خواہش کی ٹافی

خواہش کی ٹافی
اب تم نے ریپر کھول ہی لیا ہے تو سنو
اس ٹافی کو چوس کر یا چبا کر ختم کرو
اس کے اندر ایک ببل ہے
چباو، چباو، چباتے جاؤ
اور جبڑے تھکتے ہی جادو ہو گا
ببل بن جائے گا ٹافی
اب تم اس ٹافی کو چوسو یا چباؤ
بہتر یہ ہے کہ چوسو، چوستے جاؤ
اس کے اندر سے نکلے گا
ایک اور ببل
اور وہ جبڑوں کے تھکتے ہی
بن جائے گا ٹافی
جادو ہے
خواہش کی ٹافی
ایک مسلسل جادو
اب چوسو یا چباؤ
مرضی تمہاری ہے
موجود سے بیزاری ہی
اصل بیماری ہے

Image: TOMAAS


Related Articles

فاعتَبِرُو یَا اُولِی الاَبصَار

علی زریون: سیارے پر بہت ہی سخت دن آئے ہوئے ہیں
خواب بچّے ہیں
ڈرے سہمے گھنی پلکوں کے پیچھے
چھپ کے بیٹھے ہیں

مرے چراغ

علی اکبر ناطق: مرے چراغ بجھ گئے
میں تیرگی سے روشنی کی بھیک مانگتا رہا
ہوائیں ساز باز کر رہی تھیں جن دنوں سیاہ رات سے

سیدھے لوگ آخری دن کی اندیشگی نہیں پالتے

ایچ بی بلوچ:مچلھیاں اور سیدھے لوگ
آخری دن کی اندیشگی نہیں پالتے
انہیں کسی بھی وقت
کنڈے سے لٹکایا جا سکتا ہے