خشک نمی

خشک نمی
خشک نمی
شامِ تجدیدِ وفا اب کے برس مثلِ خزاں آئی ہے
نہ کوئی تحفۂ گل سرخیٔ رخسارِ تمنا کو عیاں کرتا ہے
نہ کوئی سبز خطِ قصۂ پارینہ
رہِ یاد کے غنچوں کو ہرا کرتا ہے
نہ تو تشبیب،
نہ توصیف،
نہ رنگینی و زیبائی ہے
فاصلہ موسمِ ہجراں کا تماشائی ہے

فاصلہ کیا ہے مگر؟
زود گزر تین حبابوں کا تراشیدہ تعلق ہے فقط
"اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا"
سرمدی موجِ گزشتہ
جو کسی قطرۂ آئندہ کو
موجودہ میں ڈھلنے کی صدا دیتی ہے
کل، ابھی، آج، کبھی،
موجِ زماں، طولِ مکاں،
شعبدۂ دستِ اجل ہے مری جاں

فاصلہ زہرِ جدائی تو ہے
پر ایسا بھی اب اژدرِ سفاک نہیں
پہلوئے یاد ترا لمس گزیدہ تو ہے
پر درد کا محتاج نہیں
ہے زمیں خشک
مگر اتنی بھی تاراج نہیں

سُن مری جانِ وفا
گرچہ صبا لائے گی تجھ تک
مرےاس شہرِ شکستہ پہ برسنے کی خبر
ایسی افواہوں پہ یوں کان نہ دھر
ایک لحظے کو ٹھہر،
غور تو کر،
بات اتنی سی ہے
امکان کی میچی ہوئی آنکھوں سے یہی چار گہر پھسلے ہیں
اِن کو برکھا نہ سمجھ
یہ تو فقط اشکِ شکیبائی ہیں
اتنی جلدی بھی کبھی چرخِ تمنا پہ گھٹا چھائی ہے؟
اتنی سرعت سے کبھی نخلِ بیاباں پہ شگوفوں کے ابھرنے کی خبرشوق کی بے جان زمینوں میں نمی لائی ہے؟

تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں
کیسے ممکن ہے کہ گلشن میں بہار آ جائے
اور سلگتی ہوئی نظروں کو قرار آ جائے
یہ جو کل صبح ذرا گرم شتابی سے فلک ایک گھڑی برسا ہے
ہو نہ ہو یہ بھی کسی غفلت وانکار کی مٹی میں گندھے ابر کی سازش ہو گی
تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں
سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے
تو جب آئے گی،
گھٹا چھائے گی،
بارش ہو گی

Image: Duy Huynh


Related Articles

شب خون

میں خواب میں جنگ دیکھتا ہوں

مرکزہ اپنی اکائی توڑتا ہے

قاسم یعقوب: عجب عشوہ گری ایام نے سیکھی ہے موسم کے تغیر سے
زمیں پاؤں کی ٹھوکرپرپڑی ہے
آسماں مرضی کا منظر چاہتا ہے
رتجگے کی شب کروموسوم کی ہجرت پہ پہرہ دے رہا ہے

جبر کی دنیا

سلمان حیدر: زندگی کا ہیولہ سرچ ٹاور پر گھومتے سورج کی طرح
سیاہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے سامنے
رات جیسے دن میں کئی بار گزرتا ہے