ریمان اور اس کا علم الہندسہ

ریمان اور اس کا علم الہندسہ

ریمان 17 ستمبر 1826 کو ہانوور،جرمنی میں ایک عیسائی پادری کے انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ یہ اپنے چھ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھا۔ ریمان کا باپ چاہتا تھا کہ وہ اسی کی طرح پادری بنے تاکہ اس کے خطبوں اور وعظ سے جو رقم آئے اس سے گھر کا خرچ چلے۔ ریمان بچپن سے ہی حد درجہ شرمیلہ مگر بلا کا ذہین تھا۔اسے گھل مل کر رہنے میں بہت مشکل ہوتی تھی۔اس شرمیلے پن کی وجہ سے اس کے ہم عمر بچے اس پر باتیں کستے جس کی وجہ سے وہ اپنی کتابوں کے ساتھ اور خلوت میں چلا جاتا۔

ریمان اپنے خاندان والوں سے حد درجہ مخلص اور خاص کر اپنی بہنوں سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ اس نے اپنے باپ کی خواہش کو پورا کرنے کےلیے الٰہیات(theology) میں داخلہ لے لیا۔ اس کا مقصد ،جتنا جلدی ہو سکے ،پادری بننا تھا تاکہ وہ حاصل ہونے والی رقم سے اپنے گھر کی خستہ حالی کا ازالہ کر سکے۔

اپنے ہائی سکول کے ایام کے دوران ریمان نے بائبل کا گہرائی سے مطالعہ کیا کرتا تھا لیکن اس کے برعکس اس کا دماغ ہر وقت ریاضی میں اٹکا رہتا۔ وہ اس طرح کے سوالات کرتا تھا کہ اکثر اس کے استاد بھی لاجواب ہو جاتے تھے۔ اس حالت کو دیکھتے ہوئے ریمان کے استاد (جو سکول کا پرنسپل بھی تھا)نے اسے عددوں کے نظریے کے اوپر لیجنڈر(Legender) کی 859 صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب پڑھنے کو دی۔ حیران کن طور پر ریمان نے وہ کتاب صرف چھ دن میں پڑھ لی۔ کچھ دن بعد جب ریمان کے استاد نے پوچھا کہ کیا اس نے اس کتاب کو کتنا پڑھ لیا ہے تو رمان نے جواب دیا اس نے وہ ساری کتاب سمجھ لی ہے۔ بہت عرصہ بعد ریمان کے استاد نے اسی کتاب سے جب ایک سوال پوچھا تو ریمان نے اس کا بالکل صحیح جواب دیا۔

اس ذہانت کو دیکھتے ہوئے ریمان کے باپ نے اپنی جمع پونجی اکٹھی کر کے اسے گوٹنجن یونیورسٹی میں داخل کرا دیا جہاں ریمان کی ملاقات کارل فریڈرک گاش (Carl Fredrick Gauss) سے ہوئی- گاش نے ریمان کو اساسِ ہندسہ(Basic geometry)پر ایک لیکچر تیار کرنے کو کہا۔ گاش یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آیا کہ ریمان اقلیدسی ہندسہ(Euclidian Geometry) کا کوئی متبادل ڈھونڈ سکتا ہے یا نہیں۔ اقلیدسی ہندسوں کے قوانین دو ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ سے چلے آرہے تھے اور اس سارے عرصہ میں کسی نے بھی ان کی حقیقت کو للکارہ نہیں تھا۔

اقلیدسی ہندسہ یہ کہتا ہے کہ مکان سہ جہتی (space is three dimensional)ہے اور یہ سہ جہتی مکان مستوی ہے۔ مستوی اقلیدسی مکان میں دو نقاط کے درمیان کم سے کم فاصلہ ایک سیدھی قطار ہوتا ہے۔ لہٰذا اقلیدسی ہندسہ زمان کے منحنی یا خم دار ہونے کے امکان کو ختم کر دیتا ہے۔

