روہنگیا جاگتا رہ

روہنگیا جاگتا رہ

شدودھن کا بیٹا ابھی سو رہا ہے
کسی پیڑ کی خامشی اوڑھ کر
بس وہی جانتا ہے کہ مٹی کو جب
آ گ تسخیر کر لے
تو نَم خوردگاں، آئنوں کے میاں
گریہ کرنے سے پرہیز کرتے ہیں
کم بولتے ہیں
زرا پَو پھٹے توزمیں پر بھڑکتی ہوئی آگ اوپر اُٹھے
اور اُچک لے سیاہی سے لتھڑے ہوئے سبز شانے
وہ شانے جو نروان کا بار سہنے کے قابل نہیں تھے
بہرکیف پہلے پہل تو بہت زرد تھے
شدودھن کا بیٹاابھی سو رہا ہے
روہنگیا جاگتا رہ
ابھی اور بھی جسم ہیں جن کی گنتی دھندلکے سے پہلے کی
لوحِ زماں پر رقم کر کے سونا ہے
اور سرخروئی میں سرسبز ہونا ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

کچھ لوگ کبھی واپس نہیں آتے

بدن بستروں کو طلاق دے دیتے ہیں
انگلیاں تصویروں کے فریم تھامے لکڑی ہو جاتی ہیں
کلینڈر تاریخوں سے بهرے رہتے ہیں
لیکن دن خالی ہو جاتے ہیں

چہل قدمی کرتے ہوئے

ابرار احمد:
کہیں ایک باغ ہے
غیر حتمی دوری پر
سیاہ گلابوں اور ابد کی مہک میں سویا ہوا
کہیں کوئی آواز ہے
بے نہایت چپ کے عقب میں
بے خال و خد، الوہی، گھمبیر
کہیں کوئی دن ہے
بے اعتنائی میں لتھڑا ہوا

ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

سدرہ سحر عمران: زنجیریں ہمارے دم سے زندہ ہیں
ہمیں نیکیوں کے ہار مت پہناؤ