روہنگیا! ہم کہیں کے نہیں

روہنگیا! ہم کہیں کے نہیں
روہنگیا! ہم کہیں کے نہیں
روہنگیا! ہم کہیں کے نہیں
ہم وہی ہیں جنہیں سات نسلوں سے اذنِ تکلم نہیں مل سکا
ہم ازل کے بھگوڑے
ہمیں سبز خطے سے باہر کسی معتدل منطقے کے تجسس کا گھن کھا گیا
ہم کہیں کے نہیں
سات عشروں کی پہیم اذیت ہمارےبدن سے لپٹ کر بقا پا گئی
اب جو خوں ریز مٹی کا قضیہ اٹھائے پسِ آبرو جی رہے ہیں تو سانسوں کا ہیجان آنکھوں سے بہتے لہو میں دمک پا رہا ہے
تجھے یاد ہوگاکہ اجداد کی بے رخی نے ہمارے سیاہی بھرے ان تنومند جثوں کی تحقیر پر شادیانے بجائے
ہمیں تجھ سے نسبت نہیں تھی
مگر پھر بھی تیرے شب و روز پہنے تری کھیتیوں میں کئی خواب اگائے
کئ ہجر کاٹے
زرا 'زعفرانی کسایا' لپیٹے ہوئے بھیڑیوں سے تو پوچھ
ان کا مصلح زمینی طلب سے ورا کس طلب میں سمادھی جمائے پڑا تھا
چلو ہم تو پھر بھی کہیں کے نہیں


Related Articles

کب تک۔۔۔۔۔ آ خر کب تک

ثروت زہرا: تمہیں معلوم ہے؟
ہمارے بندھے ہوئے پروں کی پھڑپھڑاھٹ
وقت کی سانسوں کو پھکنیوں کی طرح پھونک پھونک کر
شعلوں میں تبدیل کرتی جا رہی ہے

اُڑتے خُلیے

سائیکل چلاتا ایک روبوٹ آتا ہے
اور چوک میں ریہڑی سے ٹکرا کر
پھٹ جاتا ہے

روح زیست کے ٹرائل روم میں کھڑی ہے

سوئپنل تیواری: روح کھڑی ہے
جسم پہن کر
زیست کے ٹرائل روم پھر سے
عمر کے آئینے میں خود کو دیکھ رہی ہے