خیبرپختونخوا؛ تعلیم کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں

خیبرپختونخوا؛ تعلیم کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں
شہری سہولیات کی فراہمی کا انتخابی نعرہ لگا کر صوبائی حکومت حاصل کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بالآخر تعلیم کے شعبے پر توجہ دینے کا آغاز ہو چکا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں تعلیم کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ ذیل میں ان مثبت تعلیمی تبدیلیوں کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔
سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی
خیبرپختونخوا کے سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے دس ارب روپے کا ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں احکامات 30 نومبر کو ہونے والے ایک اجلاس کے دوران دیئے گئے۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن علی رضا بھٹہ، ایڈیشنل سیکرٹری قیصر عالم، ڈائیریکٹر فار ایجوکیشن رفیق خٹک اور صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان بھی شریک تھے۔ منصوبے کے تحت یہ رقم پانی، بجلی، رفع حاجت اور چار دیواری کی سہولت سے محروم سکولوں پر خرچ کی جائے گی۔ صوبائی وزیر برائے ایلیمنٹری و پرائمری تعلیم محمد عاطف خان کے مطابق اس منصوبے کے تحت صوبے بھر کے 9278 سکولوں کی چار دیواری، 5520 سکولوں میں ٹوائلٹ، 786 سکولوں میں بجلی کی فراہمی، 438 سکولوں میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کے پینل، 3857 سکولوں میں پینے کے پانی کی فراہمی اور 2600 سکولوں میں کھیل کے میدان تعمیر کیے جائیں گے۔ مستقبل میں ان تعمیرات کے لیے مزید 33 ارب روپے فراہم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔

خیبرپختونخوا کے سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے دس ارب روپے کا ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔
بھرتیاں، تربیت اور کارروائیاں

خیبرپختونخوا حکومت نے اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے 12000 اساتذہ بھرتی کیے ہیں جبکہ 10000 ہزار مزید آئندہ چند ماہ میں تعینات کیے جائیں گے۔ محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے گزشتہ برس 23000 اساتذہ کو تربیت فراہم کی تھی جبکہ 23000 کو رواں تعلیمی سال کے دوران تربیت دی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر برائے ایلیمنٹری و پرائمری تعلیم محمد عاطف خان کے مطابق 7500 ایسے اساتذہ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے کا تدریسی طریقہ کار غیر معیاری تھا اور نتائج غیر تسلی بخش تھے۔ اس حوالے سے میں 25نومبر کو جاری کیے گئے ایک سرکاری ہینڈ آوٹ میں ذرائع ابلاغ کو فراہم کی گئی تھیں۔

سکولوں کی تعمیر اور بحالی

خیبر پختونخوا میں قدرتی افات اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں بہت سے سکول تباہ ہوئے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کی جانب سے ایسے سکولوں کی فوری تعمیر کا نظام موجود تھا تاہم حالیہ حکومت کو اس کے ابتدائی برس میں اس حوالےسے غفلت برتنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ تاہم اب خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت نے سکولوں کی تعمیر اور بحالی کی جانب توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ زلزلے کے دوران سینکڑوں سکول مکمل طور پر تباہ جبکہ ایک ہزار کے قریب سکولوں کی عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔ ان سکولوں کی تعمیر کے حوالے سے اعلانات کے باوجود ابھی تک اس سلسلے میں کام کا آغاز اور بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔
29 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران برطانوی حکومت کے ادارے ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کے تعاون سے خیبرپختونخوا کے نو اضلاع میں 200 ہائیر سکینڈری سکول تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس حوالے سے جاری کیے گئے سرکاری ہینڈ آوٹ کے مطابق نئے سکولوں کی تعمیر کے علاوہ ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ زلزلے سے متاثرہ سکولوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے بھی مالی مدد فراہم کرے گا۔ وزیر تعلیم محمد عاطف خان کے مطابق بہت سے متاثرہ سکولوں کے طلبہ کو دیگر سکولوں کی عمارات میں منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ تباہ ہونے والے سکولوں کو جلد بحال کر دیا جائے گا۔
کھیل کود کا حق

خبر پختونخوا حکومت میں ایک کینیڈین غیر سرکاری تنظیم "رائٹ ٹو پلے" نے کھیل کود اور سماجی سرگرمیوں کی مدد سے تربیت فراہم کرنے کے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے۔
پنجاب حکومت ہر برس یوتھ فیسٹیول کا اہتمام کرتی ہے جس کے تحت مختلف سطح پر طلبہ کے کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔ خبر پختونخوا حکومت میں ایک کینیڈین غیر سرکاری تنظیم "رائٹ ٹو پلے" نے کھیل کود اور سماجی سرگرمیوں کی مدد سے تربیت فراہم کرنے کے ایک پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت رائٹ ٹو پلے کے صوبائی کوآرڈینیٹر ہمایوں خان کے مطابق یہ ادارہ اس وقت پشاور، مردان اور مانسہرہ کے 200 سرکاری سکولوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کی سرگرمیوں سے اب تک 94000 طلبہ مستفید ہو چکے ہیں۔ ہمایوں خان نے صوبائی وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے ملاقات کے بعد اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
ہر ضلع میں یونیورسٹی

سابق صوبائی حکومت کے دور میں خیبرپختونخوا کے ہر ضلعے میں یونیورسٹی یا یونیورسٹیوں کےذیلی کیمپس قائم کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔ موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے رواں ماہ ہر ضلعے میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت اب تک 50 کالج بھی تعمیر کر چکی ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم

پنجاب میں آن لائن نصابی کتب، لیپ ٹاپ سکیم اور دیگر آئی ٹی منصوبے پنجاب کے تعلیمی نظام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے مائیکروسافٹ کے ساتھ مل کر صوبے بھر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تدریس اور آئی ٹی تجربہ گاہوں کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 15000 اساتذہ کو آئی ٹی کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے کا اعلان 23 دسمبر کو پشاور میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری کیے گئے سرکاری ہینڈ آوٹ کے مطابق اس منصوبے کا پہلا مرحلہ فروری 2016 تک مکمل ہو جائے گا۔

Related Articles

پاکستان میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان

پاکستان میں15سے 64سال کےتقریباً 60 لاکھ 70 ہزار افراد منشیات کا استعمال کرتے ہیں جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے ۔

A Slumdog in the New World

Early in the morning I was standing before the statue of Abraham Lincoln whose life, I believe, is still a

غیر قانونی یونیورسٹیوں کے خلاف ایف آئی اے کے ذریعہ کاروائی کی جائے گی

ایچ ای سی ذرائع کے مطابق اس کاروائی کے دوران منظور شدہ یونیورسٹیوں کے غیر قانونی کیمپسز اور غیر منظور شدہ یونیورسٹیوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