روزنِ دیوار سے ملا نے دیکھا

روزنِ دیوار سے ملا نے دیکھا
حضرت مولانا نے بلاتوقف حکم صادر فرمایا کہ "پس تحقیق اس گناہ ِ کبیرہ کی سزا، سنگسار کرنا ہی ٹھہرتی ہے۔" اور پھر میدان سج گیا، لورالائی کے قریب کلی کوئی میں شادی شدہ مر د ا ور خاتون کو بدکاری کا مرتکب قرار دے دیا گیا، سیکڑوں کی تعداد میں جذبہ ِ ایمانی سے سرشار 'اہل ایمان' چٹیل میدان میں آن پہنچے۔۔ ہاتھوں میں بھاری بھرکم پتھر اٹھائے یہ 'پُر نور' چہروں والے اہل ایمان بے تاب تھے کہ بدکار مرد و خاتون کے سر وں پر کب ان کے 'ایمانی' پتھر برسیں گے۔ اور پھر مفتی صاحب نے اعلان کیا اور اجازت مرحمت فرمائی کہ اے مسلمانو، ٹوٹ پڑو اس بدکارجوڑے پر، اور انہیں سنگسار کر کے جہنم واصل کردو"۔ اور پھر 'مسلمانوں' کی اس جماعت نے پہلےسسکتی حیات بی بی سے حیاتی چھینی، اور پھر دراز خان کے سانسوں کو دراز ہونے سے فوراًروک لیا، چند ہی لمحوں میں یہ بدکار جوڑا جہنم واصل کر دیا گیا۔ اہل ایمان اس بدکار جوڑے پر پتھر برساتے ہوئے مسلسل اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے رہے۔۔
سرکار ِ دو عالم یاد آئے۔ قربان جاوں آپ کے اسوہ حسنی پر، کہ جن کے ہر فیصلے میں رحمت جھلکتی تھی، بصیرت ایسی کہ اعتراف ِ گناہ کرنے والوں سے منہ موڑ لیا کہ شاید اس امر سے کسی کو شدت گناہ کا احساس ہو جائے ، حکمت ایسی کہ دنیا کا ہر مفکر سرکار ِ دو عالم کی بصیرت سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ لیکن لورالائی کے مفتی صاحب نے شاید بذات خود تین دیگر گواہوں کے ہمراہ روزن ِ دیوار سے بدکاری کا فعل ہوتے دیکھ لیا تھا، تبھی تو مفتی صاحب نے آناً فاناً سنگسار کرنے کا فیصلہ سنا ڈالا اور اس سزا کو یقینی بنانے کے لیے خود چٹیل میدان میں موجود رہے۔۔ میڈیا پر خبر چلنے کے بعد مقامی انتظامیہ حرکت میں آئی ، ڈاکٹرز کے مطابق خاتون کو پتھر تو مارےہی گئے لیکن رہی سہی کسر آہنی راڈ مار مار کر پوری کی گئی، اور تو اور حیات بی بی کو بغیر کفنائے ہی دفن کر دیا گیا، دراز خان کی قبر کشائی کے بعد معلوم ہوا کہ انہیں پتھروں سے مار مار کر تھک جانے والے مسلمانوں نے ان کے سر اور چہرے پر گولیاں بھی برسائیں۔
شریعت کی ایسی خود غرضانہ تعبیر و تشریح، محدود علم، اور اسلامی قوانین سے مطلق لا علمی اسلامی قوانین پر سوالیہ نشان بن جاتے ہیں، کیونکہ یہ سوال اپنی جگہ بدستور قائم رہے گا کہ اس مخصوص واقعے میں گواہان کا اپنا علم، دینی فہم و فراست کا کیا معیار تھا؟؟ یہی وہ جاہل حضرات ہیں جو دین اسلام کی بد نامی کا باعث بنتے ہیں۔
پھر اچانک خبر آئی کہ رحیم یار خان میں مخالفین نے اپنے دشمن کا وہ حال کیا کہ اس کی سات نسلیں یاد رکھیں گی، مخالفین نے زور بازو کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے، اپنے دشمن کے ہونٹ کاٹ دئیے، جبڑے توڑ ڈالے، ناک کاٹ ڈالی، اور آخر میں زبان بھی چیر کے رکھ دی۔۔ یہ شخص اسپتال میں انتہائی نازک صورتحال میں زیر علاج ہے۔ لیکن ناچیز پورے وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ زور بازو کا بہیمانہ مظاہرہ کرنے والے یہ حضرات قانون نامی چڑیا کے شر سے کوسوں دور رہیں گے۔ (انشااللہ)
مہمند ایجنسی کے غیور طالبان بھی ذہن میں آئے۔ عمر خالد خراسانی کا نورانی چہرہ آنکھوں کو خیرہ کر گیا، سبحان اللہ، اہل ایمان نے مرتد تئیس ایف سی اہلکارون کے گلے کاٹ دئیے۔اور اسے عین شرعی فعل قرار دیا، ثبوت کے طور پر قرآن و حدیث کی کی من گھڑت تشریح کرتے ہوئے پمفلٹ بھی چھاپ دیا، جس میں نام نہاد تجزیہ کاروں اور صحافیوں کو گمراہ قرار دیا گیا ہے۔ ناچیز کے قارئین کو یاد ہو گا کہ پچھلی تحریر میں یہی سوال اٹھایا تھا کہ میرے عزیز۔۔ کونسی شریعت؟؟ یہاں ہر گروہ کی اپنی شریعت ہے، کسی نے شریعت کو سنگساری کے لیے استعمال کیا تو کسی نے تئیس ایف سی اہلکاروں کے گلے کاٹنے کو شرعی قرار دیا۔ لیکن اندازہ کیجیے سرکار دو عالم کی رحمت کا۔ غزوہ بدر میں کچھ یہودی قیدی فدیہ دینے سے قاصر تھے، لیکن تھےپڑھے لکھے، حکم ہوا کہ آپ لوگ مسلمانوں کے بچوں کے تعلیم دیں، یہی فدیہ ہو گا۔۔ لیکن مہمند ایجنسی کے طالبان نے کیا کیا؟؟
ایک ہی دن میں یہ تین واقعات اور فقیر کا محدود سا ذہن ادھر ادھر بھٹکتا رہا، اور سر شام خبر آئی کہ مائیکرو سوفٹ کے نئے سربراہ ستیہ نڈیلا سمیت تیرہ بھارتی ”کافر "اپنی علمی قابلیت کے بل بوتے پر دنیا بھر کی بڑی بڑی آئی ٹی کمپنیوں کےکرتا دھرتا ہیں۔ بس اس کے بعد زور بازو کا مفہوم مزید واضح نہ ہوسکا۔
Ajmal Jami

