راجندر سنگھ بیدی کی یاد میں

راجندر سنگھ بیدی کی یاد میں

راجندر سنگھ بیدی پر بات آغاز کرنا چاہتا ہوں اور اسی کے افسانے ’’ببل‘‘ کا یہ جملہ میرے خیالوں میں ایک گونج سی پیدا کررہا ہے
’’درباری لال شام سے گھر ہی بیٹھا سیتا کے ساتھ بیکار ہو رہا تھا‘‘
یہ جملہ بھی اور اس سے متصل ایک وضاحت بھی، لیجئے وہ بھی بتائے دیتا ہوں
’’کسی کے ساتھ بے کار ہونا ،اس حالت کو کہتے ہیں ، جب آدمی دیکھنے میں ایوننگ نیوز یا غالب کی غزلیں پڑھ رہا ہوں لیکن خیالوں میں کسی سیتا کے ساتھ غرق ہو۔‘‘

تو معاملہ یہ ہے صاحب، کہ پچھلے کچھ برسوں سے ہم نے غلام عباس، اختر حسین رائے پوری، حیات اللہ انصاری ، عزیز احمد، کرشن چندر، میراادیب وغیرہ کو صدی بھر کی شخصیت کے طور پر دیکھنا چاہا، انہیں بھی اورراشد،میرا جی ، مجید امجد، حتی کہ فیض جیسے ہر دل عزیز شاعر کو بھی ،مگر منٹو منٹو کے ہنگامے کے بعد لگتا ہے کہ تب سے اب تک غرق تو ہم منٹو کے ساتھ ہی ہیں اِدھر اُدھر تو سب بے کار ہو تے رہے ہیں۔ ایسی فضا میں کہ جب بہ قول انتظار حسین ،’’منٹو کا پیریڈ‘‘ بہت طوالت کھینچ چکا ہے ، لاہور کے ترقی پسندوں کی ہمت کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے اسی شہر میں پیدا ہونے ،اسی شہر میں عملی زندگی کو آغاز دینے ، اور اسی شہر سے اپنی تخلیقی قوتوں کے لیے تحریک لینے والے راجندر سنگھ بیدی کو خوب اہتمام سے یاد کرنا چاہا ہے۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ بیدی کا ذکر بیکاری کے باب میں نہیں لکھا جائے گا۔ میرا جی چاہتا ہے ، اسے بھی طول کھینچنا چاہیے ، مگر میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے ، کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو وقت نے اپنی مٹھی میں بند کر رکھے ہوتے ہیں۔

خیر ایسا بھی نہیں ہے کہ جب منٹو کے ساتھ کسی اور کا ذکر نہ ہورہا تھا ، مجھے یاد ہے ہمارے محترم شمس الرحمن فاروقی کی منٹو پر ایک دلچسپ کتاب آئی ؛’’ ہمارے لیے منٹو صاحب‘‘ تو اس میں وہ انہوں نے بیدی کو بھی یاد کیا تھا ۔ اچھا،یہیں ایک بات کہتا چلوں کہ فاروقی نے بیدی کے جن دو افسانوں، یعنی’’ سونفیا‘‘ اور’’ متھن ‘‘کو رد کیاتھا، یہ دونوں کئی اعتبار سے میری توجہ کھینچتے ہیں ۔ مثلاً ان میں سے ایک افسانے میں سونفیا کا کردار جس قرینے سے بیدی کے قلم نے تراشا ہے ، جیتا جاگتا اور لطف لذت کے چھینٹے اُڑاتا ہوا،اِس سے پورے افسانے کا لفظ لفظ بیانیہ ایک متجسس دِل کی طرح دھڑکنے لگاہے۔ سونفیا بیس بائیس سال کی ایک کھلے ہاتھ پیر والی لڑکی ہے ۔ مطمئن بالذات ۔اوراس کے اندر کی آگ اور جوش کا اندازہ بس اتنا ہی لگایا جاسکتا تھا ، جتنا کہ کوئی دیکھنے والا بجلی کے تار کو دیکھ کر، اس کے اندر رواں قوت اور جوش کا لگا سکتا ہے۔ ہرے بھرے شاداب بدن والی سونفیا ہو یا’’ متھن‘‘ کی کیرتی ،آپ دونوں سے دور کہاں جا سکتے ہیں ،اور کتنے دور رہ سکتے ہیں ۔ آپ یہ کردار پڑھتے ہیں تو سونفیا اگر اپنے لانبے بالوں کا جوڑا بناتے ، اور دونوں ہاتھوں سے جوڑے کو دباتے اپنے بدن کے اُبھاروں کی ساری لذتیں پڑھنے والے کی جھولی میں انڈیل کر اُسے بھر دیتی ہے یا چھوٹے قد،مگر گٹھے ہوئے جسم والی اداس کیرتی ،جب نیوڈ بنانے کے بعداپنے آپ کو ساڑھی میں آگے پیچھے سے ڈھانپ رہی ہوتی ہے، تو پڑھنے والے، بدن سے چپکنے والے مہین کپڑے سے لذت قطرہ قطرہ اپنے اپنے حلقوم میں اتارنے لگتے ہیں۔ خیر، فاروقی صاحب کو اگرلگا کہ ان افسانوں میں عورت ذات کے خلاف بیدی کے دل میں کوئی نفرت تھی جو زہر بن کر اس کے قلم سے ٹپکنے لگی تھی تو مجھے لگا ہے کہ عورت کو جاننے ،اس کے قریب ہونے بلکہ قریب تر ہو کر اس سے پچھڑنے کی جو لذت بیدی کے ہاں ہے، اسے نفرت کے زہر سے تعبیر دینا بیدی کے ساتھ ظلم کے مترادف ہوگا۔

