روشنی کا لہو

روشنی کا لہو

وہ رات تھی
بہت سیاہ رات تھی
جو ہاتھ بھر کے فاصلے سے کیسے مُجھ کو ڈس گئی
بہت سیاہ رات ہی تھی کیا
یا زندگی کا رنگ تھا
جو چہرے سے اُتر گیا
وہ خواہشوں کی بیل تھی
جو آسماں کی اَور کو بڑھی چلی
مگر زمیں سے جا لگی
جو خاک سے لپٹ گئی
وہ رات تھی
مرے بدن میں چار سُو
میری نظر کے باغ میں
مری پھٹی قبا پر
جو نقش تھیں کہانیاں
جو خواب تھے بُنے ہوئے
کہ کاڑھ کر جنہیں نگاہ
خاک سے لپٹ گئی۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

نفرت بھیانک خواب کی طرح ہماری نیندوں میں آتی ہے

عذرا عباس: آنکھ کھولنے اور بند ہونے کے دورانیے میں
جو دیکھا تو صرف نفرت کو پنپتے ہوئے
نفرت جو ایک بھیانک خواب کی طرح روزہماری نیندوں میں آتی ہے

ایک گیت (پیڑا کتھا)

جمیل الرحمٰن: کوئی پنچھی نہ تارا نہ کوئی سکھی
موہے پیڑا کی سدھ بدھ بھی کب رہ گئی

خدا ایک آنسو مِرا بارشوں میں بہا دے

نصیر احمد ناصر: خدا، میری آنکھوں کو نظمیں بنا دے
خدا، میری نظمیں کہیں دور دیسوں کو جاتے
پرندوں کی ڈاریں بنا دے