دیوان المعری-قسط نمبر1

دیوان المعری-قسط نمبر1
ابولعلاء المعری ایک نابینا عرب فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ عقلیت پسند تھے اور عقل کو سچائی کے حصول کا ذریعہ خیال کرتے تھے۔ المعری قنوطیت پسند تھے، اور مذہب پر تنقید کے باعث متنازع رہے ہیں۔


دیوان المعری-قسط نمبر1
مترجم: بارسنو زاروستری

وقت کے تابوت میں
چھپی ساعتیں
دستِ کشفِ حجابات کی منتظرہیں
لیکن وہ لامتناہی تخلیق کار
جس سے منظوم ہیں لمحے
قافیہ پیمائی میں
باسی اشعارکی لڑیاں
بھلا کیوں پروے گا
آوازیں سب
خامشی میں جا دھنستی ہیں
تیز رو، نہ سست ہیں گھڑیاں
لیل و نہار گزرتے ہیں
اورغافل ہیں
آنے والی نوبت سے
ہر لمحہ
ہم پہ
وقت کی صعوبتیں
ایسے آن پڑتی ہیں
جیسے خدا کے اذن سے
ہمارا پلٹ جانا
محال ہو رہے
وہ عاريتن ہمیں دیتا ہے
ساعت، ساعت، لحظہ بہ لحظہ
پھر واپس مانگ لیتا ہے
اورہم قرض میں ڈوبے
احمق, ہنستے کھیلتے
جیتے جاتے ہیں

 


تم اس آسماں کے نیچے
ایستادہ ہو اب بھی
جس کے چرخ
لاچاری میں گھومتے ہیں
اور انتخاب کرتے ہو
آزاد فیصلوں کا
جبکہ تقدیریں قضا کی
تمہیں دیکھ کے
ہنس دیتی ہیں

 


جب تم گزرتے ہو
کسی بھی نابینا کے پاس سے
رحم کھاؤ اس پے
کہ تم بھی سب اندھے ہو
چاہے بینائی رکھتے ہو
میں وقت موجود میں رہتا ہوں
ابن الوقت ہوں
ماضی کو بھلا دیتا ہوں
اور آنے والے وقت کی
کوئی چاہت نہیں مجھے
اورکچھ لوگ سمجھتے ہیں
کسی شے کی کوئی حقیقت نہیں
کہ حقیقت شے کچھ بھی نہیں
کیا وہ ثبوت پا چکے ہیں
کہ خوشی اور غم بھی نہیں
خدا گواہ ہے
ہم ان سے کار بحث میں
جھگڑیں گے
اور وہی جانتا ہے
ہم میں سے کس کا جھوٹ بڑا ہے


Related Articles

شانتا راما - باب 2: جوا (ترجمہ: فروا شفقت)

کولھاپور کے مہالکشمی مندر کے احاطے میں میرا جیون بڑھتا پھولتا جا رہا تھا۔ مندر میں ایک بڑی سی گھنٹی

اصل و نسب

وقتِ ازل میں ایک چینخ تھی
جس نے پیدا کیا خون
جس نے بنائی آنکھ
جس نے پیدا کیا خوف

بلیک ہول میں گرتا شخص

امنڈا جیفٹر: اگر حقیقت کی ماہیت کہیں پوشیدہ ہے تو ڈھونڈنے کے لیے بہترین جگہ ثقب اسود ہیں۔ بہتر یہی ہو گا کہ باہر سے ہی دیکھیں۔ کم از کم اس وقت تک جب تک وہ یہ پتا نہ لگا لیں کہ یہ آتشیں دیوار کیا چیز ہے