رقص بسمل

رقص بسمل

ادارتی نوٹ: جولائی 1518 میں سٹراس برگ کی سڑکوں پر فراو ٹرافیا کے ناچ سے قرون وسطی کی اس وبا کا آغاز ہوا جو ایک ماہ تک جاری رہی۔ اس وبا کے دوران چار سو کے قریب افراد وحشیانہ انداز میں بے کھائے پیے سڑکوں پر دیوانہ وار ناچتے رہے اور انجام کار موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ "رقص بسمل" انہی کشتگان جنوں پیشہ کی یاد میں لکھی گئی کہانی ہے۔

فنا اپنی خواہشوں سے عاجز اور طاقت سے اُکتائی ہوئی مرگ کے لازوال سنگھاسن پرسر نیہوڑائے بیٹھی تھی۔ عاجز اس لیے کہ خاتمے کی مسلسل خواہش اسے بے چین کیے رکھتی تھی اور اُس کے بس میں تھی۔ مگر ایک ساتھ تمام تر زندگی کی موت اس کی اپنی ذات کا اختتام ہوتی اور وجود کے بغیر عدم کا کیا تصور؟ سو دُور اندیشی سے کام لے کر اُس نے اپنی فطرت کو تفریح کی لگام ڈال لی۔ مگریہ بھی کتنی دیر؟ فنا کی ہر نئی ترکیب چند دن میں باسی ہو جاتی اور اس میں سے بدبُو کے ویسے ہی بھپارے اٹھتے جیسے پچھلی مرگ سے اٹھے تھے۔
اور اُکتاہٹ اس بات کی کہ کوئی شے اس کے قبضہ قدرت سے باہر نہ تھی۔۔۔۔۔
اس نے زندگی کو طاعون سے مارا، بہت مزہ آیا۔ بڑے دن گہما گہمی کے گزرے مگر انجام وہی یکسانیت۔ جنگلوں کو آگ لگا ئی اور بانسری بجا کر زندگی کو جلتے دیکھا۔ یہ تماشہ بھی بہت دیر نہ چلا
آخر اس زندگی کے بس میں کیا ہے جومیرے ہوتے ہوئے بھی ہزار رنگ میں جیتی ہے۔ فنا جھنجھلا اُٹھتی اور اس کے ایک اشارے سے گاوں کے گاوں، جنگلوں کے جنگل خاکستری ہو جاتے۔ پھر مرگ کی اسی خاک سے زندگی سر اٹھاتی، پھوٹتی، اُگتی، چہچہاتی تو اُس کا رنگ ایک ہزار ایک واں ہوتا اور فنا بہت دیر اُداس رہتی۔
اس نے زندگی کو طاعون سے مارا، بہت مزہ آیا۔ بڑے دن گہما گہمی کے گزرے مگر انجام وہی یکسانیت۔ جنگلوں کو آگ لگا ئی اور بانسری بجا کر زندگی کو جلتے دیکھا۔ یہ تماشہ بھی بہت دیر نہ چلا۔ قحط بپا کئےاور سسکیوں سے لے کرمعدومیت تک کا جلترنگ بڑی محویت سے سنا۔ مگر کب تک؟ اس نے زلزلے منعقد کیے۔ سیلابوں کی بستیوں تک رہنمائی کی۔ موت کو ہزار طرح سے طوالت دے کر بے وقعت سانس کے گردزندگی کی بےبسی کو ناچتے دیکحا مگر سب بے سود۔ انت وہی بدبُو کا ایک بھپکا۔
سو ایک روز فنا بےزار ہو کر اٹھی اور کسی نئی دنیا کا رُخ کرنے کا سوچا جہاں شاید موت زندگی سے زیادہ دلچسپ ہو سکے۔ اس نے بےمزہ اور بد رنگ دنیا کو ایک سرد اور بے خواہش نظر سے دیکھا اور جانے کو تیار ہو گئی۔
بقا کو ہمیشہ سے اسی لمحے کا ڈر تھا۔ وہ فنا کے تلُون سے آشنا تھی۔ سو وہ بھی اٹھی اور فنا سے چند قدم آگے چلتے ہوئے راہ میں پڑے ایک گدا گرکے ساز کو ٹھوکر مار دی۔ یہ ٹھوکر ساز سے سُر ہو کر نکلی اور گدا کے سینے میں جا گھسی تو وہ بوکھلا کراٹھ کھڑا ہوا، "میں حیات ہوں، میں ممات ہوں، میں حق ہوں" گدا چلایا اور زندگی کی ٹھکرائی ہوئی آواز میں کے نشے میں سرمست ناچنے لگا۔