راکھ

راکھ
ہمیشہ کی طرح رات سونے سے پہلے میں نے اپنی کھوپڑی کو کُھولا تا کہ دماغ کو باہر نکالوں ۔ میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ کھوپڑی میں راکھ ہی راکھ جمع ہے جسے میں قریبی میز پر انڈیلنے لگا۔ راکھ کچھ کم ہوئی تو نیچے سے سگریٹوں کے ٹکڑے نکلنے لگے۔ شاید انہی کی وجہ سے وہاں اتنی راکھ جمع تھی۔ اس راکھ میں سے کہیں کہیں پنسلوں کے سکے بھی گر رہے تھے۔ ایک دو آدھے ٹوٹے ہوئے بلیڈ بھی سوختہ رگوں کے ساتھ جڑے ہوئے تھے یہ یقینی طور پر کسی بھی وقت ان رگوں کو کاٹ سکتے تھے مگر میں خوفزدہ نہ ہوا کیوں کہ میں اپنا دماغ (پتہ نہیں اس راکھ میں کہیں دماغ بھی تھا) خالی کر چکا تھا۔ ابھی میں یہ کر ہی رہا تھا کہ یوں لگا کہ میری کھوپڑی کے کسی کونے میں کوئی دوات کھلی ہوئی گر پڑی ہے اور سیاہی تیزی سے انڈلتی جا رہی رہی ہے، جس نے باقی ماندہ راکھ کو کھوپڑی کے ساتھ چپکا کےرکھ دیا جسے مجھے ناخنوں سے کُھرچ کر نکالنا پڑا، پر یہ سب ہوا کیسے؟ چونکہ میں اپنی کھوپڑی خالی کر چکا تھا اس لئے کچھ بھی یاد کرنے کی کوشش فضول تھی۔ میں پتہ نہیں اور کتنی دیر اس کوشش میں مشغول رہتا کہ میری توجہ رستی ہوئی بائیں کندھے پر موجود پھوڑے پر جا ٹکی۔ یقینا اس میں سے پیپ اور خون بہہ رہا تھا۔ میں نے رومال سے اسُے صاف کیا اور کتابیں سمیٹ کر میز پر رکھی اور خود بستر پر سونے کے لئے لیٹ گیا۔
صبح میرا سر عجیب بھاری ہو رہا تھا۔ غسل خانے میں جا کر میں نے اپنا ٹروائزر نیچے کر کے دیکھا میری ران کہ اوپر سُرخ نشان دن بدن بڑھتا جا رہا تھا ، میں نے فوراً ٹروئزر اوپر کیا اور آئینے کے سامنے کھڑا ہو کرشیو کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ لیکن اپنے چہرے پر نظر ڈالتے ہی میں نے یہ خیال ملتوی کیا اور منہ دھو کر کچن میں آگیا۔ کافی تیار ہو چکی تھی میں نے سوکھے ہوئے دو توس اٹھائے ان کے بیچ میں کٹا ہوا کھیرا رکھا اور ناشتہ کر کے تیزی سے باہر نکل آیا۔ روز کی طرح آج بھی میری گاڑی نے سٹارٹ ہونے سے انکار کر دیا۔ مجبوراً میں نے ٹیکسی پکڑی اور دفتر کی طرف چل پڑا۔ میرا دھیان مسلسل میرے بٹوے کی طرف تھا اگر میں اسی طرح ٹیکسی میں آتا رہا تو اگلا ہفتہ بھی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔ میں نے سوچا۔ مسلسل سوچنے سے میرا سر بھاری ہو رہا تھا، میں نے سر کو ہاتھوں میں تھاما کہ یکایک مجھے خیال آیا کہ میں اپنا دماغ وہیں میز پر چھوڑ آیا ہوں۔ “ میں اتنا لاپراہ کیسے ہو سکتا ہوں، اب میں واپس گیا تو ڈبل کرایہ لگے گا اور دفتر سے بھی دیر ہو جائے گی، مگر بغیر دماغ کے آگے جانا کیا سودمند ہو گا” میں انہی سوچوں میں تھا کہ میں نے غور کیا کہ اگر میں دماغ نہ اُٹھا لاتا تو ایسا سوچ کیسے سکتا تھا۔ “ یقیناً میں نے دماغ واپس کھوپڑی میں ڈال لیا تھا محض مجھے یاد نہیں آ رہا ، خیر اب جلدی سے دفتر پہنچ جاوں پھر اس بارے میں فرصت سے سوچوں گا” گاڑی رُک چکی تھی۔ کافی زیادہ ٹریفک جام تھا۔ “کیا ہوا ٹریفک کیوں رُکی ہوئی ہے” میں نے ڈرائیور سے استفسار کیا۔ “جناب روٹ لگا ہوا ہے، وزیر تحفظ ِ دو پایہ حیوانات نے آج عدالت جانا ہے ان کی گاڑی کو گزرنا ہو گا” ڈرائیور نے مجھے بتایا تو مجھے یاد آیا کہ رات اس حوالے سے خبروں میں بھی بتا رہے تھے کہ وزیر تحفظ ِدو پایہ حیوانات کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ جو کیس وہ عدالت میں کر چکے ہیں اس کا نتیجہ بہت ہی بھیانک ہو سکتا ہے۔ میں نے جُھرجھری لی۔ “ یہ وہی وزیر تھا جس کا منہ ایک طرف سے ترچھا تھا اور جب بھی ٹی وی پر آتا تھا کیمرہ ہمیشہ اس کا سائیڈ پوز دکھاتا تھا۔ “ آج تو دفتر جانے میں دیر ہو جائے گی اور اُس منحوس سانڈ سے بے نقط سننی پڑیں گی “ میں اسی فکر میں تھا کہ وزیر موصوف کی گاڑی پاس سے گزری جس میں پیچھے والے شیشے سے وزیر محترم اور اگلے شیشے سے ان کا جرمن نسل کا کُتا ہمیں نہایت حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے گزر گیا۔

