رنگ

رنگ

سب حیران رہ گئے جب اچّھا رات دس بجے ہی گھرواپسی کو اٹھ کھڑا ہوا۔

اس وقت ہم چاروں دوست حسبِ معمول میرے ڈیرے پر تاش کھیل رہے تھے۔ تاش ابھی ابھی شروع ہوئی تھی جس کا مطلب ہے کہ رات بھی ابھی شروع ہوئی تھی۔ دس بجنے میں ابھی پانچ منٹ باقی تھے۔ ’’رنگ‘‘ کا رنگ جمنے بھی نہ پایا تھا کہ اچّھے نے تاش پھینٹنے کی بجائے اکٹھی کر کے ایک طرف رکھ دی۔ یہ اشارہ کھیل ختم کرنے کا تھا۔ڈاکٹر نے فوراً ہی گھڑی دیکھی اور ساتھ ہی جیب سے سگریٹ ماچس برآمد کر لیے:’’لگتا ہے، آج اچّھے کا چائے بنانے کو دل ہے۔ ٹھیک ہے یار۔اٹھو ذرا چھوکری قسم کی چائے تو پلاؤ۔‘‘

’’چاہ ہو جئے تو سادہ سرگٹ بھی ڈبل کا مزہ دے۔‘‘ کالو نے لقمہ دیا۔

’’نئیں یرا۔میں تو جا رہا ہوں …گھر۔ تم لوگ بیٹھو اور گپ شپ کرو۔‘‘اچّھے نے بھی اپنا ولز کنگ کا سگریٹ سلگایا اور دونوں ٹانگیںمیز پر رکھ کر بڑا پر سکون ہو کر سوٹے مارنے لگا۔

کالو نے تاش اٹھائی اور اس کا پنکھا بنانے لگا:’’سدھی طرح کیوں نہیں کہتا کہ سرگٹ پینے کو دل کر رہیا ہے۔ گھر جانے کا بہانا کیوں کرتا ہے۔‘‘

’’نئیں…میں تو بس یہ آخری سگریٹ پیوں گا ا ور… گھر۔‘‘

’’فضول بکواس نہ کر۔ یہاں رنگ تیرا پیو کھیلے گا۔ چوتھا بندہ … تمہاری … سے نکالیں گے۔ ‘‘کالو نے اسے گھورا۔

’’نہیں او یارا۔ ایویں بونگیاں مار رہا ہے۔ یہ کہاں جائے گا۔یہ تو رات کو بھی بھگتا کر گھر جانے والا شخص ہے۔‘‘

