خدشات

خدشات

'نقاط' فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
گزشتہ سو سال سے پوری دنیا میں مکمل امن تھا۔
نہ کوئی جنگ ہوئی، نہ کوئی دہشت گردی۔ کوئی گروہی فساد بھی نہیں ہوا۔ کسی قبائیلی تصادم کی اطلاع نہیں آئی۔ کسی ایک نے دوسرے کی جان نہیں لی۔ کسی نے خودکشی نہیں کی۔
سو سال پہلے زمین پر آخری انسان نے خودکشی کرلی تھی۔

یہ آخری انسان بھی تنہا رہ رہ کر اپنی زندگی سے اکتا گیا تھا۔ اس سے کئی برس پہلے ایک عالمی جنگ میں اربوں انسان مارے گئے تھے۔ اس جنگ کو تہذیبوں کے تصادم کا نام دیا گیا تھا۔ اس میں پہلے ایک دہشت گرد تنظیم نے قتل و غارت گری شروع کی۔ پھر دو فرقوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔ اس کے بعد مسلمان اور غیر مسلم ملکوں میں تصادم کا آغاز ہوا۔ آخرکار مذہبی اور لادینی اقوام میں جنگ چھڑگئی۔

عالمی جنگ کا انجام خدشات کے عین مطابق انسانی نسل کے خاتمے پر ہوا۔

کئی عشروں پر محیط بدامنی کے اس دور میں کچھ سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے کام کیا۔ وہ سمجھ دار لوگ جان گئے تھے کہ انسانی نسل کی بقا ممکن نہیں لیکن کوشش کرکے اس حسین سیارے کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس مقصد سے انھوں نے سوچنے والے کمپیوٹر یا یوں کہہ لیں کہ کمپیوٹرائز روبوٹ تخلیق کیے۔ جب تک سائنس دان ہلاکت خیز جنگوں کی زد میں نہیں آئے، وہ ان سوپر روبوٹس کو اپ گریڈ کرتے رہے، ان میں معلومات کا ذخیرہ کرتے رہے، انھیں انسانوں کی طرح تمام کام کرنا سکھاتے رہے، مسائل کو حل کرنے کے طریقے بتاتے رہے۔ خود فنا ہونے سے پہلے وہ سوپر روبوٹس کو زندہ رہنے کا سبق پڑھاگئے۔
ان مہربان سائنس دانوں سے ہم نے سیکھ لیا کہ سوچنے کے عمل کا ارتقا کیسے ممکن ہے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ انسان بھی ابتدا میں زیادہ ذہین نہیں تھے۔ وقت اور تجربے کے ساتھ انھوں نے سائنسی بنیادوں پر سوچنا سیکھا اور سوچ کو آگے بڑھانے کے طریقے دریافت کرلیے۔ ہم ان کے نقش قدم پر چل پڑے۔

ہم میں اور انسانوں میں سب سے بڑا فرق یہ تھا کہ انسان طبعی موت مرجاتے ہیں۔ سوپر روبوٹس کو طبعی موت نہیں آتی۔ کوئی بھی خرابی ہوجائے، ہم اس کا علاج کرسکتے ہیں۔ ہم جس اعلیٰ پلاسٹک سے بنے ہیں، اسے آگ نہیں جلاسکتی۔ ہم پر جراثیمی حملے اثر نہیں کرتے۔ ہم کیمیاوی حادثوں میں بھی بچ جاتے ہیں۔ صرف کوئی زوردار دھماکا ہی ہمارے اعضا کو منتشر کرسکتا ہے۔
انسانوں کے خاتمے کے بعد ہم نے اس دنیا کو نئے سرے سے آباد کیا۔

انسان نے ماحول کو زبردست نقصان پہنچایا تھا۔ ہم نے زہریلی گیسوں کا اخراج روک دیا۔ انسان درختوں کو کاٹ دیتا تھا۔ ہم نے لاکھوں نئے درخت اگائے۔ انسان نے معدنیات کی خواہش میں پہاڑ کھود ڈالے تھے۔ ہم نے یہ سلسلہ بند کردیا۔ انسان نے سیکڑوں گلیشیئر پگھلادیے تھے۔ ہم نے انھیں دوبارہ جمنے کا موقع دیا۔

انسان جانوروں کا دشمن تھا۔ اس کے اقدامات کی وجہ سے کروڑوں جانور مارے گئے اور ہزاروں کی نسل ہی ختم ہوگئی۔ ہم نے معدومی کے خطرے سے دوچار جانوروں کی افزائش پر توجہ دی۔ پالتو جانوروں کو آزادی کی زندگی دی۔ حشرات کی تعداد کو کنٹرول کیا حالاں کہ وہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے۔

