ریڈیو چین؛ اردو نشریات کے پچاس سال

ریڈیو چین؛  اردو نشریات کے پچاس سال
چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل عوامی جمہوریہ چین کا سرکاری ریڈیو اسٹیشن ہے جس کی نشریات کا آغاز تین دسمبر 1941 کو ہوا جس کی نشریات دنیا بھر میں سنی جاتی ہیں اور جس کا مقصد دنیا کو چین کے بارے میں آگاہ کرنا، چینی عوام اور دنیا کو ایک دوسرے سے سے قریب لانا ہے، چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل تینتالیس زبانوں میں اپنے پروگرام نشر کرتا ہے جس میں اردو زبان سر فہرست ہے۔

اردو نشریات کا آغاز یکم اگست 1966 کو ہوا جو پاکستان کے علاوہ بھارت، بنگلہ دیش اور جنوبی ایشائی ملکوں میں سنی جاتی ہیں
ریڈیو چین کی اردو سروس ایک کامیاب اور مقبول ترین سروس ہے جسے یکم اگست 2016 کو پروگرام نشر کرتے ہوئے پچاس برس ہوچکے ہیں۔ اردو نشریات کا آغاز یکم اگست 1966 کو ہوا جو پاکستان کے علاوہ بھارت، بنگلہ دیش اور جنوبی ایشائی ملکوں میں سنی جاتی ہیں ریڈیو چین اردو سروس سے دن میں ایک گھنٹے کے پروگرام تین دفعہ نشر کیے جاتے ہیں ابتدائی دور میں یہ نشریات میڈیم ویو کے علاوہ کلوہرٹز پر ہی نشر کی جاتی تھیں لیکن جوں جوں ریڈیو نے اپنی شکل تبدیل کی اسی طرح ریڈیو چین کی نشریات میں بھی کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اب یہ نشریات مقامی ایف ایم ریڈیو کے تعاون سے پاکستان کے کئی علاقوں میں نشر کی جاتی ہیں جبکہ اردو نشریات کے پروگرام انٹرنیٹ اور موبائیل ایپ کی ذریعے بھی سنے جاسکتے ہیں۔ چائینہ ریڈیو کی نشریات میڈیم ویو 1422 کلو ہرٹز پر 600 کلو واٹ کے ذریعے پورے پاکستان میں بہت ہی صاف سنی جاسکتی ہیں۔

ریڈیو چین سے نشر ہونی والی عالمی خبریں غیرجانبدارانہ ہوتی ہیں جبکہ حالات حاضرہ پر بہترین تجزیے بھی سننے کو ملتے ہیں۔ اردو سروس سے نشر ہونے والے پروگراموں کو بھی اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ چینی ثقافت اور اس سے ہم آہنگ پاکستانی ثقافت کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے ہر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق پروگرام نشر کیے جاتے ہیں اور پاکستانی طلبہ کے لیے بہت سے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں جس میں چین میں تعلیم پذیر طلبہ سے بات چیت پر مبنی پروگرام ہوتے ہیں جن سے ان طلبہ کو بہت مدد ملتی ہے جو اعلی تعلیم کے لیے چین جانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے خصوصی دنوں یا تہواروں کے حوالے سے بھی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں ایک بہت دلچسپ بات یہ کہ ریڈیو چین سے نشر ہونے والے پروگرام پاکستانی میزبانوں کے ساتھ ساتھ چینی میزبان بھی نشر کرتے ہیں جو نہایت عمدہ اردو بولتے ہیں جبکہ نشریات کے علاوہ ریڈیو چین کی اردو سروس سے باقاعدہ ایک رسالہ نوائے دوستی بھی شائع کیا جاتا ہے۔ چینی زبان سیکھنے کے خواہش مند اردو سروس سے روزانہ کی بنیاد پر نشر ہونے والے پروگرام "آئیے چینی سیکھیں" سے با آسانی چینی زبان سیکھ سکتے ہیں ساتھ ہی چینی زبان سیکھنے کے خواہش مندوں کو ریڈیو چین کی جانب سے چینی زبان سیکھانے کی کتب بھی بغیر کسی معاوضے کے بھیجی جاتی ہیں۔

اردو سروس سے نشر ہونے والے پروگراموں کو بھی اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ چینی ثقافت اور اس سے ہم آہنگ پاکستانی ثقافت کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے
ریڈیو چین کی اردو سروس سننے والوں کی جہاں بڑی تعداد دنیا بھر میں ہے وہیں ایک بہت بڑی تعداد میں ریڈیو چین کے سامعین پاکستان میں بھی موجود ہیں جو باقاعدگی سے ان پروگراموں کو سنتے ہیں اور ان کے بارے میں اپنی رائے بھی دیتے ہیں۔ پاکستان کے کئی علاقوں میں ریڈیو چین سننے والے سامعین نے سامعین کلب یا سامعین سوسائٹی بھی بنائی ہوئی ہیں جس کے تحت اکثر چینی ثقافتی نمائشیں بھی منعقد کی جاتی ہیں ،ریڈیو چین کا عملہ بھی اپنے سننے والے سامعین سے مسلسل رابطے میں رہتا ہے اور پروگراموں کو خوب سے خوب تر بنانے کے لیے سننے والوں سے مشورے لیے جاتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے دوستانہ تعلقات بہت پرانےاور مستحکم ہیں اور ریڈیو چین کا اس حوالے سے کردار ہمیشہ اہم اور قابل تعریف رہا ہے۔

ریڈیو چین کی اردو سروس کی جانب سے اپنے سننے والوں کے درمیان کئی انعامی مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں اور کئی ایسے بھی انعامی مقابلے کرائے جاتے ہیں جس میں کامیابی حاصل کرنے والے سامع کو ریڈیو چین اردو سروس کی جانب سے چین مدعو کیا جاتا ہے۔ گذشتہ پچاس برسوں میں کئی سامعین چین کی سیر کرچکے ہیں۔ ریڈیو چین کا ریڈیو پیکنگ کے نام سے چلنے والا یہ کارواں آج تک نہایت کامیابی سے رواں دواں ہے جس کا موجودہ نام چائینہ ریڈیو انٹرنیشنل ہے ان پچاس سالوں میں ریڈیو چین کی اردو نشریات سننے والے سامعین میں بہت اضافہ ہوا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے ،ہماری دعا ہے کہ ریڈیو چین اسی طرح مستقبل میں بھی دونوں ممالک اور اس کی عوام میں محبتیں اور قربتیں پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے۔

Related Articles

ہائے ماں

ثمینہ تبسم: اب میں جب بھی سپارا کھولتی ہوں
مُجھ کو پھر سے ڈراتا ہے وہ خواب

نظم مجھے ہر جگہ ڈھونڈ لیتی ہے

نصیر احمد ناصر: میں اُسے نہیں لکھتا
وہ مجھے لکھتی رہتی ہے
اَن کہے، اَن سنے لفظوں میں
اور پڑھ لیتی ہے مجھے
دنیا کی کسی بھی زبان میں

حرامزادی

عمار غضنفر: اپنی توند تو دیکھ۔ سارا حرام مال بھر رکھا ہے۔ تیری کمپنی کی بنائی سڑک ایک سال نہیں نکالتی۔ تو تُو زیادہ ٹائم کیسے نکال سکتا ہے۔