دوسرا فرقہ

دوسرا فرقہ
کہانی: آر کے نارائن
ترجمہ: مہر افشاں فاروقی

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

پچھلے چند مہینوں میں اخبارات نے ہمیں ایک ایسی ترکیب سکھائی ہے جو بہت کارآمد ہے، یعنی یہ القاب 'ایک فرقہ' یا پھر 'ایک دوسرا فرقہ'۔ اس دستور پر عمل کرتے ہوئے میں اپنی کہانی کے مرکزی کردار کو کوئی نام نہیں دے رہا ہوں۔
میں اس کہانی میں ذات پات یا فرقہ کا ذکر نہیں کروں گا۔ پچھلے چند مہینوں میں اخبارات نے ہمیں ایک ایسی ترکیب سکھائی ہے جو بہت کارآمد ہے، یعنی یہ القاب 'ایک فرقہ' یا پھر 'ایک دوسرا فرقہ'۔ اس دستور پر عمل کرتے ہوئے میں اپنی کہانی کے مرکزی کردار کو کوئی نام نہیں دے رہا ہوں میں چاہتا ہوں کہ اگر آپ چاہیں تو خود پتہ لگائیں کہ وہ کس فرقے یا طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ بالکل اسی طرح جیسے آپ یہ نہیں بتا سکتے کہ کس قسم کی بنیان وہ اپنی قمیص کے نیچے پہنتا تھا اور یہ ہمارے مقصد کے لیے اتنا ہی غیر ضروری ہے۔ وہ ایک بیمہ کمپنی کے دفتر میں کام کرتا تھا۔ وہ ایک میز پر بیٹھے ہوئے روز گیارہ بجے سے پانچ بجے تک کاغذات اور حساب کتاب دیکھتا رہتا تھا اور مہینے کے آخر میں اس کی تنخواہ کا لفافہ جس میں سو روپے ہوتے تھے اسے مل جاتا تھا۔ وہ ادھیڑ ہوچکا تھا مگر جوانی سے ادھیڑ عمر کا یہ سفر اس نے کم و بیش دفتر کی اسی کرسی پر گزارا تھا۔ وہ ایک گلی میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا تھا۔ اس میں دو کمرے اور ایک ڈیوڑھی تھی جو اس کی بیوی اور چاربچوں کے لیے کافی تھا۔ حالانکہ جب اس کے یہاں کوئی مہمان رہنے آتے تو اسے ہلکی سی شرمندگی محسوس ہوتی۔ بازار قریب تھا، بچوں کا اسکول بھی کافی پاس تھا اور اس کی بیوی کی آس پڑوس کے لوگوں سے دوستی بھی تھی، مجموعی حیثیت سے اکتوبر انیس سو سینتالیس تک ان کی زندگی پر سکون اور خوشگوار انداز سے گزرتی رہی۔ اس کے بعد اس نے دیکھا کہ اس کے گرد و پیش کے لوگ اپنے قول و فعل دونوں اعتبار سے وحشیوں کا سا برتاؤ کرنے لگے تھے ۔ ہوتا یہ تھا کہ کوئی فرد یا جماعت ہزاروں میل دور کچھ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ یہاں کے لوگ بھی انتقاماً یہی عمل کرتے۔ بڑے عجیب حالات تھے۔ مگر یونہی تھا، کسی دوردراز جگہ پر کوئی نیک کام سرزد ہوتا تو اس کی صدائے بازگشت یہاں نہ سنائی دیتی۔ لیکن شیطانی حرکت میں یہ طاقت موجود تھی۔ ہمارے دوست نے پڑوسیوں کے مزاجوں کو ہر روز اخبار پڑھ پڑھ کر گرم ہوتے ہوئے دیکھا۔ وہ بے سوچے سمجھے باتیں کرتے۔

"ان میں سے جو یہاں ہیں انہیں ہم کچل ڈالیں گے۔" وہ لوگوں کو کہتے ہوئے سنتا۔

"وہ لوگ عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔"وہ انہیں چلاتے ہوئے سنتا۔

"اچھا ٹھیک ہے۔ ہم بھی انہیں سبق سکھا دیں گے۔ ہم بھی ان کے ساتھ یہاں ایسا ہی کریں گے۔ وہ یہی زبان سمجھتے ہیں۔" لیکن وہ انہیں ٹوکنے کی کوشش کرتا۔