اگلے کچھ ماہ ریمان نےبہت محنت سے کثیر جہتی نظریے(multidimensional theory) کی تلاش میں صرف کیے۔ اس وقت وہ اپنے خاندان کو چلانے کی خاطر بہت کم پیسوں پر ٹیوشن بھی پڑھا رہاتھا۔ اس صورتِ حال میں اس کی طبیعت دن بدن بگڑتی گئی اور اسے 1854 میں نروس بریک ڈاون ہوگیا۔ بیماری کے باوجود ریمان نے قوت کے علم کو ایک نئی شکل دی۔ اس وقت تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ قوت دو دور اجسام کے درمیان فوری تعامل کا نام ہے۔مطلب یہ ایک جسم کسی دوسرے جسم کی حرکت پر فوری طور پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

ریمان نے ایک انقلابی نظریہ دیا۔ اس نے کہا کہ آپ ایک ایسی مخلوق کا تصور کریں جو دو جہتی دنیا میں رہتی ہے۔ جیسا کہ کاغذ کے ایک مستوی ٹکرے پر۔ اب اگر ہم کاغذ کے اس ٹکرے کو بہت زیادہ مروڑ دیں تو وہ دو جہتی مخلوق اپنی دنیا کے بارے میں کیا سوچے گی؟ ان کے لیے وہ بالکل پہلے جیسی ہی ہوگی کیوں کہ کاغذ کی ساتھ اس مخلوق میں بھی تو مڑور پڑ جائیں گے۔ لیکن اب اگر یہی مخلوق اس مروڑے ہوئے کاغذ کے ٹکڑے پر چلنے کی کوشش کرے گی تو اسے محسوس ہو گا کہ کوئی ان دیکھی قوت اسے ایک سیدھی قطار میں چلنے سے روک رہی ہے۔ اسے لگے گا کہ جب بھی وہ کاغذ کے نشیب و فراز سے گزرتا ہے کوئی چیز اسے دائیں بائیں دھکیلتی ہے۔ اس تصور سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قوت دراصل جیومیٹری کا نتیجہ ہے۔

ریمان نے اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہماری سہ جہتی دینا چوتھی جہت میں منحنی ہے۔ یہ بظاہر ہمیں نظر نہیں آتا مگر اس میں اگر ہم ایک سیدھی قطار میں چلنا چاہیں تو وہ ایک سمت میں نہیں ہو گی،ہمار ی چال ایک شرابی کی طرح ہو گی بالکل ایسے جیسے ہمیں کوئی غیر مرعی قوت دائیں بائیں دھکیل رہی ہو۔ ریمان نےیہ کہہ کر بحث کو سمیٹا کہ قوت کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے بلکہ یہ ظاہری اثر جیومیٹری یا علم الہندسہ میں تغیر کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

نروس بریک ڈاون سے صحت پانے کے کئی ماہ بعد ریمان نے ایک تاریخی لیکچر دیا جس نے پورے ریاضیاتی دنیا میں سنسنی پھیلا دی اور جسکو حساب کی تاریخ کا سب سے بہترین لیکچر گردانہ جاتا ہے۔ 2300 سال میں پہلی مرتبہ اقلیدسی جیومیٹری کی اساس ٹوٹتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔

ریمان کے اس تاریخی مقالے کی بنیاد فیثا غورث کا اصول ہے۔ یہ اصول یہ کہتا ہے کہ کسی بھی قائمہ زاویہ مثلث میں دو چھوٹے اضلاع کے مربع کا حاصلِ جمع تیسرے ضلع کے مربع کے برابر ہو گا۔درج بالا اصول دو جہتی زمان پر لاگو ہے، اسے سہ جہتی دنیا میں لوگو کرنے کے لیے ہم ایک مکعب نما (cuboid) کا تصور کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ مکعب نما ایک تین ابعادی جسم ہے۔ لہٰذا اس میں مکعب کے تین اضلاع کے مربع کا حاصلِ جمع، ان کو ملانے والے، وتر کے مربع کے برابر ہو گا۔یہ اصول نیچے شکل میں دکھایا گیا ہے۔

اسی اصول کو اگر ہم ایک بسیار جہتی زمان پر لاگو کریں تو فیثاغورث کا اصول یوں لکھا جا سکتا ہے۔
a2+b2+c2+………………………=z2
ایک کثیر جہتی زمان کا ذہن میں خاکہ بنانا انتہائی کٹھن کام ہے مگر ہم ریاضی کی مدد سے کاغذ کے ایک ٹکڑے پر اس کی مساواتیں لکھ سکتے ہیں۔

