ذہین شخصیت، حسین گلوکارہ : ٹیلر سوئفٹ

ذہین شخصیت، حسین گلوکارہ : ٹیلر سوئفٹ

'بدن کی بینائی' سلسلے کی مزید تحاریر پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

زندگی میں کبھی کبھار کشمکش اور تڑپ کام آجاتی ہے، اس حالت میں ، ابہام محبوب اور وعدے بے وفا ہوتے ہیں۔ وعدے شخصیت میں سکون اور ٹھہرائو پیدا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے جوش بھی سرد پڑتا ہے، جبکہ اضطراب سے توانائی فراہم ہوتی ہے اور نہ ہونے والے کام بھی ہونے لگتے ہیں۔ امریکی موسیقی کے منظر نامے پر’’ٹیلر ایلسن سوئفٹ‘‘ ایک ایسی ہی گلوکارہ اور گیت نگار ہے، جس نے کم عمری میں ہی اپنے فیصلے کیے، کمال یہ ہوا، وہ فیصلے کامیاب بھی ثابت ہوئے۔یہ عہد حاضر میں دنیا کی مقبول ترین گلوکارہ بن چکی ہے، جس نے میڈونا جیسی گلوکارہ کو بھی مقبولیت میں پیچھے دھکیل دیا، اس کے میوزک ویڈیوز دیکھ کر مائیکل جیکسن کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اہم بات، وہ صرف ذہانت تک محدود نہیں، بلکہ اپنے حسن سے بھی بخوبی کام بھی لے رہی ہے۔ حسن ہے مگر دوآتشہ ہے۔

اس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، 27 برس بعدیہ دنیاکی نمبرون گلوکارہ ہوگی، اس کے فروخت ہونے والے البم کی تعداد کروڑوں میں ہوگی، اس کے کانسرٹس ایک ایک سال پہلے ایڈوانس بک ہو جایا کریں گے۔ اس کی شخصی ذہانت اور روحانی حرارت نے اس کو وقت سے پہلے باشعور کر دیا۔ اس نے زندگی کی ابتدا ہی عملی طورسے کی۔ صرف 14 برس کی عمر سے اپنے کیرئیر کی ابتدا’’کنٹری میوزک‘‘ سے کی، اس میوزک کی جڑیں امریکی افریقی لوک موسیقی میں پیوست ہیں، اس کو نئے انداز میں اپنایا اور پیش کیا۔

ٹیلر سوئفٹ امریکی ریاست’’پینسلوینیا‘‘ کے شہر’’ریڈینگ‘‘ میں دسمبر، 1989 میں پیدا ہوئی۔ اس کے والدین بھی اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھتے تھے، انہوں نے اپنے بچوں کو اچھی تربیت دی اور ان کی مضبوط شخصی بنیاد رکھی۔ اس نے اپنی زندگی کا کچھ وقت دیہی پس منظر میں ایک زرعی خطے پر بھی گزرا، جہاں کرسمس کے درختوں کی کاشت ہوتی تھی۔ یہاں گزارے ہوئے وقت سے، اس کی شخصیت میں فطرت سے لگائو کا حسن پیدا ہوا۔ اس نے مختلف اسکولوں اور کالج سے اپنے تعلیمی مدارج طے کیے، ان میں راہبائوں کے ماتحت چلنے والا اسکول بھی شامل تھا، مگراس کے اندر موسیقی سے فطری رجحان موجود تھا، جس نے اس کو اپنا بنا کر چھوڑا۔

ٹیلر کے گیتوں میں ذات کے خدوخال، نا آسودہ خواہشیں، ادھورے وعدے، سسکیاں اور تمنائیں غالب محسوس ہوتی ہیں