آج تک کبھی اس کے دماغ میں یہ سوال نہیں اٹھا تھا: وہ تو صرف دوست تھے۔ ہنس مکھ، خدمت بجالانے والے اور خوش اخلاق انسان۔ لیکن اب اس نے انہیں از سرنو دیکھا۔ وہ ایک دوسرے فرقے کے تھے۔
"سنو۔۔۔" وہ اپنی دائیں طرف بیٹھنے والے اپنے دفتر کے ساتھی کا، اپنے ڈاکیے کا، پان کی دکان والے آدمی کا، بینک میں ملازم اپنے دوست کا تصور کرتا۔یہ سب دوسرے فرقے کے تھے۔ آج تک کبھی اس کے دماغ میں یہ سوال نہیں اٹھا تھا: وہ تو صرف دوست تھے۔ ہنس مکھ، خدمت بجالانے والے اور خوش اخلاق انسان۔ لیکن اب اس نے انہیں از سرنو دیکھا۔ وہ ایک دوسرے فرقے کے تھے۔ اب جب وہ اپنے فرقے والوں کو نفرت سے دھمکاتے ہوئے، بات کرتے سنتا تو وہ تصور کرتا کہ اس کے ڈاکخانے والے دوست کی تکا بوٹی سڑک پر کی جارہی ہے یا اپنے دفتر کے ساتھی کی اس چھوٹی سی بیٹی کا تصور کرتا، وہ جب بھی ان کے یہاں جاتا تو وہ پیارے ڈھنگ سے اس کے لیے لیمن اسکواش لاتی اور جو تھوڑے بہت ناچ گانے اسے آتے تھے، ان سے اس کا دل خوش کرتی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے یہ تصور گھوم جاتا: وہ بچی پنسل اور ربر ایک ڈبے میں لیے اسکول جارہی ہے اور دوسری برادری کے غنڈے اس کے پیچھے دوڑے آرہے ہیں۔ یہ تصور اس کے لیے ناقابل برداشت ہوتا اور وہ بار بار زیر لب کہتا "خدانخواستہ، خدانخواستہ"۔ وہ اپنی برادری کے لوگوں سے یہ کہہ کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کرتا کہ "دیکھو! یہاں پر یہ سب واردات نہیں ہوگی"۔

لیکن وہ جانتا تھا کہ یہ محض اس کی خوش فہمی ہے۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی برادری کے لوگ چھریاں اور لاٹھیاں اکھٹی کر رہے ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ کس حد تک وہ اپنے آپ کو منظم کررہے ہیں، پورے قاعدے قانون کے ساتھ۔ اور یہ سب کچھ اس کے حساس مزاج کو بہت تکلیف دہ لگتا تھا ۔ آگ تلوار اور لوٹا ہوا مال اور وہ سارے بدمعاش جو اس کے چچا کے گھر پر ہدایت اور پیسہ لینے کے لیے اکھٹا ہوتے۔ اس کے چچا اکثر کہتے "ابھی ہم خود کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے لیکن اگر ان لوگوں نے چوں بھی کی تو ہم ان کا صفایا کردیں گے۔ ہم ان سے اسی زبان میں بات کریں گے جو وہ سمجھتے ہیں"۔

دن بہ دن زندگی نا قابل برداشت ہوتی جارہی تھی جیسے اچانک ساری صاف دلی ہی ختم ہوگئی ہو۔ اسے لوگ مکار اور پر اسرار لگنے لگے تھے۔ اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے ہر شخص خونی ہو۔ لوگ ایک دوسرے کو ایسے دیکھتے جیسے آدم خور اپنے شکار کو دیکھے۔ اسے یہ بات باعث شرم لگی کہ سڑک چلتے اسے بار بار پیچھے پلٹ کر محتاط اور چوکنی نظروں سے دیکھنا پڑتا۔ پورا ماحول خوف اور شبہ سے بوجھل ہوگیا تھا۔ وہ لوگوں سے ملنے سے کتراتا کیونکہ اسے یہ ڈر تھا کہ وہ افواہیں اور فرضی خبریں نہ پھیلائیں۔ کوئی نہ کوئی مستقل خبریں لاتا۔ "تمہیں معلوم ہے کیا ہوا؟ پچھلی شام سائیکل پر سوار کسی شحض کو فلاں جگہ مار دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ پولیس معاملے کو دبارہی ہے"۔ یا پھر وہ کسی کو کہتے ہوئے سنتا "آج ایک عورت پر حملہ ہوا"۔ یا "تمہیں معلوم ہے وہ لوگ لڑکیوں کے اسکول میں گھس گئے اور وہاں سے چار لڑکیاں غائب ہیں"۔ پولیس تو بے کار ہے، ہمیں خود ان معاملات سے نپٹنا ہے۔ اس قسم کی ہر بات سے اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا اور اس کے گلے میں کوئی بھاری چیز پھنسی ہوئی معلوم ہوتی۔ اسے اپنا کھانا کڑوا لگنے لگا تھا۔ وہ جب جب اپنی بیوی اور بچوں کو دیکھتا تو اسے یہ احساس دہلادیتا۔ بے چارے معصوم لوگو! خدا جانے کس شیطان کے ہاتھوں تم پر کیا گزرے گی۔