مجھے تو یقین تھا کہ اچّھا اتنی جلدی گھر نہیں جانے والا۔ ابھی تو اس کی دوپہر بھی نہیں ہوئی۔ ابھی چلا گیا تو اسے نیند کہاں سے آئے گی۔ اس کی نیند تو اذانِ سحر کی محتاج تھی۔ ادھر صبح کی اذان بلند ہوتی، ادھر اس کے چہرے پر پہلی جمائی پھوٹتی۔ نمازیوں کو گھروں سے نکلتا دیکھنے کے بعد ہی کہیں اسے گھر جانے کی ہڑک پیدا ہوتی تھی۔ اور وہی اچّھا آج اتنی جلدی گھر جانے کو کہہ رہا تھا۔ یہ ممکن ہی نہ تھا۔ مجھ سے زیادہ کون جان سکتا تھا۔تاش سے تو ہم لوگ دو بجے تک اٹھ جاتے تھے۔ ڈاکٹر اور کالو نے صبح اپنی اپنی دیہاڑی لگانی ہوتی تھی، سو انہیں توگھر واپسی ضروری تھی۔ پر میں اور اچّھا ان کے بعد بھی بیٹھے رہتے۔ کبھی تو پنکھا چلا کر ڈیرے پر ہی بیٹھ جاتے، جو تاش کے دوران،پتے بکھرنے کے اندیشے سے بند ہی رہتا تھا۔ اگر کسی دن اچّھا زیادہ حساس ہو رہا ہوتا تو پھر پنکھے کی آوازاس کے اعصاب برداشت نہ کر پاتے اور ہم ڈیرے سے نکل کر گلیوں میں گھومنے لگتے۔ آج کل ہم دونوں باقاعدگی سے’’ سیانوں‘‘ کے پاس بیٹھ رہے تھے۔ ’’سیانے‘‘ ہم نے ایک خاص جگہ کو نام دے رکھا تھا۔ گاؤں کے مرکزی چوراہے میں ایک بڑے سے تھڑے پرسارا دن گاؤں کے بڈھے ٹھیرے لوگ چوپال جمائے بیٹھے آپس میں اپنے اپنے تجربے بانٹتے رہتے۔ خوبیِ قسمت سے یہ چوراہا ایسا تھا جہاں سے اپنے اپنے گھر جاتے ہوئے میرا اور اچّھے کا راستہ جدا ہوتا تھا۔ ایک رات گھر جانے سے پہلے ہم وہاں تھوڑی دیر کو رک گئے۔ وہاں بیٹھ کر جو اچّھے نے گفتگو شروع کی تو ایسے ایسے کمال کے جملے کہے کہ ہم دونوں ہی حیران رہ گئے۔ اتنی عقل مندی کی باتیں …اچّھے کو سوجھیں کیسے؟ میں تو اس نتیجے پر پہنچا کہ اس تھڑے پر چونکہ دن بھر سیانے بابے بیٹھے رہتے ہیں،لگتا ہے ان کی سیانپ کا اثریہاں ہر وقت رہتا ہے۔ بس اسی اثر سے اچّھا بھی سیانا ہو گیا ہے۔ اب کیا تھا، ہم نے اس جگہ کو ’’سیانے‘‘ کا نام دے دیا اور معمول بنا لیا کہ رات کو تاش کے بعد کافی دیر ’’سیانوںکی معیت‘‘ میں بیٹھا کرتے۔وہاں اچّھا صاحب ولز کنگ کی پوری پوری ڈبی پھونک ڈالتے، پر باتیںایسی گجھی ہوئی کرتے کہ اصل سیانے بھی سنتے تو اس سے دانائی کادرس لیتے۔

سگریٹ ختم ہوا تواچّھا اٹھ کے چل پڑا:’’ ٹھیک ہے یرا، میں چلتا ہوں، آئندہ دس بجے تک ہی بیٹھا کروں گا۔ جب تک میرا ابا واپس نہیں جاتا، تب تک تم اپنے لیے کوئی چوتھا سنگی ڈھونڈ لو۔‘‘

کالو نے اپنی چنید ہ گالیوں سے اسے نوازا۔ ڈاکٹر نے سوشل بائیکاٹ کی دھمکی دی۔ تاش کا واسطہ بھی دیا گیا، سیانوں کی بھی یاد دلائی گئی مگر وہ ذرا بھی ماٹھا نہ پڑا اور اُٹھ کے گھر چلا گیا۔کالو نے تاش میز پر پٹخی اور غصے میں اندرجا کے کمرے سے پنکھا اٹھا لایا: ’’ اس حرامی کی وجہ سے تاش نہیں کھیل سکتے، پنکھا توچلا لیں۔ ہم کوئی دوزخی نہیں کہ ’’جھڈوؤں ‘‘کی طرح اس گرمی میں بیٹھے رہیں۔‘‘

وہ غصے میں بڑ بڑ کرتا رہا۔ ڈاکٹر اپنے خاص فلسفیانہ انداز میں سوٹا لگاکر یوں دھواں نکالتے ہوئے،گویا کوئی جن برآمد کرنے والا ہو، بولا:’’ پر باوا، سوچنے والی بات یہ ہے کہ وہ گیا کیوں، اسے تو اتنی جلدی کبھی بھی نہ ہوتی تھی، بلکہ وہ جو تم نے ایک شاعر بتایا تھا جو ساری رات سڑکیں ناپتا رہتا تھا… کیا نام…‘‘

’’ناصر کاظمی یار۔‘‘

’’ہاںوہی… اسی کی طرح یہ بھی سب سے آخر پر گھر جایا کرتا ہے۔ تو پھراب اسے کیا تکلیف ہو گئی ہے؟‘‘