ممکن ہے بیدی کی وہ تعبیر جو فاروقی صاحب نے کی ہے ، اس سبب ہو کہ ایک بار پریم کپور کو انٹرویو دیتے ہوئے بیدی نے کہہ دیا تھا، ہمیں عورت اور مرد کے بنیادی فرق کو سمجھنا ہوگا، اور جو فرق بیدی سمجھانا چاہتا تھا اس کے لیے بیدی نے اُلٹا سوال کیا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عورت ایک مہینے میں ماں بن سکنے کے قابل ہوتی ہے جب کہ مرد کے ایک بار کے جوہر میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ دنیا بھرکی عورتوں کی گود بھردے ۔ یہ بیدی نے کہا تھا اور مرد کو اونچے خیالات تخلیق کرنے والا اور عورت کی حفاظت کرنے والا بتا یاتھا اور زور دے کر کہا تھا کہ اس نے اپنے افسانوں میں اس مسئلے کو اٹھایا بھی تھا۔ مانا کہ یہ خیالات بہ سہولت ہضم نہیں ہو سکتے مگرطرفگی یہ کہ یہی اونچے خیالات تخلیق کرنے والا مرد ، خود بیدی کے افسانوں میں ، اسی عورت کے ہاتھوں مات کھاتا رہا ہے۔ شاید اس کا احساس خود بیدی کو بھی ہو گیا تھا تبھی تو اپنی تخلیقی زندگی کی تکمیل کے بعد اورمرنے سے لگ بھگ چار ماہ پہلے بیدی نے عصمت چغتائی اور فیاض رفعت کو آل انڈیا ریڈیو کے لیے ایک انٹرویو میں کہا تھا:

’’ میں نے دیکھا ہے کہ عورت ہمیشہ آدمی سے زیادہ پاور فل رہی ہے، اپنی تخلیق کی صلاحیت کی بنا پر ،مگر لوگ اس کا استحصال کرتے ہیں۔ اسے کچلتے ہیں۔ اسے دباتے ہیں۔ لیکن عورت تمام جکڑ بندیوں کے باوجود آزاد ہے ، اسے دبایا نہیں جا سکتا اسے روکا نہیں جا سکتا۔‘‘

تو یوں ہے کہ بیدی نے اپنے افسانوں میں اسی عورت کو دکھایا ہے، چاہتے نہ چاہتے ہوئے ، اور یہ عورت اس کے افسانوں میں کہیں نہ کہیں مرد کو پچھاڑ دیتی ہے ۔ اس پچھاڑنے والی عورت کی کوئی نہ کوئی جھلک اگر بھولا کی مایا، مادھو کی کلکارنی، پشپا کی شمی، پرسادی کی رتنی میں ہے تو میا ،شبو،جنتو،درشی، مصری،سیتا،ڈولی جیسے کرداروں یا تیز بارش میں بھیگنے والی راٹا میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ان نسائی کرداروں کی طرح عورت سے کسی نہ کسی سطح پر پچھڑنے والے مرد کرداروں کی بھی ایک قطار لگی ہوئی ہے۔ کتھو رام، سنت رام،رسیلا، خاکروب ولیم بھاگو، حضور سنگھ اورجنتو کو آلو تک نہ دلا سکنے والا انقلابی لکھی سنگھ اور اس طرح کے کئی اور کردار۔ ان سب کا اس نہج سے مطالعہ بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