اسے لوگ مکار اور پر اسرار لگنے لگے تھے۔ اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے ہر شخص خونی ہو۔ لوگ ایک دوسرے کو ایسے دیکھتے جیسے آدم خور اپنے شکار کو دیکھے۔ اسے یہ بات باعث شرم لگی کہ سڑک چلتے اسے بار بار پیچھے پلٹ کر محتاط اور چوکنی نظروں سے دیکھنا پڑتا۔
رات کو وہ بہت کم سوپاتا۔ وہ لیٹا لیٹا اپنے کان لگائے رہتا کسی خلاف معمول آہٹ کے لیے جو رات کی خاموشی کو اچانک توڑ دے۔ کہیں وہ لوگ چپکے سے آئیں اور اس کا دروازہ توڑ ڈالیں؟ یہاں تک کہ وہ اپنے کانوں میں اپنی بیوی اور ننھی بچی کی خوف زدہ چیخیں گونجتے ہوئے سننے لگتا۔ اور پوری رات وہ سوچتا رہتا، اکھڑی اکھڑی نیند سوتا۔ فسادی ہجوم کے شور کے انتظار میں دور کسی کتے کے رونے کی آواز اسے فسادیوں کی آواز سے اس قدر ملتی جلتی لگتی کہ وہ کئی بار اٹھ جاتا اور کھڑکی سے جاکر دیکھتا کہ کہیں آسمان میں آگ کی لپٹیں اٹھتی دکھائی تو نہیں دے رہی ہیں! اس کی بیوی جاگ جاتی اور نیند بھری آواز میں پوچھتی۔ "کیا بات ہے؟" اور وہ لاپرواہی کے انداز میں جواب دیتا۔ "کچھ نہیں، تم سوجاؤ۔" اورپھر اپنے بستر پر لیٹ جاتا۔ اسے اطمینان ہوگیا کہ کچھ نہیں ہورہا ہے۔ دل ہی دل میں اس نے ارادہ کیا کہ وہ ایندھن والی کوٹھری سے کلہاڑی اٹھا لائے گا اور قریب ہی کہیں رکھ لے گا۔ ہوسکتا ہے کہ اسے اپنے گھروالوں کی حفاظت کرنی پڑے۔ کبھی کسی لاری یا گاڑی کے گزرنے کی آواز اس کی کچی نیند توڑ دیتی اور ننگے پاؤں کھڑکی پر اندھیرے میں کھڑا ہوجاتا یہ دیکھنے کے لیے کہ شاید وہ پولیس کی لاری ہو، جو کسی ایسی جگہ جارہی ہو جہاں فساد ہوگیا ہے۔ وہ قریب قریب ہر رات اسی بے چین گھبراہٹ کی کیفیت میں گزارتا اور صبح ہونے پر چین کی سانس لیتا۔

ہر طرف یہ چرچا تھا کہ آنے والے بدھ کا دن، یعنی مہینے کی 29 تاریخ بہت نازک دن ہے۔ اس دن جم کر مقابلہ ہوتا تھا۔ یہ نہیں سمجھ میں آتا تھا کہ اس تاریخ کو کیا خاص بات تھی۔ لیکن سبھی لوگ ذکر کر رہے تھے، اس کے دفتر میں تو 29 تاریخ کے علاوہ کسی اور موضوع پر بات ہی نہیں ہورہی تھی۔ اس کے چچاکے گھر کی سرگرمیاں اپنے پورے عروج پر تھیں۔ اس کے چچا نے اس سے کہا "مجھے تو خوشی ہے کہ ہمیں اس مصیبت سے 29کو چھٹکارا مل جائے گا۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم لوگ اس تناؤ کو ختم کردیں گے۔ ہم اس شہر کی صفائی کردیں گے۔ آخر اس شہر میں ان لوگوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ ہی تو ہے جبکہ ہماری۔۔۔"وہ سرچکرانے والے اعداد و شمار بتانے لگے۔