’’ آ ہاں… تم نے کہا تو مجھے یاد آیا کہ اُس شاعر کا ایک شعر بالکل اسی موضوع پر ہے، سمجھو کہ ناصر نے اسی موقع کے لیے یہ شعر کہا تھا:

وہ میکدے کو جگانے والا، وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

جب میں نے شعر ان دونوں کو ذرا سا سمجھایا تو دونوں مچل اٹھے:’’واہ، واہ۔‘‘ اور کالو نے تو اپنے خاص انداز میں کہا:’’لگتا ہے، ناصر نے یہ شعر اسی بھوسڑ کے لیے لکھا تھا۔‘‘

’’پر سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ گیاکیوں؟‘‘ ڈاکٹر کی چرخی ابھی تک اسی محور پہ گھوم رہی تھی۔

’’بتا کر نہیں گیا کہ پیو کے ڈر سے …؟ اب ہم پر یہ ویلا بھی آنا تھا کہ باپ کے ڈر سے تاش کھیلنا چھوڑ دیں۔‘‘کالو غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے کرسی کے ہتھے پر کبھی کبھی مکہ مار دیتا۔

’’ابا جب تک یہاں ہے…!اس کا کیا مطلب ہے؟ اِسے ابے کا اتنا خیال تھا کب، اور پھر اِس کا ابا تو پچھلے چھ ماہ سے گھر آیا بیٹھا ہے۔ اب تو اُس کی چھٹی بھی ختم ہونے والی ہے۔ پہلے اِسے کبھی ابے کا خیال نہیں آیا۔ آج ابے کی اتنی دہشت کیوں؟‘‘

’’ہو سکتا ہے کل تک اسے یقین ہی نہ ہو کہ یہی اس کا باپ ہے۔ اور آج ہی اماں نے اسے قسم دی ہو کہ تم حلال کے جنے ہو۔‘‘ کالو کا غصہ اسی طرح مستقل ہوا کرتا تھا:’’ اتنا بھی نہ سمجھا کہ ماں جھوٹ بھی تو بول سکتی ہے۔‘‘

’’تم خواہ مخواہ ابل گئے ہو۔ بندے کی کوئی مجبوری بھی تو ہو سکتی ہے۔‘‘

’’دفع کرو اس کو۔ کوئی کام کی بات کرو۔ کنجر کو آئندہ یہاں گھسنے نہیں دینا۔ کہتا ہے، بس دس بجے تک ٹھہرا کروں گا۔ یہ کتے کا بچہ، احسان کرے گا ہم پر۔ جب ہم چوتھا سنگی ڈھونڈ لیں گے تو پھر ہمیں کیا ضرورت ہے تم جیسے شہدے کی۔ ہم ہر روز وکھرے وکھرے لوگوں سے کیوں…‘‘

’’پر سوچنے کی بات تو یہی ہے نا کہ اسے ہوا کیا، باوا بھی تو نہیں بتا رہا، اسے تو کچھ پتا ہو گا کہ وہ آج جلدی کیوں چلا گیا۔ ‘‘
’’میں کیا بتاؤں یار، میں تو خود حیران ہوں کہ بیٹھے بٹھائے اس کے اندر ابے کی اندھی محبت کہاں سے آ گھسی کہ وہ تاش کو چھوڑ کے چلا گیا۔‘‘

