خدا ایک آنسو مِرا بارشوں میں بہا دے

خدا ایک آنسو مِرا بارشوں میں بہا دے

خدا، میرے لفظوں کو جگنو بنا دے
خدا، میری باتوں کو تتلی بنا دے
خدا، میرے قدموں کو رستہ بنا دے
خدا، مجھ کو پھولوں کی خوشبو بنا کر ہوا میں اڑا دے
خدا، موتیے کی طرح مسکرا دے
خدا، میری آنکھوں کو نظمیں بنا دے
خدا، میری نظمیں کہیں دور دیسوں کو جاتے
پرندوں کی ڈاریں بنا دے

خدا، ماں کے آنسو بڑے قیمتی ہیں
انہیں دکھ کے لاکر میں محفوظ کر دے
خدا، کارنس پر رکھی میری تصویر مرنے لگی ہے
اسے میرے بچوں کے دل میں سجا دے
خدا، ایک لڑکی کسی دل میں بسنے لگی ہے
خدا، اس کے دل میں بھی کوئی بسا دے
خدا، عورتوں کے بدن ریت کے ڈھیر ہونے لگے ہیں
خدا، ان کے سینوں پہ گندم کی فصلیں اگا دے

خدا، ایک آنسو کہیں بچپنے کی ازل سے
کسی دکھ کے ڈَل سے، گزر کر
مِری دونوں آنکھوں میں ٹھہرا ہوا ہے
خدا، بارشوں میں اسے اب بہا دے
خدا، ایک آنسو مِرا بارشوں میں بہا دے
خدا، خود بھی رو دے، مجھے بھی رلا دے!!

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

اليعازر مر گیا

رضی حیدر: آہ میرا یہ جنیں خون اگلتا جاۓ
اس قدر خون مری ماں کا بطن بھر جاۓ
اس قدر خون کہ جراح کا لبادہ میرے
سرخ ایام کی تنہائی سا گاڑھا ہو جاۓ

کہیں ایک رستہ مِلے گا

نصیر احمد ناصر:کہیں ایک لمحہ ہے
عمروں کا حاصل ہے
بوسیدگی سے بھرا اک مکاں ہے
کسی یادِ کہنہ کا جالا ہے، مکڑی ہے
سانپوں کا بِل ہے
کہیں ایک صدیوں پرانی سی چکی ہے، ونڈ مِل ہے
جس کے گھماؤ میں
پانی ہے، پتھر کی سِل ہے
تِری سبز آنکھیں، مِرا سرخ دِل ہے !!

قہقہہ

علی ساحل: میں جب مشینوں سے بیزار ہوتا ہوں
تو میرا جی چاہتا ہے
میں اپنے گاؤں چلا جاؤں