مقررہ ساعت قریب آرہی تھی۔ اس قیاس کی پیدا کردہ عام پریشانی میں گھرا ہوا وہ اکثر سوچتا کہ وہ لوگ فساد کی چنگاری کو کس بہانے سے ہوا دیں گے؟ کیا ایک فرقہ کا آدمی کسی دوسرے فرقہ والے کو کسی طے شدہ موقع پر چانٹا ماردے گا؟ اس نے پوچھا۔"مان لو کچھ نہ ہوا؟" اور اس کے چچا نے کہا: "کچھ نہ کیسے ہوگا؟"ہمیں سب خبر ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ ہر رات ان کی خفیہ مجلیس ہوتی ہیں۔ آخر آدھی رات کو کیوں مجمع کرتے ہیں؟"

وہ لیٹا لیٹا اپنے کان لگائے رہتا کسی خلاف معمول آہٹ کے لیے جو رات کی خاموشی کو اچانک توڑ دے۔ کہیں وہ لوگ چپکے سے آئیں اور اس کا دروازہ توڑ ڈالیں؟ یہاں تک کہ وہ اپنے کانوں میں اپنی بیوی اور ننھی بچی کی خوف زدہ چیخیں گونجتے ہوئے سننے لگتا۔
اس نے جواب دیا: "ہوسکتا ہے کہ صرف اسی وقت وہ سب کو اکٹھا کرپاتے ہوں"۔

ہم نہیں چاہتے کہ لوگ ایسے وقت اکٹھا ہوں ہم نہیں چاہتے کہ کوئی فساد ہو۔ لیکن اگر کچھ ہوا تو ہم انہیں ختم کردیں گے۔ صرف چند گھنٹوں کی بات ہوگی۔ بالکل جیسے بٹن دبایا اور کام ہوگیا۔ لیکن جہاں تک ہوسکے گا ہم پہل نہیں کریں گے"۔

29تاریخ کو احتیاط کے طور پر زیادہ تر دکانیں بند تھیں۔ بچے اسکول نہ گئے اور خوش ہوکر کہتے: "ابا آج اسکول نہیں جانا ہے۔ جانتے ہیں کیوں؟ شاید آج کوئی جھگڑا ہونے والا ہے"۔ جس بے نیازی اور اطمینان سے اس کے بچے جھگڑے کا ذکر کرتے اس سے ہمارے دوست کو ان پر رشک ہوتا۔ اس کی بیوی کو اس کا آج دفتر جانا اچھا نہیں لگا۔ پڑوسیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ بولی۔ "ایسا لگتا ہے کہ وہ لوگ آج نہیں جائیں گے، تم کیوں جارہے ہو؟" اس نے اس سوال کو ہنس کر ٹالنے کی کوشش کی اور چلتے وقت مذاقیہ انداز میں کہا۔ "اچھا تم لوگ اندر رہنا، اگر چاہو تو یعنی اگر۔۔۔تمہیں ڈر لگے تو۔" اس کی بیوی نے جواب دیا: "ڈر کس بات کا، جب تک تمہارے چچا پاس میں ہیں، ہمیں کوئی ڈر نہیں۔"

دفتر میں اس کے باس تو موجود تھے لیکن اس کے زیادہ تر ساتھی نہیں آئے تھے! سب نے عارضی چھٹی کی درخواست دے دی تھی۔ جیسے اس کے ساتھیوں میں کسی 'اہم نجی کام' کی وبا پھیل گئی ہو۔ جو تھوڑے بہت آئے تھے انہوں نے اپنا سارا وقت آج کے دن کے بھیانک امکانات پر بحث کرنے میں برباد کیا۔ ہمارے دوست کا دماغ افواہوں اور خوف کا امڈتا ہوا ڈھیر بن گیا تھا۔ اسے ان کی باتوں سے نفرت ہونے لگی۔ اس نے اپنے آپ کو کام میں اس طرح الجھا لیا اور اتنی تیزی اور شدت سے کام شروع کیا کہ اس کے سامنے یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ اتنا کام آئے گا کہاں سے، بات اس انتہا تک پہنچی کہ اپنے کو مصروف رکھنے کے لیے اس نے چار سال پرانی فائلیں اور حساب کھوج کر نکالے اور ان کی بہت باریک چھان بین کرنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ سارے کاغذات کی پوری جانچ کرکے اپنی کرسی سے اٹھا تو ساڑھے سات بج چکے تھے۔