’’میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ کل تاش کے لیے چوتھا سنگی کسے بناؤں۔ میرا مسیر بہت اچّھارنگ کھیل لیتا ہے، کوشش کروں گا کہ اسے گھیر لاؤں، وہ اس حرامی کی طرح بزدل نہیں ہو گا کہ دس بجے جا کر ابے کی بغل میں بیٹھ جائے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب تو اچّھے نے دس بجے گھر چلے جانا معمول بنا لیا تھا، کالو کو شک تھا کہ اچّھا ڈیرے سے اٹھ کر سیدھا گھر نہیں جاتا بلکہ کسی اور جگہ رات رنگیلی کرتا ہے۔ عاشقی معشوقی میں یاروں کی یاد حرام زادی کب آتی ہے۔ لیکن ایک دن خود اچّھے کی اماں نے کالو کے سامنے اچّھے کی تعریف کی کہ پتا نہیں کیسے اسے عقل آ گئی ہے، اب تو دس بجے ہی لوٹ آتا ہے۔ اس کا ابا بے چارہ جب سے آیا، کھپتا رہتا تھا کہ رات کو جلدی گھر آ جایا کرو مگر وہ انسان نہ بنا تھا، کبھی چاربجے تو کبھی پانچ بجے آ دیوار پھلانگتا۔ اگر وہ اس قدر گبھرو جوان نہ ہوتا تو اس کا ابا اس کو خوب پھینٹی لگاتا مگر ڈرتا ہے کہ جوان بیٹا ہے، کہیں جواباً اس پر ہاتھ نہ اٹھا دے۔ بس منہ سے کہتا رہتا ہے لیکن اس نے بھی مان کر نہ دی۔ پر پچھلے دس بارہ دن سے بڑا فرمانبردار بنا ہوا ہے۔ ابھی ہم سب جاگ رہے ہوتے ہیں کہ وہ لوٹ آتا ہے۔ اس کا ابا بھی اس سے بہت خوش ہے۔
کچھ دن میں ہم بھی اُس کے اِس نئے معمول کے عادی ہو گئے۔ وہ ڈیرے پر آتا، بمشکل آدھا گھنٹہ بیٹھتا اور واپس چل دیتا۔ ڈاکٹر نے ایک دو دفعہ اسے باز رکھنا چاہا تو وہ تھوڑا اُکھڑ گیا۔
’’تم لوگ دیہاڑیاں لگاتے ہو ناں؟ کیوں لگاتے ہو؟‘‘
’’کیوں کا کیا مطلب؟ گھر والوں کا پیٹ بھرنا ہوتا ہے اور کیا۔‘‘
’’تم گھر والوں کے لیے دیہاڑی لگاتے ہو اور میں گھر والوں کے لیے جلدی لوٹ جاتا ہوں۔ میں نے کبھی تم لوگوں کو دیہاڑی لگانے سے روکا؟ تو پھر تم مجھے کیوں روکتے ہو؟‘‘
ڈاکٹر کو کوئی جواب نہ سوجھا۔
ڈیرے پر اب تاش کم، گپیں زیادہ چلتیں۔ ہمیں چوتھا کھلاڑی نہ مل سکا، اسی لیے اچّھے کے اٹھنے تک رنگ کی دو بازیاں لگتیں اور پھر چادر لپیٹ دی جاتی۔ ڈیرے پر رات دیر تک بیٹھنے کی عادت بنی ہوئی تھی، اسی عادت کو نبھانے کے لیے بیٹھے رہتے ورنہ تاش کے بغیر کہاں مزہ آتا تھا۔ ڈاکٹر تو کہا کرتا تھا کہ جن دوستوں کے درمیان تاش بٹنا ختم ہو جائے، وہ خود بٹ جاتے ہیں۔ یہ تاش کے باون پتے ہیں جو دوستوں کو باندھ رکھتے ہیں۔ ہم لوگوں نے اتنی مدت اکٹھے تاش کھیلی تھی کہ لگتا، تاش ہمارا پانچواں دوست ہے۔ تاش کے بغیر ہمیں مل بیٹھنا عذاب ہو جاتا تھا۔ آخر فارغ بیٹھ کر ایک دوسرے سے کیا بات کریں؟ تاش کے ساتھ تو عجب معاملہ تھا، ادھر پتے سب کے ہاتھ میں آئے اور ادھر دنیا بھر کے موضوع یاد آنے لگے۔ پتا پھینکا جا رہا ہے اور ہستی کے مسائل پر بحث ہو رہی ہے۔تاش پھینٹی جا رہی ہے اور زمانے بھر کے فلسفے چھانٹے جا رہے ہیں۔ اب تاش کے بغیر ہم ایک دوسرے کی گفتگو سے بیزار ہونے لگے تھے۔ یوں جیسے محض دکھاوے کے لیے باتوں کی تسبیح رول رہے ہوں۔ کالو بیٹھا بے لطفی سے پتے پھینٹتا رہتا۔ بد مزگی اس کے ہر ہر روم سے عیاں ہوتی تھی۔ میں اور ڈاکٹر بھی اکتائے اکتائے سے بیٹھے رہتے۔کئی بار ہم نے تین کھلاڑیوں والا رنگ کھیلنا شروع کیا مگر عادت نہ تھی، بدمزگی میں اضافہ ہی ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر ایک دن ڈیرے کی رونق پھر سے بحال ہو گئی۔ اچّھے کا ابا واپس بحرین چلا گیا اوراچھّا اس شب پھر رات دیر تک تاش کھیلتا رہا۔ اب وہ پھر وہی پرانا اچّھا تھا، ڈیرہ پھر تاش کا ڈیرہ بن گیا۔ ڈاکٹر اور کالو دوبجے چلے جاتے اور میں اور اچّھا سیانوں کے پاس جا بیٹھتے۔ اس کا ولز کنگ جلتا رہتا، باتوں کا سلسلہ چلتا رہتا۔ ایک دن پتا نہیں کس لہر میں رواں تھا کہ مجھ سے پوچھنے لگا۔