ریمان فیثا غورث کی مساواتوں میں ترمیم کر کے ہر طرح کی سپیس پر لاگو کرنا چاہتا تھا۔ اقلیدسی جیومیٹری کے اصول واضح تھے جو کہ
(الف) کسی بھی مثلث کے اندرونی زاویوں کا حاصلِ جمع 180 ہوتا ہے
(ب) دو نقاط کے درمیان کم سے کم فاصلہ ایک سیدھی قطار ہوتی ہے اور
(ج) دو متوازی قطاریں (parallel lines)ایک دوسرے کو کبھی قطع نہیں کرتی۔

ریمان نے دیکھا کہ کسی بھی مثلث میں اندرونی زاویوں کا حاصلِ جمع ،سپیس یا مکاں کے انحنا(curvature) پر منحصرہوتا ہے اور یہ 180 سے کم، زیادہ یا اس کے برابر ہوتا ہے۔

ریمان کا اگلا ہدف ایک ایسی شئے کی تلاش تھی جو ہر قسم کی سطح کو بیان کر سکے چاہے وہ جتنی بھی پیچیدہ یا منحنی ہو۔ ریما ن نے اس کے لیے فیراڈے (Faraday)کے برقی میدان (electric field) کا سہارا لیا۔اس کے مطابق اگر ہم ایک برقی بھرن (electric charge) کو سپیس میں کسی جگہ پر رکھتے ہیں تو وہ اپنے ارد گرد ایک برقی میدان (electric field)پیدا کرتا ہے۔اس برقی میدان کی سپیس میں کسی بھی نقطے پر قیمت کچھ اعداد کی مد دسے معلوم کی جا سکتی ہے ریمان کچھ ایسا ہی کام سپیس کا انحنا معلوم کرنے کے لیے کرنا چاہتا تھا۔اس نے دیکھا کہ دو ابعادی سطح(two dimensional surface) کا انحنا مکمل طور پر تین اعداد کی مدد سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ چہار جہتی(four dimensional) سطح کے لیے ایسے دس اعداد کی ضرورت پڑتی ہے۔ چاہے کوئی سطح کتنی بھی منحنیٰ کیوں نہ ہو آپ اس کے انحنیٰ کو ان دس اعداد کی مدد سے مکمل طورپر بیان کر سکتے ہیں۔ہم ان اعداد کو g11,g12,g13…..g33 سے ظاہر کر لیتے ہیں۔ ان کو ایک قالب (matrix)کی شکل میں ایسے لکھا جا سکتا ہے۔

یہ بظاہر سولہ اعداد ہیں لیکن کچھ اعداد ایک دوسرے پر منحصر ہوتے ہیں جیسا کہ g12=g21, g13=g31 وغیرہ وغیرہ۔۔

قالبِ بالا اب ریمان میٹرک ٹینسر کے نام سے جانا جاتا ہے۔اسی میٹرک ٹینسر کو استعمال کرتے ہوئے آین سٹائن نے اپنے عمومی نظریہ اضافیت کو سنگِ بنیاد دیا۔

Fasi Malik

Fasi Malik

Fasi Malik teaches physics at a federal college.


Related Articles

نظریہ کثرتِ کائنات

ہماری کائنات کے علاوہ دیگر اربوں کھربوں کائناتیں موجود ہیں اور ان میں سے ہر کائنات کے قوانین اور ان کے تمام خصائل بشمول وہاں کی مخلوقات حقیقی وجود رکھتے ہیں اسی نظریے کو کثرت کائنات (Multiverse) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔

وجودِ کائنات

رابرٹ ایڈلر: جوہروں جیسی چھوٹی اشیاء سے لے کر کہکشاؤں جیسی بڑی چیزوں تک۔ ہمارا بہترین نظریہ جو ان بڑی ساختوں کی وضاحت کرتا ہے عمومی نطریہ اضافیت کہلاتا ہے ۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ زمان، مکان اور انجذاب کیسے کام کرتے ہیں۔

Einstein was right

The signal was converted into sound and heard by scientists at LIGO as a chirp which lasted merely for one fifth of a second.