اب اچانک اسے گھر پہنچنے کی بے تحاشہ گھبراہٹ شروع ہوئی۔ "میری بیوی پریشان ہورہی ہوگی۔ خدا جانے میرے بچے کیا سوچ رہے ہوں گے!" دفتر کی میز پراعداد و شمار نے اس کی قوت احساس کو مردہ کررکھا تھا۔ جب تک وہ کام میں لگا تھا تب تک اس کی طبیعت ٹھیک تھی۔ لیکن اب اسے اچانک جلد سے جلد گھر پہنچنے کی خواہش ہورہی تھی۔ جس راستے سے وہ روز گھر جاتا تھا وہ اسے بہت دشوار اور ناممکن لگنے لگا۔ اس کے پریشان ذہن کو لگا کہ اس راستے سے گھر پہنچنے میں اسے گھنٹوں لگ جائیں گے۔ اس نے سوچا کہ سب سے اچھی صورت یہ ہوگی کہ وہ اپنے دفتر کے سامنے والی گلی سے جلدی سے نکل کر چھوٹے راستے سے گھر چلا جائے اس راستے کو وہ اسی وقت اختیار کرتا تھا جب اسے جلدی ہوتی۔ ورنہ عام حالات میں تو وہ اس کی ننگی، کھلی نالیوں اور آوارہ کتوں کی وجہ سے ادھر سے جانے سے کتراتا تھا۔ اس نے اپنی گھڑی پر اچٹتی سی نظر ڈالی اور تیز قدموں سے اندھیری گلی میں چل پڑا۔ وہ چند گز ہی بڑھا ہوگا کہ سامنے آتے سائیکل سوار کی وجہ سے رکنا پڑا۔ پیدل چلنے والا اور سائیکل سوار ایک دوسرے کی حرکات کا اندازہ ہی نہیں لگاپارہے تھے، اور دونوں ایک ساتھ کبھی داہنی طرف جاتے کبھی بائیں اور لگتا تھا کہ عجیب بے تکی طرح سے ایک دوسرے سے ٹکرارہے ہیں۔ آخر سائیکل سوار کا پہیہ ہمارے دوست کی ٹانگوں کے بیچ میں اڑ گیا اور وہ سیٹ پر سے گر پڑا اور دونوں سڑک پر کی دھول میں ڈھیر ہوگئے۔ ہمارے دوست کے اعصاب جواب دے گئے اور وہ غصے میں چلایا۔ "تم سنبھل کر کیوں نہیں چلتے؟" سائیکل والا جلدی سے اٹھ کھڑے ہوکر چلایا "کیا تم اندھے ہو؟سائیکل کو آتا دیکھ نہیں سکتے؟"

اس گلی کے واقعہ کی خبر چند گھنٹوں میں تمام شہر میں پھیل گئی۔ اور اس کے چچا اور دوسرے چچاؤں نے بٹن دبایا اور اس کا جو انجام ہوا اس کا ذکر لاحاصل ہے۔ اسے بولنے کا ایک بھی موقع ملا ہوتا تو ہمارا دوست ضرور جھوٹ بول کرشہر کو بچالیتا۔ لیکن یہ جان بچانے والا جھوٹ بولا نہ گیا۔
"تمہاری سائیل میں بتی کہاں ہے؟"