مثلاً افسانہ’’ ببل‘‘ ہی لے لیجئے، اس کہانی کے ابتدائی حصے میں پکے ،بلکہ کالے رنگ کی جوان بھکارن مصری اور اس کا نرم نرم گول مٹول بچہ ہماری توجہ کھینچتے ہیں ۔ بیدی نے بچہ یوں دکھایا ہے جیسے وہ اسفنج کا بنا ہوا ہے، اپنی ماں کے برعکس گورا چٹا۔ یہ بچہ اپنی بھکارن ماں کے لیے کماؤ مردہے، اس کا اپنا کماؤ مرد۔کہ وہ کماتا ہے اور کھاتی مصری ہے۔افسانے کے آخر میں ایک وقت آتا ہے کہ یہی ببل سیتا کے بازوؤں میں جھول کر اور اس کی بھری بھری چھاتیوں میں سر گھسا کر اُس کی ممتا جگا دیتا ہے۔ یوں کہ یہ بدلی ہوئی اور توانا ہو چکی سیتا عورت درباری جیسے جنس کی طلب میں کھولتے مرد کو پچھڑنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

تو یوں ہے کہ کردار بنانااور انہیں اپنے بیانیے کے اندر پوری قامت سے کھڑے کر لینا ، انہیں متحرک کرنا یوں کہ اپنے وسیب کے اندر وہ اپنی شباہت بنائیں ، انہیں اُتنے ہی نہ رہنے دینا جتنا کہ وہ عام زندگی میں مشاہدے میں آتے رہے، اُس سے کہیں بڑھ کر قامت نکالنے دینا، اور جن مشکلوں میں پڑے ہوئے ہیں ، یا جن سماجی دلدلوں میں دھنسے ہوئے ہیں ، وہاں سے نکالنے کے انقلابی طریقے بتانے کی بجائے ، انہیں انسانی فطرت ، اور زمینی صورت حال سے قریب تر رکھ کر اپنا آپ بچا لینے کی راہیں سجھادینا، یا بہت ہی غیر محسوس طریقے سے پڑھنے والے کے دِل ایسی صورتحال سے بچ نکلنے کی تاہنگ پیدا کردینا ؛ یہ ہے و ہ کردار سازی کاوہ قرینہ، جس نے بیدی کو اپنے ہم عصروں سے اپنے اسلوب میں الگ اور نمایاں کیا ہے۔

دوسری اہم بات جو مجھے بیدی کی طرف متوجہ کرتی رہی ہے ، اور شاید دوسروں کو بھی متوجہ کرتی ہو ، وہ یہ ہے کہ اُس کی کہانیوں میں جہاں رنگ رس ہے، وہاں گودا بھی بہت ہے ۔ جی، میں بیدی کی کہانیوں میں مواد کے گودے کی بات کر رہا ہوں ۔ ’’بھولا‘‘،’’ ہمدوش‘‘، ’’من کی من میں‘‘،’’ ببل‘‘،’’ سونفیا‘‘،’’لاجونتی‘‘،’’ لمبی لڑکی‘‘ غرض کوئی بھی افسانہ اُٹھا لیں یا پھر اُس کا اکلوتا ناول،ُُ ایک چادر میلی سی‘‘ کو لے لیں، ہر کہیں بیانیہ یوں مواد سے بھرا ہوا ملے گا جیسے پوری طرح زندہ آدمی کی ہدیوں میں گودا بھرا ہوا ہوتا ہے۔ بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ کہیں کہیں تو یہ مواد کی زیادتی پڑھنے والے کو روک کر اِس کے لکھنے والے کی طرف متوجہ کر دیتی ہے۔ لکھنے والا، جو بہت سوچ سوچ کر اور سارے پہلو سامنے رکھ کر ایک افسانوی سازش تیار کر رہا ہوتا ہے۔میرے لیے یہ بات بہت اہم ہو گئی ہے کہ اپنے گہرے مگر ہمہ جہت مشاہدے اورتخیل کو کام میں لاتا ہے تو کہیں بھی ہمیں قلت مواد کا سوکھا محسوس نہیں ہوتا ۔ یقیناً آپ کو یاد آرہا ہوگا کہ یہ سوچ سوچ کر لکھنے والی بات منٹو نے ایک طعنے کی صورت بیدی کی سمت لڑھکائی تھی اور خیال کو دامِ خیال میں لاکر ایک افسانوی طرز کی سازش پیدا کرنے اور جزا میں افسانہ پانے کی بات خو د بیدی نے کی تھی ، سو واقعہ یہ ہے کہ بیدی افسانے کو ایک سازش کی طرح بنتا ہے ، سوچ سوچ کر اور پورے مواد کو برتتے ہوئے ، یوں کہ ہم اس کے گرفتار ہوتے ہیں ، جیسے کوئی خواب میں کھو جاتا ہے۔ ایسے خواب میں کہ بہ قول بیدی جاگنے پر بھی جی چاہنے لگتا ہے سرہانے میں آنکھیں دبا کر پھر سے خواب دیکھیں۔