’’تمہیں اندازہ ہے کہ پچھلا پورا مہینہ میں جلدی گھر کیوں جاتا رہا؟‘‘
’’نہیں۔ میں نے بہت سوچا مگر ذرا بھی اندازہ نہ کر سکا۔‘‘
’’بس یرا، یہ بھی ایک الگ ہی معاملہ تھا۔‘‘ اس نے تھڑے پر ٹانگیں پھیلا لیں:’’ بات توبتانے والی نہیں مگر تم سے اپنا اتنا پردہ بھی نہیں۔ اور میں خود چاہتا ہوں کہ کسی سے یہ ساری گل سانجھی کروں۔‘‘
’’تو پھر بتا دو۔ بجھارتیں کیا ڈال رہے ہو۔‘‘

’’بتاتا ہوں یرا…پر نکتہ باریک ہے… سمجھانے کے لیے شروع سے بات کرنی پڑے گی۔ تم جانتے ہو کہ میرا ابا مارچ سے گھر آیا بیٹھا تھا۔ تب سے وہ مجھے جھڑکتا رہتا تھا کہ میں جلدی گھر کیوں نہیں آتا۔ اسے بڑا دکھ ہوتا تھا، رات کو میرے گھر نہ ہونے سے۔ وہ کہتا تھا: ’میں بحرین سے آیا ہوں کہ اپنے پتر دھیوں سے مل آؤں۔ چھ مہینے کی چھٹی لایا ہوں کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کچھ وقت گزار آؤں،سوچا تھا اپنے اکلوتے پتر سے جی بھر کے باتیں کروں گا۔مگر اسے ذرا بھی غیرت نہیں آتی،گھر ہوتے ہوئے بھی مجھے نظر نہیں آتا۔ساری رات کتے کی طرح لور لور کرتا رہتاہے۔سارا دن مگر مچھ کی طرح سویا رہتا ہے۔کچھ کھانے کو مل گیا تو اونٹ کی طرح ہر چیز لپیٹ گیا۔ نہیں تو بھینس کی طرح خاموش پڑا رہے گا۔اس میں انسانوں والی کوئی عادت ہی نہیں۔ باپ اتنی مدت بعد گھر آیا ہے،ذرا دیرکو اس کے پاس بھی بیٹھ، کچھ اس کی سن، کچھ اپنی سنا۔ مگر نواب صاحب گھر پر ٹھہریں تو ناں۔ لوگوں کی اولاد ایسی نیک ہے کہ ماں باپ کی اجازت کے بغیر قدم بھی نہیں اٹھاتی،ایک مجھے یہ اللہ میاں کا تحفہ مل گیا ہے، پتا نہیں کب اسے باپ کا خیال آئے گا۔‘ تو یہ تھا میرے باپ کا مسئلہ، وہ میرے ساتھ بات کرنا چاہتا تھا اور آخر اس کی خواہش کیوں نہ ہوتی، ساری عمر اس نے بحرین مزدوری کر تے گزار دی، کس کی خاطر، میری خاطر ناں، اب وہ بس اتنا چاہتا تھا کہ میں اس کے ساتھ دو گھڑی گپ شپ ہی کرلوں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ چاہتا تھا کہ میں بیٹے کی طرح اس سے ملوں…‘‘