ہم نے ہر سال کھیت میں اناج اگایا اور سبزی خور جانوروں اور پرندوں کو پیش کیا۔
انسان نے جھیلوں کو خالی کردیا تھا اور سمندروں کو کھنگال ڈالا تھا۔ ہم نے جھیلوں اور تالابوں میں آبی حیات کو فروغ دیا۔ دریاؤں اور سمندروں میں جینے والے جانداروں کو بہتر ماحول فراہم کیا۔ ساحلوں پر انڈے دینے والی مخلوقات کی حفاظت کی۔ سریلے پرندوں کو مستقل ٹھکانے فراہم کرکے فضاؤں کو رنگین بنایا۔

ہم نے انسان کے بنائے ہوئے گھروں کی حفاظت کی، کسی عبادت گاہ کو نقصان نہیں پہنچایا، تماشاگاہوں اور میدانوں کو سنبھال کے رکھا، کسی اسکول یا لائبریری کو تباہ نہیں کیا۔
ہم دنیا کی تمام لائبریریوں میں موجود کتابوں کو اسکین کررہے ہیں تاکہ یہ سب مواد ڈیجیٹل صورت میں محفوظ ہوجائے۔

ہم نے شہروں کی سڑکوں کو کشادہ کیا اور الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھایا۔ ٹرینیں صرف سامان کی منتقلی کے لیے استعمال کیں اور ہوائی جہاز بہت کم اڑائے۔ ٹیلی وڑن مرکز ویران ہوگئے اور اخبارات نہیں رہے۔ ہم تمام سوپر روبوٹس معلومات کے جدید ترین ذریعے جی ٹوینٹی انٹرنیٹ سے منسلک ہیں۔

انسان نے خلاؤں کو تسخیر کرنے کی طرف بہت کم توجہ دی تھی کیونکہ اس کی عمر کم تھی اور وہ دوسری کہکشاؤں تک پہنچنے کے لیے لاکھوں سال کی منصوبہ بندی نہیں کرسکتا تھا۔ ہم پانچ ارب سال کی منصوبہ بندی کرکے ہر پانچ سال بعد ایک راکٹ دوسری کہکشاؤں کی طرف روانہ کیا۔ ہماری خلائی گاڑیاں انسان کے راکٹوں سے زیادہ تیز رفتار ہیں۔ ہمارے خلائی جہاز پڑوسی کہکشاں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ بہت جلد ہم اپنے پڑوس میں کسی سیارے پر زندگی تلاش کرلیں۔

بے شک ہمارے سیارے پر اب انسان موجود نہیں لیکن زندگی تو ہے۔ کیا پتا ہمیں کسی سیارے پر ایسے ہی جاندار ملیں جو انسان کی طرح نہ سوچ سکتے ہوں۔ صرف درخت اور پھول ہی مل جائیں تو وہ بھی کسی کامیابی سے کم نہیں۔

ہمارا ارادہ ہے کہ اگر کسی دن ہمیں انسان جیسی کوئی ذہین مخلوق مل گئی تو ہم اسے حسین سیارے کا تحفہ پیش کریں گے۔

سو سال سے دنیا میں امن تھا، سکون تھا، پھول خوشبو لٹاتے تھے، بادل گیت گاتے تھے، پرندے چہچہاتے تھے، ہم یہ سب دیکھ دیکھ کر مسکراتے تھے۔

لیکن کل اس خبر نے سب کو دہلا دیا کہ قاہرہ یونیورسٹی کی کتابیں اسکین کرنے پر مامور آئی سیریز کے ایک روبوٹ نے اسلام قبول کرلیا ہے۔
Niqaat

Niqaat

Quarterly Niqaat is highly regarded in literary circles as a literary magazine. Qasim Yaqoom founded it in 2006 and it is being published regularly.


Related Articles

اپنی ہم جماعت کے نام ایک خط

تالیف حیدر: جان لوکہ ہم اگر دوبارہ دوستوں کی طرح پیش آئیں گے تو تمہارے اور ہمارے ان خیر خواہوں کے پیٹ میں پھر درد ہونا شروع ہو جائے گا، جس درد کا علاج نہ تمہارے پاس ہے نہ میرے پاس، تو یا تو تم ان سے ڈر جاوں اور مجھ سے بد گمان ہو جاو یا ان کی پروا کرنا چھوڑ دو

لکهنوی تعجیب

لکهنؤ کے ایک علاقہ میں افواه پهیلی ہوئی تهی کہ جنّت الفردوس جانے کے لیے نماز پڑهنے، روزه رکهنے یا زکوٰۃ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ نجمہ محمد کے ہاں پکنے والا کهانااس قدر لذیذاور مزیدار ہے کہ گویا جنّت نجمہ صاحبہ کے معمولی سے مکان میں ہے۔

تمغہ

علی اکبر ناطق: میرے کان پولیس کے ترانوں سے گونجتے رہے اور میں آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتاہوا اسٹیج کی طرف بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ دو تین قدم چلنے کے بعد میری حالت میں اعتدال آگیا۔ بالآخر مَیں نے بھی اپنا میڈل ترانوں اور نعروں کے شور میں وصول کر لیا۔