روہنگیا جاگتا رہ

روہنگیا جاگتا رہ

شدودھن کا بیٹا ابھی سو رہا ہے
کسی پیڑ کی خامشی اوڑھ کر
بس وہی جانتا ہے کہ مٹی کو جب
آ گ تسخیر کر لے
تو نَم خوردگاں، آئنوں کے میاں
گریہ کرنے سے پرہیز کرتے ہیں
کم بولتے ہیں
زرا پَو پھٹے توزمیں پر بھڑکتی ہوئی آگ اوپر اُٹھے
اور اُچک لے سیاہی سے لتھڑے ہوئے سبز شانے
وہ شانے جو نروان کا بار سہنے کے قابل نہیں تھے
بہرکیف پہلے پہل تو بہت زرد تھے
شدودھن کا بیٹاابھی سو رہا ہے
روہنگیا جاگتا رہ
ابھی اور بھی جسم ہیں جن کی گنتی دھندلکے سے پہلے کی
لوحِ زماں پر رقم کر کے سونا ہے
اور سرخروئی میں سرسبز ہونا ہے


Related Articles

Child Abuse

کوئی نظم ایسی لکھوں میں
کہ جس میں علامت کا پردہ نہ ہو

نو سال (عظمیٰ طور)

وہ جب کتاب ہاتھ میں لیے "حسن کوزہ گر" پڑھتا تو اس کے لہجے میں اِک عجیب درد اتر آتا

وہ ایک چوکی جڑی ہوئی ہے (گلزار)

گلزار: لکیر اپنی جگہ سے ہٹتی نہیں، نہ ہٹتا ہے وہ سپاہی
چَھپے ہوئے لفظ کی طرح سے پڑے ہیں دونوں