راندہء درگاہ

راندہء درگاہ
راندہء درگاہ
مَیں نے آنکھیں بند کرلیں
اور خواب میں چلتا رہا یونہی
تو اِس بیچ
کسی لمحے نے
میرے وجود کو
بھینچ لیا
اور پھر مِرے چہرے پر
چیچک زدہ نُقطے کی صورت
پھیل گئے لمحہ بھر میں
تب میرا
انسانی آبادی میں
رہنا ٹھیک نہیں سمجھا گیا
کیونکہ مَیں
اِس شُمار میں کہیں آتا ہی نہیں تھا
اور میرے لیے
کہیں دُور پرے
کسی مندر کے پہلو میں
اور چِنالی (1)کے سینے پر
کٹیا بنا کے
مجھے رکھا گیا
اور آج مری جب
آنکھ کھلی تو
خود کو اپنی اِس
جنم بھومی سے دُور کہیں
انجانی اور بے مہرآنکھوں کے جِلو میں
اور اذہان کو ملتے دیکھا
تو خود کو دفعتاً
چیچک زدہ کے
اُسی استھان میں پایا

نوٹ: (1)چنالی : گوادر کے جنوب میں پہاڑی کے بالکل ساتھ ہی واقع ایک تاریخی جگہ کا نام جہاں چیچک زدہ لوگوں کو رکھا جاتاتھا۔

Image: Oswaldo Guayasamin

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
K. B. Firaaq

K. B. Firaaq

کے بی فراق کا تعلق گوادر، بلوچستان سے ہے۔ آپ نے بلوچستان یونیورسٹی ، کوئٹہ سے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اب کئی سالوں سے فری لانس لکھاری، مترجم اور شاعر کے طور پر اردو اور بلوچی دونوں زبانوں میں ادبی اور تخلیقی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔


Related Articles

ایک دن مجھے مار دیا جائے گا

قرۃ العین فاطمہ: مجھے معلوم ہے مجھے مار دیا جائے گا
کسی بھی طرح
گولی سے یا تیز دھار آلے سے
کسی بھی وجہ سے
یا بغیر کسی وجہ کے
ایک دن مجھے مار دیا جائے گا

بیماری کا شجرہ

شارق کیفی: وہ پاگل ڈاکٹر شاید بہت فرصت سے ہو گا
جو ہنس کر پوچھتا تھا مجھ سے بیماری کا شجرہ
مرے دادا کا پردادا کا اور اس سے بھی پیچھے کا

ابھی مجھ کو تجسیم ہونا ہے

قاسم یعقوب: میں وہ ہوں
جسے منکشف کرنے کے واسطے
وقت اپنی ریاضت میں مشغول ہے