روشنی کا لہو

روشنی کا لہو

وہ رات تھی
بہت سیاہ رات تھی
جو ہاتھ بھر کے فاصلے سے کیسے مُجھ کو ڈس گئی
بہت سیاہ رات ہی تھی کیا
یا زندگی کا رنگ تھا
جو چہرے سے اُتر گیا
وہ خواہشوں کی بیل تھی
جو آسماں کی اَور کو بڑھی چلی
مگر زمیں سے جا لگی
جو خاک سے لپٹ گئی
وہ رات تھی
مرے بدن میں چار سُو
میری نظر کے باغ میں
مری پھٹی قبا پر
جو نقش تھیں کہانیاں
جو خواب تھے بُنے ہوئے
کہ کاڑھ کر جنہیں نگاہ
خاک سے لپٹ گئی۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

مجھے ایک سرجن کی تلاش ہے

حسین عابد: میں اس مجنون نوحہ گر کے ساتھ اب نہیں جی سکتا
میں دل کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے ساتھ جیوں گا
جو اندھا دھند گالیوں سے لبریز ہے

رشتہ خور چوہے

قرۃ العین فاطمہ: یہ دنیا چوہوں کی آماجگاہ ہے
جو رشتوں کو کترتے رہتے ہیں

آستین کا سانپ

وجیہہ وارثی: وہ مجھے ڈس رہا ہے
کئی برسوں سے
تنگ جوتے کی طرح