میں ایک گھنٹہ دفتر سے لیٹ ہو چکا تھا۔ میں ایک ادبی جریدے میں کام کرتا تھا میری پوزیشن دفتر میں بالکل غیر ضروری تھی اور میں بھی اسے غیر ضروری ہی سمجھتا تھا مگر اس کے باوجود میں کافی جانفشانی سے کام کیا کرتا تھا۔ دفتر میں داخل ہوتے ہی میں نے دیکھا کہ دفتر کی واحد جوان اڈیٹر ، مدیر اعلیٰ کی ٹیبل پر کہنیاں ٹکا کر جھکی کھڑی ہے۔ اس کا پچھواڑا ہمیشہ کی طرح اتنا بیہودہ لگ رہا تھا کہ میرا دل کیا کہ میں ہاتھ میں پکڑے پن کی نب زور سے اُس کے پچھواڑے میں گھسا دوں یہاں تک کہ پورا آفس اس کی مکروہ چیخوں کو سُن لے۔ لیکن میں خاموشی سے آگے بڑھنے لگا اب بھی میری نظر پیچھے اُسی کو دیکھ رہی تھی۔ اس نے چہرے پہ میک اپ کی اتنی دبیز تہہ لگا رکھی تھی جسے رندے سے ہی اُتارا جا سکتا تھا۔ ۔ اس خاتون کی چھاتیوں کے سائز اور تنخواہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔اُس کے گلے کا صلیب مدیر اعلیٰ کی آنکھوں کے سامنے جھول رہا تھا۔ وہ شاید اُسے شعری محل وقوع سمجھا رہی تھی جس پر مدیر محترم تنقیدی نقطہ نگاہ ڈال رہے تھے۔مدیر کی باچھوں سے لال لال پان بہہ رہا تھا یہ خبیث ہمیشہ مجھے آدم خور لگتا تھا میں اکثر سوچتا تھا کہ اگر میں اس کےکپڑے پھاڑ ڈالوں تو نیچے سے یہ کتنا وحشی دکھائی دے گا۔ میں ابھی اپنے ٹیبل پر بیٹھا تھا کہ باس کا بلاوہ آگیا۔ جب میں اس کے کمرے میں پہنچا تو وہ اپنی توند تقیریباً میز پر سجائے بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی بھڑک کر اٹھنے کی کوشش کی جس میں اس کا پیٹ حائل رہا۔ وہ دوبارہ کرسی پہ ڈھیر ہو گیا اور دھاڑنے لگا “ ستیا ناس ہو تمہارا بدبخت پھر پرچے کا بیڑہ غرق کر دیا۔ گدھے کی اولاد تمہیں کتنی بار بتایا ہے کہ نارنگ مذکر ہوتا ہے تم نے پھر اُسے مونث لکھ دیا اور معروف شاعر خاکم داہنی کا لقب شاعر ِبے بدل ہے تم ہر بار اُسے شاعر بد دل کیوں لکھ دیتے ہو؟ اور یہ بتا کہ تجھے چیتے اور بھیڑیے میں فرق نظر نہیں آتا؟ تمہارا دماغ ہوتا کہاں ہے؟” وہ مسلسل بھونکے جا رہا تھا۔ میں اُسے کیا بتاتا کہ واقعی مجھے چیتے اور بھیڑیے میں فرق نظر نہیں آتا ۔ اس پرچے کو چھاپتے ہوئے میں کتنا محتاط رہا تھا کہ اس بار کوئی غلطی نہ ہو پر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میں غلطیاں کر بیٹھا تھا۔ “ آخر میرا دماغ رہتا کہاں ہے “ میں نے سوچا تو مجھے یاد آیا کہ میں اپنا دماغ گھر میں پتہ نہیں کہاں بھول آیا تھا۔ “ کیا وہ میز پر پڑا تھا یا میں نے اُسے دراز میں رکھ دیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میں نے اُسے کھوپڑی میں دوبارہ ڈال لیا ہو، لیکن اگر وہ واقعی میز پر رہ گیا ہے تو یہ ایک خطرناک بات ہے کیوں کافی دنوں سے ایک موٹی بلی میری گلی کا چکر لگا رہی تھی۔ اگر اُس نے میرا دماغ کھا لیا تو؟ لیکن اُس میں اتنی زیادہ راکھ ملی ہوئی تھی، بلیوں کے بارے میں مشہور ہے وہ راکھ نہیں کھاتی ورنہ ان کی نظر جاتی رہتی ہے، لیکن پھر بھی اگر وہ کھا گئی تو؟ یہ معاملہ واقعی تشویش ناک ہے۔ مجھے اس بارے میں جلدی سے کچھ کرنا ہوگا” میں مسلسل اپنے دماغ کی ممکنہ گمشدگی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اگر وہ گم ہو گیا تو کیا مجھے پولیس میں رپٹ لکھوانی چاہئے؟ لیکن پولیس والے تو بہت رشوت مانگتے ہیں اور ویسے بھی دماغ کی گمشدگی ایسا معاملہ ہے جس میں پولیس کی زیادہ دلچسپی نہیں ہو گی۔ لیکن کچھ بھی ہو مجھے اس خبر کی تشہیر نہیں کرنی چاہئے۔