’’یہ خیال اُس کی چھٹی کے آخر میں تمہیں کیسے آیا … پہلے کیوں نہیں؟‘‘

’’نہیں تم پوری بات تو سنو۔ وہ تو چاہتا تھا کہ میں بیٹے کی طرح اس سے ملوں، اس کے پاس بیٹھا کروں لیکن مجھے اِس کی عادت ہی نہ تھی، وہ کب میرے سامنے باپ کی طرح رہا تھا۔ یہی چھ مہینے کی چھٹی وہ میرے بچپن میں کبھی آ جاتا تو میرا ذہن اسی وقت ا س کو اپنا باپ مان لیتا۔ جب وقت تھاتب اس نے مجھ سے باپ کا رشتہ نہیں بنایا۔ اب وہ چاہتا تھا کہ میں اس کا بیٹا بن جاؤں، یہ کیسے ہو سکتا تھا۔ میں اکثر سوچتا تھا… ذرا ماچس تو دینا… کہ جب مجھے اس کی ضرورت تھی، وہ میرا نہیں بنا تو اب اس کی ضرورت پوری کرنا کیا مجھ پر فرض ہے ؟ نئیں یرا، یہ ولز کا سگریٹ بھی انتہائی گھٹیا ہوتا جا رہا ہے، جیسے تمباکو کی جگہ بھوسا بھرا ہو، کوئی سواد ہی نہیں آتا۔‘‘
’’بس، تم جانتے ہو آج کل دو نمبر سگریٹ بہت ہو گئے ہیں۔‘‘

’’نئیں او یرا!جب سے یہ بجٹ میں ان پر ٹیکس زیادہ لگا ہے، تب سے ان کا سٹینڈر ہی نہیں رہا۔ ٹیکس لگاتے وقت بھی یہ کہاں خیال رکھتے ہیں غریبوں کا… کالو بجٹ بنانے والوں کو گالیاں دیتا ہے تو بڑا مزہ آتا ہے۔ یہ لوگ ہیںبھی…‘‘

’’سگریٹ اور کالو دونوں کی …‘‘

’’ہاں یرا …ابا کہتا ہی رہا کہ رات کوجلدی گھر آ جایا کرو یا دن کو دوگھڑی میرے پاس بیٹھ جایا کرو مگر میں نے بھی ایک طرح سے ضد ہی بنالی تھی کہ ابے کی نہیں سننی۔ جو میری مرضی ہو،وہی کروں گا۔صورت حال یہاں پر تھی کہ وہ واقعہ پیش آگیا۔ ہوا یوں کہ اس رات ہم ڈیرے سے دو بجے اٹھے اور’’ سیانوں‘‘ کے پاس بیٹھے ہی نہیں، یوں میں معمول سے قبل گھر پہنچ گیا۔ڈیوڑھی کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ حسبِ معمول میں نے بھی دیوار پھلانگی اور اندر۔ آج کل سب ہی گھر والے ویہڑے میں سوتے ہیں۔تمہیں پتا ہے کھڑا پنکھا ہمارے گھر ایک ہی ہے۔سب سے پہلے پنکھے کے ساتھ میری چارپائی ہوتی ہے۔ اس کے بعد بے بے اور بابے کی۔ پھر ابے کی، اس کے بعد چھوٹی بہنوں کی دو چارپائیاں اور آخر پر تقریباً دیوار کے ساتھ اماں کی چارپائی۔ اس رات چاند کی ۲۱ یا۲۲ ہو گی۔ روشنی بہر حال اتنی تھی کہ صحن میں سوئے سب لوگ دھندلے دھندلے نظر آتے تھے۔ میں دیوار پھلانگ کر اماں کی چارپائی کے قریب اترا۔ دیکھا تو اماں اپنی چارپائی پر نہ تھی۔ادھر اُدھر دیکھا،گھر کے سبھی کمرے گھپ بند تھے۔ ادھر…غسل خانے کی بتی بھی آف تھی۔یہ اماں کہاں گئی؟ میں نے ذراسی اونچی آواز دی’’اماں۔ اے اماں۔‘‘ لیکن تھوڑی دیر بعد مجھ پر انکشاف ہو گیا کہ اماں ویہڑے میں ہونے کے باوجود بولنے جوگی نہیں ہے۔ میں تیز تیز قدم چلتا اپنی چارپائی تک پہنچا اور اوندھا ہو کے پڑ رہا۔‘‘

