حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کے زیرِ اہتمام شامِ مطالعات

حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کے زیرِ اہتمام شامِ مطالعات

حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کا ہفتہ وار اجلاس بعنوان ’’شام مطالعات‘‘،مورخہ29اگست،2017،بروز منگل شام ساڑھے سات بجے ،کانفرنس روم، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈایا اینڈ پبلیکیشنز،پاکستان سیکریٹریٹ میں منعقد کیا گیا۔اس اجلاس کی صدارت مانچسٹر، برطانیہ سے تشریف لائے سینیئر شاعر جناب باصر سلطان کاظمی صاحب نے کی۔اجلاس کا آغاز حلقے کے سیکریٹری نے گزشتہ اجلاس کی رپورٹ سنا کر کیا۔حاضرین کی تائید کے بعد صاحبِ صدر نے اس رپورٹ کی توثیق کی۔اس کے بعد ظہیر عباس نے شبیر نازش کے پہلے شعری مجموعے ’’ آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ‘‘پر اپنا تحریری مطالعہ پڑھ کر سنایا۔ظہیر عباس نے شعری مجموعے کے فنی محاسن اور خوبیوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ شبیر نازش کے اشعار کا موازنہ دیگر سینیئر شعرا کے اشعار سے بھی کیا۔

ذوالفقار عادل نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ شبیر نے اپنے پہلے مجموعے میں شامل غزلیات اور اشعار کا عمدہ انتخاب کیا۔اسی لیے ان کے مجموعے کا مطالعہ پرلطف رہا۔اس مجموعے میں شاعر کی اپنی شاعری کے ساتھ کمٹ منٹ بھرپور انداز میںنظر آتی ہے۔سید کاشف رضا نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ شبیر کی شاعری میں لسانی اختراع کے بجائے دوسری طرح کے تجربے ملتے ہیں۔ان کا ڈکشن سہل اور سادہ ہے۔مطالعے کو ایسے Exploitکیا جانا اچھا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ چراغ سے چراغ کیسے جلتا ہے۔اس کے بعد رفیع اللہ میاں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تقابلی اشعار سن کر لگتا ہے کہ شبیر ، میر وغالب کے ہم پلہ ہیں۔مجھے ان کی شاعری میں استعارہ سازی سے گریز اچھا نہیں لگا۔ رفاقت حیات نے شبیر نازش کی شاعری کے بارے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ شبیر کے مجموعے کے مطالعے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی غزلوں میں زیادہ تر اپنی ذاتی جذباتی اور محسوساتی واردات تک ہی محدود رہے۔ ان کے ہاں شعری نرگسیت اور تعلی زیادہ نظر آتی ہے۔ان کے پاس اچھے اشعار تو ہیں،مگر گہرے اور تہہ دار اشعار بہت کم ملتے ہیں، اس کی وجہ شاید ان کی مطالعے کی کمی ہے۔کاشف رضا نے اس بات پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اظہارِ ذات والے شعرا کے ہاں سادگی کی طرف رجحان ہوتا ہے۔شبیر اسی قبیل کے شاعر ہیں۔رفیع اللہ میاں نے کہاکہ شاعری بنیادی طور پر اظہارِ ذات ہی ہوتی ہے۔مجھے اس مجموعے میں دو شعر بہت اچھے لگے۔جن میں سے ایک یہ ہے ع؛ پر نہ کھولے اسی تردد میں

   کم نہ پڑ جائے کائنات مجھے

اس شعر کا مفہوم بظاہر منفی ہے مگر اس کا حسن بھی یہی ہے کہ آدمی اس شعر میںکھو جائے۔
شبیر نازش کے شعری مجموعے پر گفتگو کو سمیٹتے ہوئے صاحبِ صدر باسر سلطان کاظمی نے کہا کہ پہلے مجموعے کی اشاعت پر مبار ک باد بجا طور پر دی گئی۔وہ اس کا مستحق ہے۔شبیر نے آتش بازی یا نمائش کی شعوری کوشش نہیں کی۔بلکہ ان کے شعر اس کم روشنی کی طرح ہوتے ہیں، جو آہستہ آہستہ محسوس ہوتی ہے۔ٹی ایس ایلیٹ نے شاعری کے لیے اظہارِ ذات سے آگے کی بات کی ہے۔شاعری تو ذات سے فرار کا نام ہے۔