یہ صداقریب سے گزرتے ایک چرواہے کی بکریوں کے ممیانے اور اُن کے گلے میں پڑی گھنٹیوں میں بھی سرایت کرگئی اور اور پھر چرواہا ناچنے لگا، اس کی بکریاں ناچنے لگیں۔ گھنٹیاں رقص میں آئیں تو ان کی آواز سے راہی ناچنے لگے۔ کوئی ناچتا ہوا گیا اور ایک ساز لے آیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے راہ میں ایسا عظیم الشان میلا لگا کہ کسی نے کاہے کو دیکھا ہو گا۔
ہر رقاص کے قدموں میں اس آگہی کا ساز تھا کہ وہ آغاز ہے اور وہی انجام، اور اُس کے سوا کچھ حقیقت نہیں۔ یہ رقص بڑھتے بڑھتے شہر کی حدود میں بھی داخل ہو گیا
ہر رقاص کے قدموں میں اس آگہی کا ساز تھا کہ وہ آغاز ہے اور وہی انجام، اور اُس کے سوا کچھ حقیقت نہیں۔ یہ رقص بڑھتے بڑھتے شہر کی حدود میں بھی داخل ہو گیا۔
زندگی موت کے منانے کو اس کے سامنے رقصاں ہوئی۔ ناچتی رہی اور ناچتی چلی گئی۔ ۔ ۔
فنا حیرت میں گم یہ منظر دیکھتی رہی اور یہ صدا سنتی رہی۔ رُکی رہی اور سنتی رہی، کھڑی رہی اور دیکھتی رہی۔ ۔ ۔ اس رقص کے حُسن نے اس کی حرکت سلب کر لی تھی۔
دن ڈھلا، شام ہوئی، رات پڑی اور پھر سورج طلوع ہوا۔ دوپہر اگلی شام میں اور شام اگلی رات میں اور اگلا دن پھر سے اگلے دن میں بدل گیا۔ناچتے ہوئے قدم زخموں سے بھر گئے اور راہیں لہو میں ڈوبنے لگیں۔
رقص اپنا حُسن کھونے لگا تب فنا اس کے سحر سے باہرآئی، اپنا آپ سمیٹا اورخود پر نگاہ کی۔ اُسے یاد آیا کہ وہ یہ بد مزہ دنیا چھوڑنے کا ارادہ کیے ہوئے تھی کہ اس رقص کا آغاز ہوا اور پھر۔ ۔ ۔ پھر اسے کچھ یاد نہ آیا اس صدا کے سوا کہ " میں زندگی ہوں، میں موت ہوں اور میرے سوا کچھ نہیں ہے"۔ تبھی اس پر آگہی کا ایک لمحہ کھلا اورفنا مُسکرادی۔ فنا مُسکرائی اورآگے بڑھ کر جانکنی کے کرب میں سسکتے ایک ساز کو ٹھوکر مار دی۔ ساز نے آخری ہچکی لی اور خاموش ہو گیا۔ یہ خاموشی بھنورکی لہروں کی طرح رقص کرتے قدموں سے ٹکراتی رہی اوروہ ایک ایک کر کے ساکت ہوتے چلے گئے۔ ۔ ۔
فنا اپنی ذات کے اس رخ سے بے حد مطمئن تھی۔ بھلا عدم کے بغیر وجود کی کیا حقیقت۔
زندگی نے سُکھ کا سانس لیا۔ اُس نے خود کو بچا لیا تھا۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Shehar Bano

Shehar Bano

Shehar Bano is a painter, writer and dress designer.


Related Articles

محبت کی گیارہ کہانیاں (تیسری کہانی)

تصنیف حیدر: میں بی اے سکینڈ ائیر کی طالبہ ہوں اور اب میں کلاس میں جارہی ہوں ، جو میرے اونگھنے اور باہر دیکھتے رہنے کی سب سے پسندیدہ جگہ ہے۔

نواب تہذیب بیگم

محفل رقص و موسیقی اپنے عروج پر تھی تہذیب بیگم اپنی مترنم آواز میں سامعین کے دلوں کے تار چھیڑ رہی تھیں۔ بالا خانے میں موجود ہر شخص عالم بے خودی میں جھوم رہا تھا۔

باپ دادا

رفاقت حیات: پاؤں کےجس چکر نے دادا کی زندگی کو ہمیشہ ایک گردش کا اسیر بنائے رکھا، اب وہی چکر ابو کے پیروں میں آ پڑا تھا۔