اس نے 9برس کی عمر میں میوزیکل تھیٹر میں حصہ لیا۔ اپنے چھوٹے سے شہر سے باقاعدگی سے نیویارک سفر کیا، جس کا مقصد گلوکاری اور اداکاری کی تعلیم حاصل کرنا ہوتا تھا۔ یہی شوق اس کو میلوں ٹھیلوں کی طرف بھی لے آیا، جس کے ذریعے اس کاتعارف موسیقی کے عملی میدان سے ہوا۔ اسے یہ اندازہ ہوا، صرف گلوکاری کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ مارکیٹنگ کی کڑاہی میں بہت سارے فنی پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں۔ عوامی اجتماعات، کانسرٹس اور میلوں ٹھیلوں سے خود کو جوڑ کر رکھنا ہوتا ہے، ٹیلی وژن اور ویڈیوز کی صورت میں سامعین اور مداحوں کے حواس پر طاری رہنا پڑتا ہے۔ اس عملی فن کی باریکیاں سمجھنے کے بعد، اس نے اس فنی کاریگری کا خوب استعمال کیا، یہی وجہ ہے، آج یہ پوری دنیا میں سب سے مصروف ترین گلوکارہ ہے، جس کے کریڈٹ پر دنیائے موسیقی کے سارے بڑے ایوارڈز بھی شامل ہیں۔ یہ کسی ایک دو شہروں یا ملکوں کا دورہ نہیں کرتی، ہر نئی البم پر پوری دنیا کا دورہ اس کے عام معموملات کا حصہ ہوتا ہے، اس مصروف تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے، اس کی ایک بہت بڑی ٹیم ہے، جس میں درجنوں کارکنان اس کے معاملات دیکھتے ہیں۔

ٹیلر سوئفٹ، خوش آواز بھی ہے اور خوبرو بھی

صرف 11برس کی عمر میں اس نے ایک دستاویزی فلم’’فیتھ ہل‘‘ دیکھنے کے بعد اپنی والدہ کے ہمراہ اس کو ریلیز کرنے والی کمپنی کے دفتر پہنچی اور اپنی آواز میں ریکارڈ کی ہوئی ایک ٹیپ جمع کروائی، جس کو مسترد کر دیا گیا، لیکن اس کم سن بچی نے ہمت نہ ہاری، اس کی آنکھوں سے خوابوں کی تتلیاں پرواز کرتی رہیں۔ ایک مقامی موسیقار کی مدد سے اس نے گٹار بجانا سیکھنا اور گیت نگاری کی ابتدا بھی کی۔ والدین کی مدد سے ایک امریکی ریکارڈ لیبل کمپنی کی تشہیری مہم کا حصہ بننے کے بعداس کے لیے بڑی امریکی ریکارڈلیبل کمپنیوں تک جانے کے راستے دریافت ہوئے۔ اس جدوجہد میں بھی یہ کم عمری لڑکی، اپنی والدہ کا ہاتھ تھامے سفر کرتی رہی، اپنی منزل کے نشان ڈھونڈتی رہی۔ 14 برس کی عمر میںاس کے پیشہ ورانہ رابطے بڑی کمپنیوں کے ساتھ استوار ہونے شروع ہوئے، ایکدم اس کی مقبولیت بڑھنے لگی، اس میں تعلیمی سفر بھی ادھورا رہ گیا، جو بعد میں گریجویشن کی شکل میں مکمل ہوا۔ اس کے گیتوں میں ذاتی زندگی کی جھلک بہت نمایاں ہے۔ چاہے وہ جدوجہد کے دنوں کی یاد ہو یا پھر محبت کے راستوں پر ٹوٹنے والے خوابوں کی کہانی ہو، اس نے گیتوں کی زبان میں اپنی ساری زندگی کو بیان کر دیا۔

ٹیلر سوئفٹ کی اب تک 6البم ریلیز ہوچکی ہیں، جن میں پہلی البم کا نام’’Taylor Swift‘‘ ہی ہے، جو 2006 میں ریلیز ہوئی اور بل بورڈ میوزک چارٹ کے دو سو بہترین البم میں پانچویں نمبر پر رہی۔ اس البم کے ایک گیت’’Our Song‘‘نے بہت دھوم مچائی۔ 2008 میں اس کی دوسری البم’’Fearless‘‘ ہے، جس میں اس کی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں۔ ریلیز ہونے کے اگلے برس، اس البم کو امریکا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی البم کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جبکہ اس نے مغربی موسیقی کے سب سے بڑے ایوارڈ’’گریمی‘‘ کو چارمختلف شعبوں میں اپنے نام کیا، اس کے دو گیت’’لو اسٹوری‘‘ اور یو بلونگ وِد می‘‘ کو بہت پسند کیا گیا۔ اس کے بعد ریلیز ہونے والی اس کی دیگر البم’’Speak Now‘‘ اور’’Red‘‘ سمیت’’1989‘‘کے علاوہ، رواں برس ریلیز ہونے والا البم’’Reputation‘‘ شامل ہے، جس کی اب تک دو ملین کی فروخت کا ریکارڈ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر کے کانسرٹس، میوزک ایوارڈز، شہرت اور دولت اس کا مقدر بن چکی ہے، یہی وجہ ہے’’ٹائم میگزین‘‘ نے اس کو دنیاکی 100بااثر شخصیات میں بھی شامل کیا۔ دیگررسائل و جرائد میں کسی نے اس کو طاقت ور عورت، تو کسی نے اس کو حسین دلربا سے تشبیہہ دی، مگر یہ ابھی تک ایک شہزادی کے روپ میں منتظرِمحبوب ہے۔

