور غسل خانے جانے کی ضرورت پیش آئی۔ اب یہ جاہل گنوار، ٹٹو انگلش سے نابلد تھے۔ مقامی زبان آتی نہ تھی۔ سامنے ہی ٹرین کے ٹکٹ کے لیے لائن لگی ہوئی تھی۔ وزیر نے سوچا کہ ہو نہ ہو یہی ٹوائلٹ ہیں۔ کاونٹر پر لڑکیاں، مسافروں سے ان کی منزل پوچھ کر ٹکٹ دے رہی تھیں۔ اس بندر نما وزیر نے سمجھا کہ یہ پیشاب کرنے کے پیسے لے رہی ہے کیوں کہ اپنے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ وزیر نے ٹائلٹ جانے کا فیصلہ کیا اور اپنے جمہوری چتکبرے چمچوں سے جمہوری فیصلہ مانگا جو انہوں نے اپنی اپنی دمیں ہلا کر اثبات میں دیا کہ یہی ٹائلٹ ہے۔ سارے چمو چمار اپنی تھوتھنیاں لٹکا کر لائن میں لگ گئے .پاکستان میں یہ فرعون کسی قطار میں نہیں لگتے اور یہاں اپنا گند اپنے مکروہ جسم سے نکالنے کے لیے فوراً لائن میں لگ گئے۔ جب ان شودروں کی باری آئی تو کاونٹر پر کھڑی لڑکی نے پوچھا کہ کہاں جانا ہے؟ اس گھامڑ وزیر کو کچھ سمجھ تو نہ آئی بس یہی جواب دیا کہ ٹائلٹ جانا ہے۔ اس پر اس لڑکی نے ہنس ہنس کر اپنا آپ ادھ موا کر لیا۔ زمین پر گر گئی۔ ساتھ کاونٹر پر کھڑی ٹکٹ چیکر لڑکیوں کو جب پتہ چلا تو وہ بھی ہنسنا شروع ہو گئیں۔ اس دوران یہ جمہوری جانور اپنی زبانیں باہر نکال کر شرمندہ شرمندہ سے کھڑے رہے۔ دوبارہ تصدیق کے لیے کاونٹر پر کھڑی لڑکی نے ان سے پوچھا تو اس للو نے وہی جواب دیا۔اس لڑکی پر ہنسی کا پھر دورہ پڑ گیا۔ اس نے ان کی جہالت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس وزیر کی انگلی پکڑی اور اسے ٹوائلٹ کے سامنے لا کھڑا کیا اور بتایا کہ یہ باتھ روم ہیں۔ جاتے جاتے اس نے واپس مڑ کر پھر اس گنوار مردود کے پاس آ کر اشارہ کر کے بتایا کہ یہ جینٹس ٹوائلٹ ہیں اور یہ لیڈیز۔۔۔ تاکہ کہیں یہ احمق منہ اٹھا کر لیڈیز ٹوائلٹ میں نہ گھس جائیں۔ لعنت ایسے حرام کے جنے جمہوری لیڈروں پر یہ اپنی دموں پر اچھل اچھل کر تنقید کرتے ہیں۔ اوئے لعنت ہو ان کی مردود شکلوں پر۔

ان کی ناپاک ملاوٹ زدہ دودھ پر پلی بڑھی جمہوریت پر لعنت، کہ یہ کسی بانجھ عورت کی طرح کچھ ڈیلیور نہیں کر سکی۔ اس کی مثال اس بوڑھی عورت کی طرح ہے، جو لوگوں کو دور سے نہیں پہچان سکتی تھی۔ جس کو ایک گاوں میں اس کے گھر والوں نے اسی کام کے لیے پال رکھا تھا کہ جونہی کوئی ان کی زمینوں پر قدم رکھتا اور ان کے گھر کی جانب قدم بڑھاتا تو وہ بڑھیا بکنا شروع ہو جاتی کہ او تمہاری ماؤں کے دودھ پر شیطان کی لعنت ہو، او تمہاری اولاد کی سات نسلوں کے ‘اُس‘ کے اِس جگہ کیڑے پڑیں، تمہاری بہنوں کے رشتے کسی چوڑے سے ہو جائیں، تمہاری شکلوں پر پھٹکار برسے، تم گلی گلی آوارہ کتے کی طرح پھرو، تمہاری مائیں اندھی ہو کر بھیک مانگیں، تم مرو تو تم پر کتے پیشاب کریں۔ یہ سب کچھ بکتی رہتی اور جب وہ لوگ یا مہمان گھر کے قریب پہنچتے اور یہ بڑھیا ان کو پہچان جاتی تو معافیاں مانگتی کہ معذرت خواہ ہوں، پہچان نہیں سکی،گھر ،والے بھی معذرت کرتے کہ ہماری ماں بوڑھی ہیں پہچان نہیں سکتیں۔ الیکشن جیتنے کے بعد ہمارے سیاستدان اس بڑھیا عورت کی طرح عوام کو گالیاں دیتے ہیں اور جب الیکشن قریب آ جاتے ہیں تو معذرت کرنا، منتیں ترلے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے کرتوت ہی ایسے مردودوں والے ہیں۔

