حطؔاب کہو، اب کیا بیچو گے؟

حطؔاب کہو، اب کیا بیچو گے؟

حطاب کہو، اب کیا بیچو گے ؟
جنگل تو سب شہر ہوئے ہیں
گلی گلی میں پائپ بچھے ہیں
دیواروں اور سڑکوں کی گنجلتا میں
حُسنِ سلوک اور حُسنِ طلب
متروک ثقافت کے قصے ہیں
بیچنے اور خریدنے والے
ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں
نام و نمود کی،اَصراف کی گہما گہمی میں
نامحدود ستائش کی خوش فہمی میں
حُسنِ گلو سوز بھی غازے کا،
حُسن افروزی کا محتاج ہوا ہے
کل جو نہیں تھا، آج ہوا ہے

حطاب کہو !
بے کاری کے دن کیسے کاٹو گے؟
کن پیڑوں پر وار کرو گے؟
تھک ہار کے کیا اپنے ہی سائے میں بیٹھو گے؟
شاخیں کاٹ کے جو ڈھیر لگایا تھا
اس پیشے میں جو دام اور نام کمایا تھا
کب تک اس پر گزران کرو گے
کب اور کہاں اپنے حصے کے اشجار لگاؤ گے؟
دیکھو بابا
یوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو
بھوکے مر جاؤ گے!

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

سب ترے نام کا آخری حصہ ہیں

زبیر فیصل عباسی: کبھی ترچھا سا کانٹا چبھ جائے تو
رنگ اِدھر اُدھر بکھرنے لگتے ہیں

سُر منڈل کا راجا

پورب پنچھم باجنے والا ایک خدا کا باجا
نام ہمارے بجوائے گا سُرمنڈل کا راجا

ہم موت سے زیادہ خوب صورت ہیں

سدرہ سحر عمران: ہم نے آوازوں کے شہر میں جی کر دیکھا
اس خاموشی کو
جو موت سے زیادہ خوبصورت تھی