زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے

زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے

فسا د کے پھیلاؤ میں
زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے
پاؤں کے نیچے آ جانے والے پتے

زندگی کہاں ہے
سہمی ہوئی
ٹھٹھری ہوئی
زندگی نہیں جانتی نشانے پر کون ہے
چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے
ہے تو بس کھلا آسمان
فساد کا پھیلاؤ اپنی چادر تان رہا ہے
جنگل !
وہ بھی آنکھیں موندیں پڑا ہے
اس کے جانور
وہ تو پہلےہی بھاگ نکلے ہیں
جنگل نہیں جانتا کہاں گئے
بس
زندگیوں کو فساد کے پاؤں تلے کچلنے کی آوازیں سن رہا ہے
آنکھیں موندے
اس کے جانور کہاں گئے؟
وہ نہیں جانتا

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

کینوس پر لگتے اسٹروکس

جمیل الرحمان: موم کی تجارت پر لوہے کی تجارت غالب آئی
وحشیوں نے انسانوں کو فتح کر لیا
پھر بھی آسمان کی آنکھیں پگھلتی رہیں
اُن سے خواب ٹپکتے
اور
کینوس پر
مسلسل ا سٹروک لگتے رہے

وہیل چیئرز پہ چلتے ہوئے مکان

ہم ۔۔۔۔
پیتل کے برتنو ں میں
مری ہوئی با رشیں اکٹھی کر تے ہیں
اور۔۔۔۔زندگی کے برساتی نالوں میں
پھدکتے پھرتے ہیں
مینڈکوں کی طرح!!

کاری

ناصرہ زبیری: اندھے، بہرے، مردہ، بے چہروں کی اس بستی کے بیچ
زندہ ہے پھر بھی دیکھو
میری صاف بصارت بھی
میری تیز سماعت بھی