اس کے بعد رفاقت حیات نے مرزا اطہر بیگ کے پہلے ناول’’ غلام باغ‘‘ پر تحریری مطالعہ پیش کیا۔اس بار بھی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ذوالفقار عادل نے کہا کہ انہوں نے یہ ناول مکمل نہیں پڑھامگر جتنا بھی پڑھا۔ انہیں یہ اس عہد کا بڑا ناول محسوس ہوا۔اس میں کردار سازی خوب ہے۔زبان بہت اچھی ہے۔سید کاشف رضا نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ مرزا اطہر بیگ کے ناول بہت فاسٹ پیس ہوتے ہیں۔شاید یہ ان کی ڈرامہ نگاری کی ریاضت کا ثمر ہے کہ ان کے ناولوں میں کہانی بہت تیز چلتی ہے۔ان کے ناول پوسٹ کولونیل دور کے متعلق ہیں۔ اس حوالے سے ان کے ہاں مقامی اور بیرونی، دونوں نقطہ نطر ملتے ہیں۔ان کے سسپینس کا عنصر حاوی رہتا ہے۔ان کے ناولوں میں پاکستان جیتا جاگتا دکھائی دیتا ہے۔ایک ناول نگار کو ایک اچھا منصوبہ ساز ہونا چاہیے، اس معاملے میں مرزا اطہر بیگ بہت نمایاں ہیں۔رفاقت حیا ت اظہارں کیال کرتے ہوئے کہا کہ مرزا اطہر بیگ اپنے ناولوں میںکرداروں کی تشکیل مختلف طرح کے تصورات کی مدد سے کرتے ہیں۔اس لحاظ سے انہیں غلام باغ ایک میچور ناول محسوس ہوتا ہے۔صاحب صدر نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہارڈی کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اس کے ناولوں کا اسٹرکچر بہت پختہ ہوتا ہے۔کاشف رضا نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہارڈی کے ناولوں کا اسٹرکچر Guess کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ ڈکنز کے ناولوں کا ڈیزائن گیس نہیں کیا جاسکتا۔ مرزا اطہر بیگ کے ہاں معاملہ بے حد مختلف ہے۔رفیع اللہ میاں نے کہا کہ انہیں مرزا صاحب کے ناولوں میں جو بات سب سے زیادہ کھلتی رہی ، وہ یہ ہے کہ انہوں نے ہر ناول میں ایک ہی کردار کو بار بار دہرایا ہے۔کاشف رضا نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی فکشن میں بھی ایسا دیکھا گیا ہے کہ عام طور پرناولوں کا ہیرو ادیب کی اپنی ذات ہوتی ہے۔یہ بات قابلِ اعتراض بات نہیں ہے۔رفاقت حیات نے کہا کہ غلام باغ کے اکثر کردار فلسفی اور دانشور محسوس ہوتے ہیں۔ وہ موقع بے موقع فلسفہ بگھارتے دکھائی دیتے ہیں۔ نرس مختیار بھی ایک ایسا ہی کردار ہے۔رفیع اللہ میاں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو ناول کا پہلا دور ’’آگ کا دریا‘‘ اور ’’اداس نسلیں‘‘ کے ساتھ ختم ہوگیا۔ غلام باغ اردو ناول کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔لاہور سے تشریف لائے مہمان جاوید آفتاب نے گفتگو مین سریک ہوتے ہوئے کہا کہ ایک شاعر کے لیے دیگر علوم سے آگاہی ناگزیر ہے۔وسیع علم کے بغیر شاعری میں گہرائی اور وسعت پیدا نہیں کی جاسکتی۔جب کہ فکشن میں ریسرچ کے بغیر کردارون پر گرفت کرنا آسان نہیں ہوتا۔مرزا اطہر بیگ صاحب ایک وسیع المطامعہ شخص ہیں ، مگر ان کے ناولوں میں تکرار نہیں ہونی چاہیے۔

آخر میں اجلاس کے صدر باصر سلطان کاظمی صاحب نے ناول پر گفتگو کو انتہائی پر مغز قرار دیا۔حاضرین کے اصرار پر باصر سلطان کاظمی صاحب نے اپنا کلام سنایا۔ع؛

ملتا نہیں ہے دشت نوردی میں اب وہ لطف
رہنے لگا ہے ذہن پہ گھر اس قدر سوار

اس کے ساتھ ہی صاحب ِ صدر نے اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا۔


Related Articles

ادبی تھیوری:ایک مغالطہ (پہلا حصہ)

عامر سہیل: تخلیقی فن پارہ صرف اپنی لسانی ساخت کی وجہ سے اہم نہیں ہوتا بلکہ اپنے فکری عناصر کی وجہ سے بھی فن پارہ بنتا ہے۔ادبی تھیوری نے فن پارے کے فکری اور معنوی پہلو کو جس احمقانہ شدت سے رد کیا وہ بجائے خود ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔

حرامی ہجرتیں

میں ادھورے نقشے بناتا ہوں
تم نے کہاں تک جانا ہے؟
آج کے دن، اس سال، اس صدی، اس کہکشاں کے انڈے میں
تم کہاں تک جا سکو گے؟

آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

رات کے خالی برتن میں یہ کیسا شور بھرا ہے!
دن کی ٹانگیں کائنات کے رعب سے کانپتی رہتی ہیں
اِس لاغر ،کانپتی ٹانگوں والے دن سے کون اُمید کرے
کون اِس دل کے چیختے ویرانوں کی گونج سنے