ذہن جدید والے زبیر رضوی

ذہن جدید والے زبیر رضوی

میں نے اپنے آپ کو اس وقت بہت بے بس محسوس کیا،جب میں زبیر صاحب کے سامنے بیٹھا ان کی عجیب و غریب باتیں سن رہا تھا۔ یہ عجیب و غریب منفی معنی میں نہیں، بلکہ سراسر مثبت ہے۔ وہ ایک شام کا واقعہ تھا کہ میں اتفاق سے اکیلا ہی ان کے پاس کسی کتاب کے سلسلے میں پہنچ گیا تھا، انہوں نے ہمیشہ کی طرح بڑی محبت اور خلوص سے مجھے خوش آمدید کیا اور اپنے باہری کمرے میں جہاں نہ جانے کتنے مختلف النوع موضوعات پر کتابیں کچھ مرتب اور کچھ غیر مرتب انداز میں رکھی ہوئی تھیں بٹھایا۔ میں نے یہ بات اکثر محسوس کی تھی کہ زبیر صاحب اپنے مہمانوں کو خود پانی اور چائے سرو کرتے ہیں، اس لیے میں جب کبھی ان کے یہاں جاتا تھاتوان کے اس عمل سے ذرا سی بے چینی محسوس کرتا تھا کہ وہ ہاتھ میں پانی سے سجی ٹرے لیے چلے آرہے ہیں، اس لمحے میں میں بے چین ہو کر اٹھ کھڑا ہوتا اور وہ اپنے مخصوص انداز میں مسکرا کر مجھے بیٹھنے کو کہتے۔ زبیر رضوی میرے نزدیک ایک معمہ رہے۔ میں ان کو اکثر دیکھتا تھا کہ وہ کس طرح ذہن جدید کے لیے تگ و دو کرتے ہیں، کتنی مشقتوں سے پرچہ تیار کرتے ہیں اور کتنے جتن سے اسے چھپوا کر اپنے قارئین تک پہنچواتے ہیں۔ ایک سچا تخلیق کار جس نے دنیا جہان کی اچھی اور اچھی سے اچھی نظمیں کہیں ہوں، جس کا مطالعہ مختلف میدانوں میں اتنا وسیع رہا ہو، جس نے گردش پا جیسی معرکہ آرا کتاب تخلیق کی ہو، وہ ایک پرچے کے لیے اتنی بھاگم دوڑ کیسے کر سکتا ہے۔ کیا اردو میں پرچہ نکالنے والا ہر مدیر اتنی ہی پریشانیا ں جھیلتا ہے، کیا وہ اتنے ہی مصائب کا سامنا کرتا ہے اور اگر کرتا بھی ہے تو کیا ان میں سے کوئی زبیر رضوی بھی ہے۔

اپنےوالد یا غالبا چھوٹے چچا سے میں نے زبیر صاحب کی جوانی کے دو ایک واقعات سنے تھے، ان کی شراب نوشی کے۔اس وقت تک میں نے زبیر صاحب کو ٹھیک سے دیکھا تک نہیں تھا۔ لہذا میرے ذہن میں ان کے تعلق سے ایک بے وقعت انسان کی شبیہ پائی جاتی تھی، میں چونکہ بچپن سے چند ایک اردو ادیبوں کے عجیب وغریب واقعات سنتا آیا ہوں اور وہ بھی منفی عجیب و غریب اس لیے انہیں اصل میں جاننے سے پہلے تک بے وقعت محض ہی تصور کرتا رہا، مثلا ً ندا فاضلی، قمر رئیس، خلیق انجم، رشید حسن خاں،فکر تونسوی، رفعت سروش اور اسی قسم کے دو چار اور ادیب۔ انہیں میں ایک نام زبیر صاحب کا بھی ہے، چونکہ ان تمام لوگوں سے میرے والد اور دونوں چچاوں کے پرانے اور دوستانہ تعلقات تھے اس لیے جس بے تکلفی سے ان حضرات کا ہمارے گھر میں ذکر ہوتا تھا اس کے باعث میں انہیں بالکل ناکارہ سمجھنے لگاتھا۔