دنیا کے ہر ملک میں اس کی آمد کا انتظار ہوتا ہے، یہ اپنی مدھر آواز اور دلکش شخصیت سے مداحوں کا چین لوٹ لیتی ہے۔ اس کی شاعری میں ذات کے خدوخال، نا آسودہ خواہشیں، ادھورے وعدے، سسکیاں اور تمنائیں غالب محسوس ہوتی ہیں، یہ ویڈیوزبنانے میں بھی جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور سہارا لیتی ہے، اس کے میوزک کی سب سے خاص بات ہے کہ یہ نوجوان نسل کے دلوں کی آواز ہے، پھر اس پر ٹیکنالوجی کا استعمال اس کو اور خاص بنا دیتا ہے، اس کو یہ بھی پتہ ہے، اپنے ہنر کی تشہیر کیسے کرنی ہے، اسی لیے اس کا ہر گانااور البم شائقین موسیقی کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔ ٹیلر سوئفٹ فکری لحاظ سے’’عورتوں کے حقوق‘‘کی بہت بڑی حامی ہے۔ فلاحی کاموں میں پیش پیش رہتی ہے،خطیر رقوم بطور عطیات دیتی ہے، سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی ہے، سابق امریکی صدر اوبامہ کی انتخابی مہم میں بھی شریک رہی تھی۔ یہ تشہیری اداروں کا ایک ایسا چہرہ ہے، جو حسین تو ہے مگر دردمند دل لیے ہوئے۔

ٹیلر سوئفٹ کم عمری میں ہی کامیابی کی بلندیوں تک جا پہنچی ہے

ٹیلر سوئفٹ ایک ایسی خوش قسمت خاتون ہے، جس نے بہت کچھ قت سے پہلے حاصل کر لیا، مستقبل میں بھی اس کا شمار ایسے ہنر مندوں میں کیا جائے گا، جنہوں نے دل اور دماغ قابو میں رکھا، کامیابیوں کے تسلسل سے ان کے قدم نہ لڑکھڑائے۔ یہ کامیابیوں کو سنبھالنے کا فن جانتی ہے۔ ممکنہ حد تک خود کو تنازعات سے بچا کر رکھتی ہے اور اس کی پوری توجہ کیرئیر پر ہے، اس قدرکامیاب گلوکارہ کے دل کا خانہ ابھی تک خالی ہے، اس کے گیتوں میں بھی اداسی موجود ہے، اس کے سپنوں کا راج کمارابھی تک آیا نہیں، اس کے حسن کے دیپ پوری طرح روشن ہیں، مقدر کے ستارے کی طرح، مستقبل میں اس کے لیے ابھی بہت کچھ فتح کرنے کو باقی ہے۔۔۔

خرم سہیل سے رابطہ کیجیے:
khurram.sohail99@gmail.com

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

زندگی کی تاریکی پر فتح پانے والی حسینہ؛ فاطمہ سیاد

خرم سہیل: سیاہ رنگت والی اس حسینہ نے، زندگی کی تاریکیوں پر مکمل فتح حاصل کرلی ہے۔

پُر کشش خاتون اور شاندار اداکارہ: انجلینا جولی

خرم سہیل: ہالی وڈ کی مہنگی ترین اداکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ انجلینا جولی اقوام متحدہ کی طرف سے مہاجرین کی خیر سگالی کی سفیر بھی رہی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آفت زدہ علاقوں کا دورہ کرچکی ہے۔

حکمرانوں کاحسین انتخاب:للی لینگٹری

خرم سہیل: بنفشی آنکھوں والی اس حسینہ نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کی۔ فیشن کی دنیا میں بھی اپناحسن ثابت کیا،ایک وقت ایسا آیا،جب اس کے انداز اورادائیں ہی فیشن کے طورپر قبول کی جانے لگیں۔