دُھنیا

دُھنیا
میری ماں تو بس ایک دُھنیا تھی جو
تربیت کے بہانے
مجھے رات دن یوں دُھنے جا رہی تھی
کہ رشتوں کے چرخے پہ چڑھنے سے پہلے
میری ذات میں ،میں کی کوئی گرہ بھی کہیں رہ نہ جائے
مجھے اس نے اپنے کمال ہنر سے
کُچھ ایسے بُنا تھا
کہ میں باپ ،بھائی، مجازی خدا اور بیٹے کی اکھڑ انا کے لئے
کبھی تن کے چادر کبھی شامیانہ
کبھی ان کی غیرت کا پردہ بنی تھی
مگر ٹھان رکھا تھا یہ اپنے جی میں
کہ میں اپنی بیٹی کی رکھشا کروں گی
خدا نے ودیعت کئے فن اسے جو
میں ان کا محبت سے پالن کروں گی
مگر رات دن آج بیٹی کو اپنی
رواجوں کی سنگین سولی پہ کس کے
بنام شریعت
دُھنے جا رہی ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

اسے ہماری شرافت نے جو پالا ہے (ایچ-بی-بلوچ)

اس دنیا میں شاید امن کا کوئی خط نہیں کیونکہ یہ دنیا چاند یا مریخ جیسا کوئی بانجھ گرہ یا

کایا کا کرب

آفتاب اقبال شمیم: اس نے چاہا
بند کمرے کی سلاخیں توڑ کر باہر نکل جائے
مگر شاخوں سے مرجھائے ہوئے پتوں کی صورت
ہاتھ اس کے بازوؤں سے
گر چکے تھے

لارنس آف عریبیہ

لارنس کی شخصیت مسلم ممالک میں جاسوسی اور عربوں میں قومیت کا شعور بیدار کرنے اور انہیں ترکوں سے لڑانے کی وجہ سے مسلمانوں کے ہاں متنازعہ رہی ہے، لیکن تاریخ پر اس کے اثرات سے انکار ممکن نہیں