تو یہ پلید دودھ والے، نو ٹنکی دانشور جن کی زبانیں، بھونکتی رہتی ہیں یہ بیس سال کے بعد دس سال بیل کی طرح کام کرتے ہیں، پھر اگلے دس برس لومڑی کی طرح سیاستدانوں کی جوتیاں اٹھاتے ہیں، خوشامد کرتے ہیں، اگلے بیس سال کتے کی طرح بھونکتے ہیں۔۔۔۔
یہ نقلی نقلائی چغلی چگلائی، دانش رکھنے والے کبڑے اور نام نہاد دانشور جن کی عقلوں پر بغیر چابی والا تالا پڑا ہوا ہے یہ مجھے انتہا پسند اور جمہوریت دشمن کہتے ہیں؟؟ ان کی مثال ایک کہاوت سے سمجھاتا ہوں۔ کہاوت ہے کہ پہلے پہل اللہ نے ساری مخلوق کی عمر بیس سال رکھی تھی۔ تب بیل بولا کہ اللہ میاں میں نے تمام عمر مزدوری کرنی ہے میں اپنی عمر کے دس سال انسان کو دیتا ہوں۔ لومڑ پاس کھڑا تھا وہ بولا اللہ میاں، میں نے بیس سال جی کر کیا کرنا ہے میں بھی دس سال انسان کو دیتی ہوں۔ اسی طرح کتے نے کہا کہ میں نے تو صرف بھونکنا ہی ہے میں بیس سال تک کیا بھونکوں گا؟ میں بھی دس سال انسان کو بخش دیتا ہوں۔ سانپ نے کہا کہ میں کہاں بیس سال تک ڈنگ مارتا رہوں گا میں بھی دس سال انسان کو دیتا ہوں۔ آخر میں الو نے کہا کہ میں نے تو صرف بیٹھ کر دائیں بائیں دیکھنا ہی ہے میں بھی اپنے دس برس انسان کو دیتا ہوں، تو یہ پلید دودھ والے، نو ٹنکی دانشور جن کی زبانیں، بھونکتی رہتی ہیں یہ بیس سال کے بعد دس سال بیل کی طرح کام کرتے ہیں، پھر اگلے دس برس لومڑی کی طرح سیاستدانوں کی جوتیاں اٹھاتے ہیں، خوشامد کرتے ہیں، اگلے بیس سال کتے کی طرح بھونکتے ہیں۔۔۔۔ ہر آتے جاتے پر بھونکتے ہیں ،جس طرح اب مجھ پر بھونک رہے ہیں، اگلے دس سال سانپ کی طرح ڈنگ مارتے ہیں اور آخری عمر الو کی طرح ادھر ادھر دیکھ کر دانشوری کرتے ہیں۔ یہ ایسے دانشور ہیں جن میں سے کوئی کتے کی عمر جی رہا ہے تو کوئی سانپ کی، کوئی الو کی۔۔۔۔

ان کی شکلوں اور کرتوتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے جیسے بوتھے ویسی بد شکل حرکتیں اور کارنامے۔۔۔۔ ان کی بھونک پر تو گلی کا آوارہ کتا بھی توجہ نہیں دیتا میں تو پرواہ ہی نہیں کرتا ان کی۔ بل شٹ،گو ٹو ہیل۔
میرا تو دل چاہتا ہے کہ ساری دنیا کو ایٹم بم سے اڑا دوں صرف میں ہوں، میرے ذہین قارئین ہوں، میرے ذہین مخلص دوست ہوں، میرے مہربان اور دوست سیاستدان ہوں، میری انگلی پکڑ کر سمجھانے بجھانے والے سینیئر ہوں اور میرے بچے اور خاندان ہو باقی سب پر لعنت ہو اور لعنت ہو اس نقلی ناکام اور مردود جمہوریت پر اس سے بہتر چنگیز خان کی آمریت ہے۔
Saqib Malik

Saqib Malik

Saqib Malik is a writer who pours his heart out. He tries to portray the truth. He writes about politics, cricket, media and religion. Read him: http://www.archereye.tk/


Related Articles

Aik Tamanna La’Hasil

The film is rather short and poorly made for the silver screen, for reasons elucidated elsewhere. Perhaps, it should have been made into a stage play, or a telefilm, or even a drama serial.

میاں صاحب کی ڈائری

اسلامباد والے چوہدری صاب بھی پوری نیّر سلطانہ ہیں۔ جب دیکھو، بڈّھے کی جوان زنانی کی طرح رُسّے رہتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے میں نے شغل میں پوچھا، چَوری صاب، چھاویں تے وگ لاء کے رکھ لیا کرو۔

کم بخت منٹو کے کم بخت چاہنے والے

اسے "اوپر نیچے اور درمیان" جو بھی نظر آتا وہی افسانوی سانچے میں ڈال کر لوگوں کے سامنے رکھ دیتا تاکہ وہ یہ سمجھا سکے کہ واقعی معاشرتی برائیوں کو کپڑے پہنانا منٹو یا کسی بھی لکھاری کا نہیں بلکہ ان درزیوں کا کام ہے جنہیں "کالی شلواریں" سینی نہیں آتیں۔