دہشتگردی اور ہماری کہانیاں

کراچی ادبی میلے 2014میں جہاں شاعروں اور ادیبوں نے اَدبی روایات، شاعری اور قصہ کہانیوں پر گفتگو کی وہیں پر بہت سے سماجی مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ میلے میں شریک دانشوروں، ادیبوں اور مشاہیر نے موجودہ سماجی مسائل کا تجزیہ ماضی کی ادبی اور فنی روایات کے تناظر میں کیا۔ لالٹین قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے کراچی ادبی میلے کے دوسرے روز شدت پسندی اور دہشت گردی کےادب پر اثرات بارے جناب آصف فرخی، انتظار حسین اور محترمہ عارفہ سیدہ زہرہ کے مابین جناب آصف فرخی کی بیان کردہ گوتم کہانی "انگلی مالا" کے تناظر میں ہونے والی مکمل گفتگو۔ میزبانی کے فرائض جناب مسعود اشعر نے نبھا ئے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
The Laaltain

The Laaltain

For Open and Progressive Pakistan


Related Articles

نرسنگ؛ ایک باوقار پیشہ

نرسنگ دنیا بھر میں انتہائی باوقار پیشہ سمجھا جاتا ہے مگر چونکہ ہمارے ملک میں ہر چیز منفی انداز میں لیا جاتا ہے، لہٰذا نرسنگ کے شعبے کو برا سمجھا جاتا ہے۔

عورتیں جنسی جرائم رپورٹ کیوں نہیں کرتیں؟

ملیحہ سرور: بہت سی خواتین راستے میں، بازار میں، دفتر میں، کالج اور یونیورسٹی میں ہونے والی جنسی ہراسانی کو اس لیے بھی برداشت کرنے پر مجبور ہیں کہ اگر وہ ایسے واقعات رپورٹ کریں گی تو انہیں پہلے سے بھی زیادہ شدید نگرانی اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تشدد، ناانصافی اور عدم مساوات کا کوئی جواز درست نہیں۔اداریہ

اگر چہ پاکستان کا سیاسی نظام اور معاشرتی ڈھانچہ خواتین کو تعلیم اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنے میں بڑی حد تک ناکام ہے لیکن اس کے باوجود خواتین نہ صرف معیشت، سیاست اور تعلیم جیسے میدانوں میں موجود ہیں بلکہ ہر جگہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر رہی ہیں۔