خاموش خدا

خاموش خدا
خاموش خدا
شاعر: اشفاق آذر
سندھی سے ترجمہ: قاسم کیھر

میرے خاموش خدا کو کہنا !
شور بڑھ گیا ہے کتنا تو
شہر کا شہر ہو گیا ہے بہرا
گونگے الفاظ تڑپ رہے ہیں حلق میں
کون ہے کون، جو بات کرے؟
وحشتوں کو بندھی ہوئی ہیں پگڑیاں
زندہ جہنم کی کھانی ہے
یہ جو زور سے بج رہے ھیں لاؤڈ اسپیکر
بھڑکا رہا ہے آگ ان میں سے کوئی !
جو جل رہی ہے خاک وہ محبت ہے
اس پے جلے گا نہ اب دیا کوئی
بے اثر ہو گئے صحیفے جو
ان کو اب کوئی کفن پھنائے !
نعرے ہیں یا کوئی ہیں تلواریں؟
نوک پر کتنے روح مصلب ہیں
جشن ہے فتح کا پر دیکھنا
کون ہے کون جو شکستہ پا ہے؟
تیر ہی تیر ہیں ہجوموں کے
دل کی سماعتیں زخمی ہیں
کب تلک وہ خاموش بیٹھے گا؟
لب کھولے، کچھ تو کلام کرے !
میرے خاموش خدا کو کہنا !
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

خُدا اپنا لباس نہیں بدلتا

کون پڑھتا ہے زندگی کو تمہاری مو جودگی میں
اور کسے لکھنا آ جا تا ہے لفظ "موت "
تمہارے بغیر

اگرگولی کی رفتار سے تیز بھاگ سکتا

حفیظ تبسم: میں کچھ دن اور زندہ رہ سکتا تھا
اگر۔۔۔۔
میرے ہاتھ میں پھول نہ ہوتے

خوابوں کی افادیت

نصیر احمد ناصر: خواب دیکھتے ہوئے
کچھ بھی کیا جا سکتا ہے
مثلآ گدھے کی سواری
شیر کے ساتھ دوست