روہنگیا جاگتا رہ

روہنگیا جاگتا رہ

شدودھن کا بیٹا ابھی سو رہا ہے
کسی پیڑ کی خامشی اوڑھ کر
بس وہی جانتا ہے کہ مٹی کو جب
آ گ تسخیر کر لے
تو نَم خوردگاں، آئنوں کے میاں
گریہ کرنے سے پرہیز کرتے ہیں
کم بولتے ہیں
زرا پَو پھٹے توزمیں پر بھڑکتی ہوئی آگ اوپر اُٹھے
اور اُچک لے سیاہی سے لتھڑے ہوئے سبز شانے
وہ شانے جو نروان کا بار سہنے کے قابل نہیں تھے
بہرکیف پہلے پہل تو بہت زرد تھے
شدودھن کا بیٹاابھی سو رہا ہے
روہنگیا جاگتا رہ
ابھی اور بھی جسم ہیں جن کی گنتی دھندلکے سے پہلے کی
لوحِ زماں پر رقم کر کے سونا ہے
اور سرخروئی میں سرسبز ہونا ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

میرے شہر کی فصیل پہ خدا بیٹھا ہوا ہے؟؟

سدرہ سحر عمران: سیاہ دن کی ڈائری میں ان چہروں کی راکھ
ایک تصویر جوڑتی ہے
جنہیں پچھلے سفر میں راستے لکھا گیا

ہمارے لیے تو یہی ہے

سید کاشف رضا: ہمارے لیے تو یہی ہے
تمہارا جلوس جب شاہراہ سے گزرے
تو تم اپنی انگلیوں کی تتلیاں ہماری جانب اڑاؤ

پابلو نیرودا : چلی کا آخری سلام

حفیظ تبسم:
وہ صنوبر کے سوکھے پیڑوں سے ہاتھ ملاتے
سوال کرتا ہے
جب ٹہنیوں سے ہزاروں پتے جدا ہوئے
جڑوں کے دل میں آخری خواہش کیا تھی