خوبانی

خوبانی

عمران ازفر کی یہ نظم معروف ادبی جریدے 'تسطیر' میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
خوبانی
میری خواہش، میری ساتھی
خوبانی ہے
کل دن نکلا تو
اپنے کچے صحن کے تھالے کے پیندے پر
اپنے بدن کو کچی مٹی کی بانہوں میں
سونپ دیا
اور گیلے گیلے ہونٹوں والے چہرے کی
مخمور ہنسی میں اپنے آپ کو چھوڑ دیا

خوبانی ہے
جلتے جسم کی حیرانی میں
تازہ نرمیلی قاشیں ہیں
جو اک تھال کے بستر اوپر
لمبی تان کے سوتی ہیں اب
بیج بدن میں پھوٹتے ہیں
اور آنکھیں خوشبو بوتی ہیں

خوبانی ہے
ڈھیلے ڈھالے لچکیلے سے ٹہنوں اوپر
جیسے بیج بدن سے لہرائیں
ان البیلی سی قاشوں میں
جب جسم کا سونا اُگنا ہے
ہر خواب خوبانی ہونا ہے
اور دھوپ کے تھالے میں چمکیں
وہ شوق کی حدت
جس میں خوبانی سے باداموں کی نرمی
پوشیدہ ہے.....

Related Articles

رات ہمیشہ تو نہیں رہتی ہے

علی زریون: آیتیں سچ ہیں مگر تُو نہیں سچّا مُلّا
تیری تشریح غلط ہے، مِرا قُرآن نہیں
دین کو باپ کی جاگیر سمجھنے والے
تجھ سوا اور یہاں کوئی مسلمان نہیں ؟؟؟

رات کے یتیم بچے

گھڑی کی ہچکیوں میں

کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا سچ

صفیہ حیات: زچگی کے دن ماں کے گھر گزارتی بیوی
بستر کے ساتھی کو
ساتھ لانا بھول گئی