سائیل سوار بولا: "تم مجھ سے سوال و جواب کرنے والے ہوتے کون ہو؟" اور اس نے اچانک ہاتھ بڑھا کر ہمارے دوست کے منہ پر زناٹے کا تھپڑ مارا۔ ہمارے دوست کا بھی دماغ پلٹ گیا اور اس نے سائیکل سوار کے پیٹ میں ایک لات ماردی۔ بھیڑ جمع ہوگئی۔کوئی چلایا: "یہ ہمارے ہی محلہ میں ہم پر حملہ کرنے کا جگرا رکھتا ہے! ان لوگوں کو ایک سبق سکھانا چاہیے۔ ہم ڈرنے والے تھوڑی ہی ہیں۔ چیخ پکار بڑھ گئی۔ کان پھٹے جارہے تھے۔کسی نے ہمارے دوست کو لاٹھی سے مارا اور کسی نے مکے سے۔ اس نے ایک چاقو چمکتا ہوا دیکھا۔ ہمارے دوست کو لگا کہ اس کا وقت پورا ہوچکا ہے۔ اور اچانک اسے ایسا لگا کہ اب اسے پروا ہی نہںے ہے کہ کیا ہورہا ہے۔ وہ اس لمحے کو لاتعلقی سے دیکھنے کا اہل ہوگیا۔ اس نے چاہا کہ اس جم غفیر کو اس بات پر لیکچر دے کہ ان کے اور اس کے آپسی تعلقات کا یہ منظر کتنا احمقانہ تھا۔ اس نے چاہا کہ ان سے کہے۔ "بند کرو یہ جھگڑا۔" لیکن اس کے منہ سے کوئی آواز نہیں نکلی۔ اسے چاروں طرف سے لوگ دبوچ رہے تھے، دباؤ برداشت سے باہر ہوگیا تھا۔ ایسا لگنے لگا کہ بھیڑ میں شامل ہر شخص اپنا پورا پورا بوجھ اس پر لادے ہوئے ہے اور اس کے جسم کے کسی نہ کسی حصے کو نوچے کھسوٹے جارہا ہے۔ اس کی آنکھیں دھندلا گئیں اور بدن ہلکا ہوگیا۔ وہ اپنے پاس کے کسی شخص سے بڑبڑایا: "لیکن میں اپنے چچا کو کبھی نہیں بتاؤں گا کہ کیا ہوگیا ہے۔ میں یہ فساد شروع کرنے کا ذمہ دار نہیں بنوں گا۔ اس شہر کو بچانا ہوگا۔ میں وہ الفاظ نہیں بولوں گا جس سے شارا فساد شروع ہوگا، جو اس بٹن کو دبادے گا۔ جو سب کو ختم کرڈالے گا، تمہیں، ہمیں ایک ساتھ۔ آخر یہ سب کس لیے؟ ہمارا فرقہ، ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ ہم سب اسی ملک کے ہیں۔ میں، میری بیوی اور بچے، تم ، تمہاری بیوی اور بچے۔ ہمیں ایک دوسرے کا گلا نہیں کاٹنا چاہیے۔ یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ کون کس کا گلا کاٹتا ہے میرے لیے تو سب برابر ہے۔ لیکن ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ ہرگز ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ قطعی نہیں، میں اپنے چچا سے کہہ دوں گا کہ میں دفتر کی سیڑھی سے گرپڑا اور مجھے چوٹ لگ گئی، انہیں کبھی نہیں معلوم ہوپائے گا۔ انہیں کسی حالت میں بٹن نہیں دبانا ہے۔

لیکن بٹن تو دب گیا۔ اس گلی کے واقعہ کی خبر چند گھنٹوں میں تمام شہر میں پھیل گئی۔ اور اس کے چچا اور دوسرے چچاؤں نے بٹن دبایا اور اس کا جو انجام ہوا اس کا ذکر لاحاصل ہے۔ اسے بولنے کا ایک بھی موقع ملا ہوتا تو ہمارا دوست ضرور جھوٹ بول کرشہر کو بچالیتا۔ لیکن یہ جان بچانے والا جھوٹ بولا نہ گیا۔ دوسرے دن دوپہر ڈھلتے ڈھلتے پولیس کو اس کی لاش اس بدحال گلی کے ایک گڑھے میں پڑی ملی۔ اس کی شناخت مٹی کے تیل کے کوپن سے ہوئی جو اس کی جیب میں پایا گیا۔

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔

Related Articles

صد شکر کہ تم قدرت کے آقا نہیں

شکر ہے اور صدہزار شکر ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کی قدرت پر حکومت نہیں ہے۔

دس برسوں کی دلی۔ قسط نمبر 6

اصولوں کی اس منڈی میں جس بری طرح اس کی خواہش کو رگیدا اور بے عزت کیا گیا ہے، وہاں اگر اس نے چاند چھونے کا کوئی چور راستہ دریافت کربھی لیا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔

رُکی ہوئی زندگی

محمد حمید شاہد: اِس عادت نے شائستہ کے بَدن میں کسمساہٹ – بے قراری اور اِضطراب کی موجیں رَکھ دِی تھیں۔ وہ سارے گھر میں اِدھر اُدھر بکھرے تعطل کو باہر دھکیلتی رہتی