پہلی مرتبہ میں نے زبیر صاحب کو ٹھیک سے اور غور سے 2012 میں دیکھا جب ہم ان کے پڑوس میں آباد ہوئے۔ایک روز جب میں اپنی نوکری کی تلاش میں گھر سے نکل رہا تھا تو زبیر صاحب ہمارے گھر میں داخل ہو رہے تھے، انہیں دیکھ کر میں کچھ دیر کے لیے رک گیا۔ وہ اس وقت والد صاحب سے ملنے آئے تھے، میں ان کو دیکھ کر اندر گیا اور امی سے یہ کنفرمیشن لیا کہ یہ زبیر صاحب ہیں، امی نے حامی بھری تو دوبارہ باہر والے کمرے میں آ کر انہیں دیکھنے لگا، اس وقت وہ ابا کے ساتھ بیٹھے گفتگو کر رہے تھے اور مجھے نہ جانے کیوں اس بات پر خوشی محسوس ہو رہی تھی کہ میں نے آج پہلی بار زبیر صاحب کو ٹھیک سے دیکھ لیا۔ ابا سے ان کی بے تکلفی پر مجھے کچھ حیرت نہ تھی، بس یہ سوچ سوچ کر ایک مسکراہٹ بار بار میرے ہونٹوں پر بکھر جاتی تھی کہ ذہن جدید کا مدیر ہمارے گھر میں بیٹھا ہے۔ میرے سامنے، میرے ابا کے ساتھ۔ اس کے بعد تو زبیر صاحب چار پانچ مرتبہ ہمارے گھر آئے اور ان سے کچھ کچھ میری بھی رسم و راہ ہونے لگی۔ وہ بہت کم بولتے تھے، آہستگی جیسے ان کے مزاج کا حصہ ہو۔ میرے باپ اور چچا نے خواہ انہیں کبھی چیختے پکارتے یا جلال کے عالم میں دیکھا ہو، لیکن میں نے جب جب انہیں دیکھا مجھے ہمیشہ یہ محسوس ہوا کہ زندگی کے تمام اضطرابات کو زبیر صاحب کی تسکین نے زندہ نگل لیا ہے۔ ان کے چہرے پر بلا کی متانت تھی، کبھی کبھی کچھ سوچتے اور گفتگو کے دوران خاموش ہوتے تو متانت کے اثرات مزید گہرے ہو جاتے۔ جتنے لوگوں سے زبیر صاحب کے ملاقاتیں رہیں ہیں وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ زبیر صاحب اپنی بات کہنے میں ذرا بھی ہچکچاتے یا جھجھکتے نہیں تھے۔ بے تکلفی سے اپنی بات کہتے تھے، خواہ وہ کسی بھی نوعیت کی کیوں نہ ہو۔ ان کی باتوں میں سنجیدگی رچی ہوتی اور ساتھ ہی لطیف مزاح بھی، جس کو وہ ہر کسی پر آشکار نہیں کرتے تھے۔ زبیر صاحب کا تصور ادب، اردو کے سنجیدہ ادیبوں سے خاصہ مختلف تھا۔ کبھی کبھی جب وہ کسی ادبی، علمی موضوع پر بات کرتے یا زندگی کی الجھی ہوئی سچائیوں پر بولتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ الفاظ ان کا ساتھ نہیں دے پا رہے ہیں، ان کے اندر ایک قسم کا ابال تھا جس سے وہ ذرا سے مایوس نظر آتے تھے، اپنے اظہار میں وہ بعض اوقات وقت سے بہت آگے نکل جاتے تھے اور اپنی تہذیب اور معاشرت سے نالاں ہو کر سنجیدہ اور ساکن جھڑکیوں کا سہارا لینے لگتے تھے۔

