دہشتگردی اور ہماری کہانیاں

کراچی ادبی میلے 2014میں جہاں شاعروں اور ادیبوں نے اَدبی روایات، شاعری اور قصہ کہانیوں پر گفتگو کی وہیں پر بہت سے سماجی مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ میلے میں شریک دانشوروں، ادیبوں اور مشاہیر نے موجودہ سماجی مسائل کا تجزیہ ماضی کی ادبی اور فنی روایات کے تناظر میں کیا۔ لالٹین قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے کراچی ادبی میلے کے دوسرے روز شدت پسندی اور دہشت گردی کےادب پر اثرات بارے جناب آصف فرخی، انتظار حسین اور محترمہ عارفہ سیدہ زہرہ کے مابین جناب آصف فرخی کی بیان کردہ گوتم کہانی "انگلی مالا" کے تناظر میں ہونے والی مکمل گفتگو۔ میزبانی کے فرائض جناب مسعود اشعر نے نبھا ئے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
The Laaltain

The Laaltain

For Open and Progressive Pakistan


Related Articles

انتشار کی ابتدائی علامات

15 مارچ کو مسیحی عبادت گاہوں کو ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور لاہور میں مسیحی آبادی یوحنا آباد کے دو چرچوں پر یکے بعد دیگرے خود کش حملے ہوئے۔

وہ جن کا نام کسی فہرست میں نہیں

کہنے کو تو یکم مئی مزدوروں کا دن ہے اور دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یہ پورے اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔

پوری قوم چُھٹی پر ہے

سکول میں پڑھائی جانےوالی کتب میں سے ایک مطالعہ پاکستان ہے جس میں پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل محمدعلی جناح کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی قوم کو کام کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