’’تو اماں کہاں تھی…؟‘‘ میں حیران ہو گیا:’’ اوہ ہ ہ… … ‘‘

’’ہوں۔ درست سمجھے۔اب خود دیکھو، ایسے موقع پر میں کیا سوچتا؟…صبح میں نے یوں ظاہر کیا جیسے مجھے رات کو کچھ پتا ہی نہ چلا۔ اور وہ بھی ایسے ہی رہے، گویا رات کو کچھ ہوا ہی نہیں۔‘‘

’’ تو پھر …؟‘‘

’’تو پھر یہی کہ میں نے تم لوگوں سے معذرت کر لی اور جلدی گھر آنے لگا۔اس رات میں سونے کی بجائے سوچتا ہی رہاتھا۔ میں سمجھ گیا، ابا مجھے جلدی گھر آنے کو کیوں کہتا تھا۔ میرے گھر لوٹنے کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا، میرے آنے سے پہلے تک وہ گھبراتے ہوں گے کہ پتا نہیں کب اچّھا دیوار پھلانگے اور ان کے سر پر آن پہنچ جائے۔اس لیے میرا ابا مجھ سے کلپتا رہتا تھا کہ جلدی گھر آجایا کرو۔ میں جب اس نکتے پر پہنچ گیا تو میں نے جلدی گھر جانا اور وقت پرسونا شروع کر دیا۔ اب یہ سوچ سوچ کر مجھے بڑی مسرت ہوتی ہے کہ آخری ایک مہینہ اماں کس طرح کھل کر اپنی چارپائی سے اتری ہو گی۔ایک اور ہی نشے میں… ابا بھی ہنستے بولتے بحرین سدھارا ہے۔‘‘

وہ خاموش، دھواں پیتا رہا۔میں اس کے سگریٹ پر نظر جمائے بیٹھا رہا۔کافی وقت گزر گیا۔اس کا سگریٹ بجھے بھی بڑی دیر ہو چکی تھی۔ میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا:’’چلیں یار گھر، اب تو لگتاہے، تیرے سگریٹ بھی ختم ہو گئے۔‘‘

اس نے ولز کنگ کا نیا پیکٹ نکالا، سیل کھولی، سگریٹ سلگایا اور دو چار سوٹے مارنے کے بعدبڑے اطمینان سے کہنے لگا:’’ابا اب بحرین پہنچ چکا ہے۔ اب گھر جا کے کیا کروں گا… ہم تو بات کر رہے تھے کہ بجٹ کے بعد ولز کنگ بہت خراب ہو گیا ہے۔ پتا نہیں یہ ٹیکس کا سگریٹ کے سٹینڈر پر کیا اثر پڑتا ہے؟‘‘

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Muhammad Abbas

Muhammad Abbas

محمد عباس جہلم کے گاؤں طور میں 1983 میں پیدا ہوئے۔


Related Articles

جھیل

موت کے بے رحمانہ پروں سے آگ کے شعلے نکلے اور دیکھتے ہی دیکھتے بستی کو نگل گئے۔

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 14 دسمبر 1971- بونگلہ دیش سے پہلے۔۔۔

میں صبح وردی پہن کر باہر نکلا تو دیکھا کہ اسمبلی گراونڈ میں چھے بنگالی درختوں سے بندھے کھڑے تھے اور کوت نائیک صاحب ان سے برآمد ہونے والے اسلحے کا معائنہ کررہے تھے۔

نولکھی کوٹھی - دوسری قسط

علی اکبر ناطق: کوئلوں پر ہاتھ تاپتے ہوئے رفیق نے حقے کا کش لیا اور بولا، سردارغلام حیدر ایک بات تو طے ہے کہ حملہ سودھا سنگھ کے آدمیوں ہی نے کیا ہے اور چھپ چھپا کر نہیں، کھلے عام کیا ہے۔