زبیر صاحب کو عمریں بڑی کھلا کرتی تھیں وہ کسی بھی بات کے اظہار میں عمروں کا عمل دخل بے کار سمجھتے تھے، ایک روز مجھ سے کہنے لگے کہ ہم لوگ جس وقت لکھنا سیکھ رہے تھے اس وقت دنیا مختلف تھی، لیکن آج کا سیکھنے کا عمل اس سے یکسر تبدیل ہو چکا ہے، پھر کچھ کہتے کہتے رک گئے اور دو چار ہندی کے ادیبوں کا نام لے کر پوچھنے لگے کے کیا آپ ہندی پڑھتے ہیں، میں نےانکار کیا تو برا سا منہ بنا کر پہلو بدلا اور ہنسنے لگے۔ میں اپنی کم علمی کے باعث زبیر صاحب سے کم ہی ملتا تھا، اس لیے نہیں کہ ان سے مل کر کسی طرح کی الجھن یا پریشانی کا احساس ہوتا ہو، بلکہ اس لیے کیوں کہ ان کا میدان علم و عمل اتنا وسیع تھا کہ ان کا شریک گفتگو ہونا ناممکن ہو جاتا تھا۔ پھر وہ ایسے مزاج کے شخص بھی نہیں تھے کہ اپنے سے نہایت چھوٹوں سے بھی پند و نصائح کی باتیں کرتے رہیں۔ مجھے نہیں یاد کہ انہوں نے مجھے کبھی کسی کتاب کو پڑھنے کا مشورہ دیا ہو، وہ کبھی اس طرح سے پیش ہی نہیں آتے تھے کہ ان کے بزرگ ہونے کا خیال دل میں گھر کر جائے۔ ایک روز اچانک جنسیات پر گفتگو کرنے لگے، اورمسلم معاشرے میں جنسی خوف پر بے تکان بولتے رہے۔ اسی دوران ان کی ایک نواسی جو غالبا چار، پانچ برس کی رہی ہو گی کھیلتی کودتی باہری کمرے میں آ گئی تو اس کی طرف دیکھ کر مجھ سے کہنے لگے۔ آپ ذرا غور کیجیے کہ ہم اپنے بچوں کو جنسی اعضا کے تعلق سے بتاتے ہوئے بھی اتنا خوف زدہ رہتے ہیں کہ شعوری عمر تک ان کا خیال جنسی اعضا کی جانب سے ہٹاتے رہتے ہیں، مگر میں اس کا ذرا بھی قائل نہیں، پھر اس بچی کی جانب اشارہ کر کے کہنے لگے کہ یہ اگر کبھی میرے پاس آکر اپنے مخصوص مقام کی جانب اشارہ کر کے مجھ سے پوچھتی ہے کہ نانا یہ کیا ہے تو میں اسے بتاتا ہوں کہ یہ کیا ہے۔ جب انہوں نے اپنی بات ختم کی تو میں کچھ دیر تک ان سے نظریں نہیں ملا سکا، مجھے ایک قسم کی جھجھک محسوس ہو رہی تھی، مگر زبیر صاحب اس وقت بھی بالکل پر سکون تھے، وہ اکثر مجھ سے کہا کرتے تھے کہ اردو زبان میں Virginکے لیے اتنا پیارہ لفظ ہے باکرہ،لیکن اس کا استعمال کرتے ہوئے مسلم گھرانوں کی تہذیب یافتہ عورتوں اور مردوں کی کان کی لوئیں گرم ہو جاتی ہیں۔میں ایسی باتوں میں زبیر صاحب کا کچھ خاص ساتھ نہیں دے پاتا تھا، جس کی وجہ سے وہ بولتے بولتے خود گفتگو کا موضوع تبدیل کر دیتے تھے۔