Ajmal Jami

Ajmal Jami is a journalist currently working with Dunya News as an anchorperson and special correspondent. His M. Phil thesis on Mumbai Attacks and Role of Media in Peace Process has been published as a book. He writes regularly on national politics and social issues for Laaltain and Dunya Blog.


Related Articles

بھٹو کی پھانسی اور ہمارا ادب

4 اپریل 1979 ہمارے سماج میں جہاں سیاست کے اندر ایک مستقل تلخی گھولے جانے کا عکاس ہے وہیں یہ دن ہمارے ادب کو نئی جہت ملنے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ میں جب اس حوالے سے اپنی یادوں کو کھنگالتا ہوں تو مجھے یاد آتا ہے کہ ڈاکٹر فیروز صاحب نے ایک مضمون اس وقت کے معروف جریدے پاکستان فورم میں لکھا تھا اور اس کا عنوان تھا 'بھٹو فیلیا، لوگ بھٹو سے محبت کیوں کرتے ہیں'۔ یہ مضمون اگرچہ سیاسی غرض سے لکھا گیا تھا مگراس میں ادبی چاشنی موجود تھی۔

نئے ذہنوں کو خوش آمدید

تالیف حیدر: نئے ذہن کا استقبال نئی قوموں اور نئے دنیاوں کے عروج کی موجب ہے ۔ ان کی تعظیم نئی کائنات  کےروشن نظاروں کی ضامن ہے۔ ہمیں نئے ذہن کا استقبال کرنا چاہئے اور اس  کی آمد کے جشن کو اپنی ذات کا مسئلہ تصور کرنا چاہیے۔

عراق، شام، تیل اور داعش

شروع میں داعش کی مالی مدد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کے امیر طبقات کر رہے تھے جو شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹانا چاہتے تھے۔ بعدازاں عراق اور شام کے تیل سے مالامال علاقوں پر قبضے سے اس تنظیم کو بے تحاشا آمدنی ہونے لگی ہے۔