دہشتگردی اور ہماری کہانیاں

کراچی ادبی میلے 2014میں جہاں شاعروں اور ادیبوں نے اَدبی روایات، شاعری اور قصہ کہانیوں پر گفتگو کی وہیں پر بہت سے سماجی مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ میلے میں شریک دانشوروں، ادیبوں اور مشاہیر نے موجودہ سماجی مسائل کا تجزیہ ماضی کی ادبی اور فنی روایات کے تناظر میں کیا۔ لالٹین قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے کراچی ادبی میلے کے دوسرے روز شدت پسندی اور دہشت گردی کےادب پر اثرات بارے جناب آصف فرخی، انتظار حسین اور محترمہ عارفہ سیدہ زہرہ کے مابین جناب آصف فرخی کی بیان کردہ گوتم کہانی "انگلی مالا" کے تناظر میں ہونے والی مکمل گفتگو۔ میزبانی کے فرائض جناب مسعود اشعر نے نبھا ئے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
The Laaltain

The Laaltain

For Open and Progressive Pakistan


Related Articles

میں بھی سوچوں، تُو بھی سوچ۔۔۔۔

مٹی کی خوشبو خون میں رچی ہوتی ہے، پھر چاہے آپ اِدھر کے ہو جائیں یا اُدھر کے، آنکھوں میں ایک خاص چمک، لہجے کی مٹھاس اور طبیعت کا اوتار آپ کو اپنی مٹی سے پیوستہ رکھتا ہے، دھرتی ماں کی محبت نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔

نعرہِ مستانہ

وسط افریقہ کے دور دراز علاقے میں کوئی قبیلہ رہتا تھا۔ صحرائی علاقہ تھااور گزر بسر کے لیے پانی صرف چند جوہڑوں یا تالابوں کی شکل میں موجود تھا۔

مذہبی ٹھیکیدار اور اقلیتیں

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں تین احمدیوں کے قتل کے بعد اس حقیقت میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا ہر دوسرا شہری مذہب کا ٹھیکیدار اور مقدس شخصیات کے تقدس کا محافظ ہے۔