میں نے ہمیشہ زبیر صاحب کے اندر ایک متحرک ادیب، ایک علم دوست انسان اور ایک نہایت سلجھا ہوا شخص دیکھا۔ ان کی گفتگو بتاتی تھی کہ وہ اپنے موضوعات کے حوالے سے کتنا زیادہ غور کر چکے ہیں اور اس غور و فکر کی بنیاد پر انہوں نے ایک موقف قائم کر لیا ہے۔ میں نے انہیں کبھی ہنگامی حالات میں زور و شور کی گفتگو کرتے نہیں دیکھا اور نہ ہی انہیں تکلفات میں گھرا پایا۔ اکثر وہ ذاکرنگر کی گلیوں میں نائٹ ڈریس پہنے سڑکوں پر ٹہلتے نظر آ جاتے تھے، کبھی راستے پر ملاقات ہو جاتی تو واجبی بات کر کے آگے بڑھ جاتے۔ ایک روز میں اے ٹی ایم کی لائن میں کھڑا اپنی باری کے آنے کا منتظر تھا کہ اچانک مجھے پیچھے جانی پہچانی آواز سنائی دی، میں نے مڑ کر دیکھا تو زبیر صاحب کسی سے محو گفتگو تھے، میں اسی وقت قطار سے ہٹنے لگا تو انہوں نے میرا کندھا پکڑ لیا، بات کر چکے تو میں نےکہا کہ انکل آپ آگے آجائیں، مگر انہوں نے مسکرا کر انکار کر دیا اور حال احوال طلب کرنے لگے۔ زبیر صاحب کی شخصیت میں بلا کی کشش تھی، جو عام طور پر اردو کے ادیبوں میں مفقود ہوتی ہے۔ وہ اپنی تمام تر مشقتوں اور محنتوں کے بعد بھی ابتر یا ہراساں نظر نہیں آتے تھے، بلکہ ان کو ہر بار دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ اردو کے مکمل ادیب کو اگر کسی طرح ہونا چاہیے تو زبیر رضوی کی طرح۔ میں نے جتنے ہی ادیبوں کو اپنی اب تک کی زندگی میں دیکھا ہے، پھرخواہ ان میں علی امام نقوی ہوں یا ندا فاضلی، شمس الرحمان فارقی ہوں یا باقر مہندی، سید محمد اشرف ہوں یا شمیم حنفی،شجاع خاور ہوں یا سلام بن رزاق ہر کسی میں کوئی نہ کوئی کجی نظر آئی ہے۔ بحیثیت ادیب زبیر صاحب مجھے ہمیشہ مکمل معلوم ہوئے۔ کردار، گفتار، فہم وفراست، بے تکلفی، سنجیدگی، علم اور حلم اور اخلاق اور بے باکی میں زبیر صاحب عدیم المثال تھے۔ نئے لوگوں سے ان کی وابستگی دوسروں کے مقابلے کم تھی، لیکن پھر بھی جو لوگ اچھا لکھتے تھے انہیں زبیر صاحب ہمیشہ تذکرے میں رکھتے تھے۔ گردش پا میں انہوں نے بعض باتیں ایسی لکھیں ہیں جس سے ان کی شخصیت کے وہ پہلو نمایاں ہوتے ہیں جس کا تذکرہ کرنا بھی ہمارے ادیب اپنی بے عزتی اور کسر شان تصور کریں گے، مگر زبیر صاحب ہر بات کو پوری صداقت سے بیان کر گیے ہیں اور یہ ہی ان کی ذات کا سب سے اہم پہلو ہے۔ مجھے زبیر صاحب کے معاصرین کا ان کے ساتھ رویہ کچھ زیادہ اچھا نہیں لگتا تھا، میں نے دو ایک مرتبہ اس بات کو محسوس کیا کہ ان کے معاصرین ان سے کچھ خفا معلوم ہوتے ہیں۔ وہ خفگی کس بات پر تھی اس کا مجھے ذرا بھی علم نہیں، لیکن ایک روز جب میں غالب انسٹی ٹیوٹ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے زبیر رضوی، کشور ناہید، ندا فاضلی، فیاض رفعت اور مولانا یعقوب کے ہمراہ بیٹھا تھا تو ندا فاضلی نے کسی بات پر زبیر صاحب سے اختلاف کیا، زبیر صاحب ابھی اس کا جواب دینے کے لیے منہ ہی کھول رہے تھے کہ ندا فاضلی نے تحکمانہ لہجے میں کہا کہ زبیر تم چپ رہو، تم جاہل ہو، اس پر کشور ناہید چراغ پا ہو گئیں اور زبیر صاحب کی طرف سے کچھ کہنے کے لیے آگے بڑھیں تو ندا فاضلی نے ان کو چپ کراتے ہوئے مزید ایک مرتبہ اسی لفظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ تم تو چپ ہی رہو کہ تم زبیر سے بڑی جاہل ہو۔اس پر کشور ناہید بکھر سی گئیں، مجھے ندا فاضلی کا وہ رویہ اس وقت بڑا عجیب لگا، لیکن میں زبیر صاحب کا رویہ دیکھ کر اور زیادہ متعجب ہوا کہ زبیر صاحب اس جملے کے بعد بحث سے بالکل لاتعلق سے ہو گئے۔ یہ ان کی ذات کا ٹھہراو تھا کہ وہ کسی بھی بات پر اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے بحث و مباحثے میں نہیں پڑتے تھے اور اس کی وجہ ان کے پر سکون چہرے کو دیکھ کر یہ معلوم ہوتی تھی کہ ان کو اپنی بات کے درست ہونے کا آخری حد تک ادراک ہوتا تھا۔ علمی، ادبی مباحث انہیں علمی ادبی رویوں کے ساتھ بھلے لگتے تھے۔

میری زبیر صاحب سے جتنی ملاقاتیں رہیں، اس میں میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا، لیکن سب سے بڑی چیز اگر وہ کچھ سکھا گئے تو وہ اپنی ذات کا ٹھہراو اور منطقی طرز استدلال ہے۔ جس کے سہارے انہوں نے اردو زبان و ادب کی تخلیقی اور تہذیبی تاریخ میں اپنا ایک مقام متعین کیا۔ اب زبیر صاحب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن جب کبھی میں تنہائی میں بیٹھ کر ان کی دلچسپ باتیں یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کہیں آس پاس ہی ہیں اورمجھے دیکھ کر اپنے مخصوص انداز میں مسکرا رہے ہیں۔

Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of PhD Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

بابا بلھے شاہ کا میلہ

عظیم صوفی شاعر بابا بلھے شاہ کا 257 واں تین روزہ سالانہ عرس 24 اگست اور بھادوں کی 19 کو قصور میں شروع ہوا، جس میں دربار کو رنگوں اور روشنیوں میں نہلا دیا گیا۔

ادب کسی کا مسئلہ نہیں

تالیف حیدر: ادب دنیا نہیں کائنات کے اس آخری چھور تک بسیط ہے جہاں تک انسان اپنے حواس کے ساتھ پہنچا ہے اور ادب اس خیال سے بھی کہیں زیادہ آگے کی چیز ہے جو ابھی ایک لاکھ برس بعد وجود میں آئے گا۔

بلوچ، بلوچستان اور اردو زبان

عالمی اردو کانفرنس کا ساتواں کنونشن آرٹس کونسل کراچی میں اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور کئی ممالک سے کنونشن میں آئے اردو کے چاہنے والے کراچی سے واپس لوٹ چکے ہیں۔