گھر پہنچنے تک میں انہیں خیالوں میں گم تھا۔ میں بھاگ کر اپنے کمرے میں پہنچا، میز پر تھوڑی سی راکھ پڑی ہوئی تھی اوپر پنکھا پوری رفتار سے چل رہا تھا۔ میں نے سب درازوں کو دیکھ لیا۔ باسکٹ بھی انڈیل کر دیکھ لی لیکن کچھ بھی نہیں ملا۔ “ اب کیا ہو گا” میں نے ایک پل کو سوچا پھر سر جھٹک کر بزرگ شاعر علامہ مایوس پوری پر تنقیدی مضمون لکھنے لگا۔
Asad Raza

Asad Raza

Asad Raza is an anthropologist. He is a researcher by profession and is interested in reading and writing stories.


Related Articles

احتلام

رات گئے تک شام ڈھلنے میں نہیں آئی تھی اور آتی بھی کس طرح کہ آج کے دن کا افق ٹیڑھا ہو گیا تھا جس کے کسی کونے میں سورج کچھ اس طرح پھنسا کہ دوبارہ ابھرنے کے تمام ارادے ڈوبے مگر وہ نہ ڈوب پایا۔

کل وقتی شعری مزاج کا جز وقتی شاعر

تالیف حیدر: اسید صاحب اس میدان میں جس شاعر سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں وہ امام احمد رضا خاں بریلوی کی ذات ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کل شاعری لہجے کے مطابق علامہ اقبال ؔ اور جوش ؔ سے قریب نظر آتی ہے۔

جدید ادبی اظہاریہ اور تصوف کے فقدان کی گاتھا

تالیف حیدر: اردو کی وہ روایت جس کو تاریخ کے حوالے سے اردو ادب کی سب سے مستحکم روایت کہا جا سکتا ہے وہ تصوف کی روایت ہی ہے