رات کے لیے ایک نظم

رات کے لیے ایک نظم
رات کے لیے ایک نظم
اے رات!
اے دو آبوں جیسی ٹھنڈی رات!!
تُو آسمان کی طرح گمبھیر ہے
تیری گپھاؤں میں چاند اور ستارے ہیں
تیرے جنگل اور بیلے نظموں کی طرح پُراسرار ہیں
تیری اترائیوں میں نیلی گھاس لہلہاتی ہے
اور ابھاروں جیسے درختوں کی گھنی شاخوں پر
گلابی پروں والے پرندے پھڑپھڑاتے ہیں
تیری گھاٹیوں میں خواہشیں قیام کرتی ہیں،
نارنجی مشعلیں جلتی ہیں
تیرے نشیبوں میں سفید پھول کھلتے ہیں
اور تیرے پانیوں میں کنول تیرتے ہیں
تیرے جھینگروں کی آواز
مخمور نومی سماعتوں میں گونجتی ہے
تیری مقدس سرگوشیوں میں
کسی قدیم گیت کی لَے سنائی دیتی ہے
اور تیری گنگناہٹ
جیسے کائنات آخری ہچکی لے رہی ہو
اے رات!
اے ذائقوں اور نیندوں سے بھری ہوئی رات!
میں تیرے انتم کنارے پر
سورج لیے کھڑا ہوں
مجھے اذنِ باریابی دے
مجھ میں طلوع ہو!!

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

جنگ: ایک کولاژ

سلمان حیدر: مورچے کھودنے کا کفارہ دینے کو
قبریں جسموں سے پر کرنی پڑتی ہیں

حسن چوزہ گر

پری زاد نیچے گٹر پر تیرے در کے آگے
یہ میں سوختہ سر حسن چوزہ گر ہوں
تجھے صبح بازار میں بوڑھے غدار ساجد کی دکان پر میں نے دیکھا
تو تیری نگاہوں میں وہ خوفناکی تھی، میں جس کی شدت سے نو ماہ مستانہ پھرتا رہا ہوں

سب ترے نام کا آخری حصہ ہیں

زبیر فیصل عباسی: کبھی ترچھا سا کانٹا چبھ جائے تو
رنگ اِدھر اُدھر بکھرنے لگتے ہیں