دُھنیا

دُھنیا
میری ماں تو بس ایک دُھنیا تھی جو
تربیت کے بہانے
مجھے رات دن یوں دُھنے جا رہی تھی
کہ رشتوں کے چرخے پہ چڑھنے سے پہلے
میری ذات میں ،میں کی کوئی گرہ بھی کہیں رہ نہ جائے
مجھے اس نے اپنے کمال ہنر سے
کُچھ ایسے بُنا تھا
کہ میں باپ ،بھائی، مجازی خدا اور بیٹے کی اکھڑ انا کے لئے
کبھی تن کے چادر کبھی شامیانہ
کبھی ان کی غیرت کا پردہ بنی تھی
مگر ٹھان رکھا تھا یہ اپنے جی میں
کہ میں اپنی بیٹی کی رکھشا کروں گی
خدا نے ودیعت کئے فن اسے جو
میں ان کا محبت سے پالن کروں گی
مگر رات دن آج بیٹی کو اپنی
رواجوں کی سنگین سولی پہ کس کے
بنام شریعت
دُھنے جا رہی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

بیماری کا شجرہ

شارق کیفی: وہ پاگل ڈاکٹر شاید بہت فرصت سے ہو گا
جو ہنس کر پوچھتا تھا مجھ سے بیماری کا شجرہ
مرے دادا کا پردادا کا اور اس سے بھی پیچھے کا

فکشن رائٹر کا کمٹ منٹ زبان، اسلوب اور کہانی سے ہوتا ہے- اسد محمد خان

دراصل میں آزاد رہنا چاہتا تھا۔ کراچی آنے کے بعد مجھے وہ آزادی میسر آئی تو میں نے نظمیں کہنی شروع کیں۔ اور اس کے بعد کہانیاں لکھنی شروع کیں۔

دو بدن (مصطفیٰ ارباب)

مجھ میں ادھوری لذت سو رہی ہے میں اِس کی نیند کو طُول دینا چاہتا ہوں لیکن ایسا مُمکن نہیں