دنیا کی تمام عورتوں کو جمع کرلو

دنیا کی تمام عورتوں کو جمع کرلو

دنیا کی تمام عورتوں کو جمع کرلو
ان عورتوں کو
جنہوں نے اپنے بیٹے کھوئے ہیں
جنہوں نے اپنے بچے کھوئے ہیں
اور ان کو ایک دائرے میں بیٹھا دو
اور انہیں رونے کی اجازت بھی دے دو
پھر دیکھو
تمھیں کان پڑی آوازبھی سنائی نہیں دے گی
ان کے بین مل کر جو آواز پیدا کریں گے
وہ تم کو بہرا کردیں گے
ان کے آنسو سیلاب بن کر تمہیں بہا لے جائیں گے
روک دو اب یہ سب جو تم کر رہے ہو
روک دو
اب یہ تماشہ جو تم دنیا کے ٹھیٹر پر کھیل رہے ہو
بہت ہو گیا
کیا تم چاہتے ہو کہ سمندر تم پر چڑھ دوڑے
اور بہا لے جائے اس دنیا کو
پھر تم کہاں جاؤ گے
کیا کوئی خدا تم نے اپنے زور سے خرید لیا ہے
اگر ایسا ہے
کہ خدا کو خریدا جا سکتا ہے
پھر تو سب ایسا ہی چلتا رہے گا
یہ عورتیں ایسے ہی بین کرتی رہیں گی
اور کھوتی رہیں گی
اپنے بچے
اور روتی رہیں گے ایک آواز میں
ایک ایسی آواز میں
جو ایک دن آسیب بن جائے گی
اور تمھارا خریدا ہواخدا بھی اس کی دہشت سے کانپ رہا ہو گا
Image: Käthe Kollwitz

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

تمثیل

سُرمئی شام کے بڑھتے ہوئے سنّاٹوں میں
دف کی آواز پہ اک شور بپا ہوتا ہے
پھیلتا جاتا ہے آسیب گُذرگاہوں پر
آگ کا شعلہ سرِ شام رہا ہوتا ہے
مشعلیں لے کے نکل آئے ہیں بستی والے
دیکھیے رات کی آغوش میں کیا ہوتا ہے؟

ظلم کے منہ کو خون لگا ہے

عذرا عباس: ظلم کے منہ کو خون لگا ہے
وہ پاگل کتوں کی طرح اپنی زنجیروں سے باہر ہے
یا باہر کیا گیا ہے

تمنا آنکھ بھرتی ہے

عمران ازفر: وہ قصہ رات کی دیوار پر لکھا ہوا ہے
نہ آنکھوں میں سِمٹتا ہے
نہ سانسوں سے سُلجھتا ہے
کوئی گُل آبی ریشم ہے جو پہلو سے لپٹتا ہے