جہاں بیدی اپنے کرداروں کو ایک قرینے سے تعمیر کرتا ہے ،یا افسانوی مواد کی فراوانی اور اس مواد کے پیچیدہ مگر سلیقے سے بیانیہ میں استعمال کے ذریعے توجہ حاصل کرتا ہے وہیں اس کے افسانوں کی تیسری اہم خوبی خالص مقامیت کی فضا میں رچی بسی کھری کھردری، مسلسل رگڑ کھاتی اور اکھڑ زندگی کی کہانیوں کو زبان کے تہذیبی ، اساطیری اورا ستعاراتی وسیلوں کے ذریعے پر از معنی کرنا بھی ہے ۔ گوپی چند نارنگ نے بیدی کے افسانوں کی اس جہت پر بہت مفصل سے بات کی ہے تاہم میں سمجھتا ہوں جہاں اس قرینے نے ان افسانوں میں معنی کا ایک جہان آباد کیا وہیں زبان کو کسی نہ کسی سطح پر اجنبیا بھی دیا ہے ۔ اجنبیانے کا یہ عمل جہاں بیدی کو اس قاری تک پہنچنے سے روک رہا ہے جس تک منٹو بہ سہولت پہنچ جاتا ہے، وہیں اس کے سنجیدہ قاری کے لیے ایسی داخلیت رکھ چھوڑی ہے جو اُسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور دیر تک افسانے کی فضا سے وابستہ رہنے کی طرف راغب کرتی ہے۔ جہاں بیدی نے ہندو میتھالوجی سے اپنے افسانوں کے لیے معنویت کشید کی ہے یا ایسا کرنے کے جتن کیے ہیں وہیں اُس نے مقامی رسم و رواج، مختلف گروہوں کے تعصبات، دیہی دانش کے لسانی ٹکڑوں، گیتوں اورگالیوں،طعنوں مہنوں، بوسیدگی کی آغوش میں اترتے بظاہر ان گڑھ نظر آنے والی مزاجوں غرض زندگی کے ایک ایک مظہر کو سلیقے سے اور سوچ سمجھ کر برتا ہے۔ کہیں کہیں بیدی کا قلم شوخ ہوا ہے اور کہیں گہرے طنز کی کاٹ سے اس نے ہمیں معاملے کی کسی اور جہت کی طرف لے جانا بھی چاہا ہے ۔ وہ اپنے کرداروں کی زبان سے مقامی الفاظ، مقامی لہجے میں ادا کرواتا ہے تاہم کہیں کہیں ایسا اُس راوی کی زبان سے بھی ہونے لگتا ہے ، جو اگرچہ کہانی کا کردار نہیں ہوتا مگر بیدی کی کہانی میں مداخلت کے لیے سہولت کار ہو جاتا ہے ۔ خیر، مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو زبان کے اِن رُخوں اور سطحوں پر استعمال سے افسانے کاایسا بیانیہ مرتب ہو جاتاہے جو بیدی کے اسلوب کے طور پر الگ شناخت کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں بیدی کے افسانوں کی ایک اور خوبی؛ اور یہ خوبی ہے ، انسانی جذبات کی لطیف ترین جنبشوں کو گرفت میں لینے کے لیے جزیات نگاری کو وسیلہ کرنا۔ یاد رہے یہ جزیات نگاری اس تفصیل نگاری سے بالکل الگ ہے ،جو کہانی کے اندر تہوں میں اُترنے سے روکتی ہے۔ بیدی اس قرینے کو بروئے کار لاکر اپنے کرداروں کا زندہ وجود اپنے قاری کے سامنے لے آتا ہے۔ کچھ ایسے کہ پڑھنے والا اُس سے خاص اور خالص جذبوں سے بھرا ہوا رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ یہ رشتہ ایسا ہے جو بیدی کے کرداروں کو مرنے نہیں دیتا۔ ایسے ہی زندہ جاوید کرداروں میں ایک کردار افسانہ لاجونتی کی لاجو کا ہے ۔ سندر لال کی لاجو ، پتلی چھمک سی دیہاتی لڑکی۔ ہر قسم کا بوجھ اُٹھانے اور ہر قسم کا صدمہ برداشت کرنے کی سکت رکھنے والی ۔ افسانے کی جزیات میں اس کے شوہر کے وتیرے کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے اوراُس کی ہر قسم کی مار پیٹ اور بدسلوکی کوسہہ جانے والی کی محبت کا رُخ، جس طرح بیدی نے سہارتے ہوئے، روک روک کرلکھا اور لکھتے ہوئے دکھا دیا ہے ، بٹوارے میں اغوا ہونے کے بعد ، اس کی معنویت اور بھی کھلتی چلی جاتی ہے۔ تقسیم میں ہنگاموں کے دوران اغوا ہونے سے پہلے اپنی لاجو پر تشدد بھری محبت نچھاور کرنے والے سندر لال کو جب اس کی بیوی بتاتی ہے کہ اس کا مسلمان اغوا کار جماں، اُس سے اچھا سلوک کرتا تھا،تو اُس کا رویہ بھی بدل جاتا ہے، اب وہ سندر لال کے لیے دیوی ہے۔بیدی نے لکھا ہے کہ لاجو کو یوں بسنا یوں تھا جیسے کہ اُس کا اُجڑ جانا۔ جس طرح افسانے کا قضیہ چھوٹی چھوٹی جزیات کے ذریعے قائم ہوتا ہے وہ قاری کے لہو میں بھی اُبال پیدا کرتا اور کردار کے ساتھ اُسے جذباتی سطح پر وابستہ کر دیتا ہے ۔ ایسا ہی بیدی کے اکثر افسانوں میں ہوتا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بیدی نچلے طبقے کے گرے پڑے کرداروں کو چنتا ہے ، انہیں بل کھاتی کہانی میں اپنی اپنی مکمل شناخت قائم کرنے دیتا ہے اور اُس تندمزاج اور اکھڑ زندگی کے مقابل کر دیتا ہے جو ایسے کرداروں کے نصیبے میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ اجزاء کے بہم ہونے سے ماجرے کی طرف جاتے ہوئے وہ خالص کہانی کے بیانیے سے رشتوں میں گندھی ہوئی زندگی کی تندی اور تیزی کو سہج سہج گرفت میں یوں لیتا ہے کہ قاری کو بہ سہولت انسانی نفسیات اور جذبوں کی لطیف متحرک سطحوں تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں، بیدی نے انسانی نفسیات کو سمجھنے اور انسانی بطون میں اتر کراس کے گنجھل کھولے ہیں، انتہائی ضبط اور پورے خلوص کے ساتھ ،اور یہ کوئی معمولی اور کم اہم واقعہ نہیں ہے ۔ انہی تخلیقی قرینوں کا فیضان ہے کہ بیدی اُردو افسانے کی تاریخ کا ایک مستقل باب ہو گیا ہے۔


Related Articles

دس برسوں کی دلی-قسط نمبر 2

"تم کیسے بے وقوف انسان ہو! شراب نہیں پیتے، سگریٹ نہیں پیتے اور شاعری کرتے ہو۔ جبکہ شاعری نہ کرتے تو کوئی پریشانی نہیں تھی، لیکن شراب اور سگریٹ ضرور تمہیں پینی چاہیے تھیں۔"

حکمرانوں کاحسین انتخاب:للی لینگٹری

خرم سہیل: بنفشی آنکھوں والی اس حسینہ نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کی۔ فیشن کی دنیا میں بھی اپناحسن ثابت کیا،ایک وقت ایسا آیا،جب اس کے انداز اورادائیں ہی فیشن کے طورپر قبول کی جانے لگیں۔

عشق وچھوڑے دی بالی ڈھانڈی، ہردم مینوں تاپے

عشق وچھوڑے دی بالی ڈھانڈی، ہردم مینوں تاپے