زندگی نام ہے جی، جی کیے جانے کا

زندگی نام ہے جی، جی کیے جانے کا
ہم جب اس دنیا میں آئے اور ہماری زبان پہ لفظوں نے ابھی پوری طرح آنکھ بھی نہ کھولی تھی کہ ہمیں شروع دن ہی سے جی، جی کرنے کی عادت ڈال دی گئی۔ اگر ابا حضور نے کہا کہ "دیکھو بیٹا، با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب!"، تو اماں نے اپنے تئیں حصہ ڈالا: " میرے سوہنے تے من موہنے پُتر، زبان ہی تخت پر بٹھاتی ہے اور یہی تختے پر چڑھاتی ہے۔" ہم نے جی بھر کے سن لیا اگرچہ اس نوزائیدگیِ عقل و زباں میں تخت اور تختے کی اِضداد کچھ زیادہ پلے نہیں پڑیں مگر اچھی بات سمجھ کے دل سے لگا لیا۔ اسی نصیحت بھرے ادب و آداب کے ناشتے کے ساتھ ہی کہا گیا کہ بڑوں کے سامنے "جی کہہ کے بات کرتے ہیں۔" ہم نے اس تجویز کو اپنے کُرتے کے پلّو سے بزور باندھ لیا اور یہ مشقِ ادب شروع کردی: ماموں جی، چاچو جی، پھپھو جی۔۔۔اوہ ہا، اوہ ہ ہ۔۔۔۔سانس پُھول گئی پر جی کی گردان کے سب زینے ختم نہ ہوئے۔
یہ اسّی کی دہائی کے اولین سال تھے اور ہمارے گاؤں میں ابھی کوئی ایسا اسکول نہیں کھلا تھا جسے عرف عام میں انگریزی میڈیم کہتے ہیں اور جہاں خوش صورت و خوش اخلاق استانیاں پڑھاتی ہیں؛ آخری خبریں آنے تک آج بھی ایسا کوئی اسکول ہمارے گاؤں میں نہیں کھل پایا
جب عمر کچھ بڑھی تو ہم گھر سے، رشتے داریوں کے آنگن سے باہر کی سماجی دنیا میں آن پڑے۔ خبر دی گئی کہ آپ کا اسکول جانا اور ضرور جانا ٹھہر گیا۔ ہم گھر میں بڑی اولاد تھے اور ہماری پیدائش کے ماہ و سال کی تدوین و تقسیم کچھ اس طور کی ہوئی تھی کہ کسی کو اسکول نامی جگہ آتے جاتے دیکھا نہ تھا۔ سو بڑی نامانوسیت سی تھی اس جگہ سے! لیکن جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔ ایک دن ہمیں رو رو کے سوجی ہوئی آنکھوں اور بہت بڑے بستے کے ساتھ (جسے اس دن ہم نے نہیں اٹھایا) اپنے گاؤں کے سرکاری اسکول میں چھوڑ دیا گیا۔ یہ اسّی کی دہائی کے اولین سال تھے اور ہمارے گاؤں میں ابھی کوئی ایسا اسکول نہیں کھلا تھا جسے عرف عام میں انگریزی میڈیم کہتے ہیں اور جہاں خوش صورت و خوش اخلاق استانیاں پڑھاتی ہیں؛ آخری خبریں آنے تک آج بھی ایسا کوئی اسکول ہمارے گاؤں میں نہیں کھل پایا۔
بہرکیف مختصرًا ہم اپنے گاؤں کے سرکاری اسکول پہنچا دئیے گئے۔ وہاں پہ موجود استاد نے ہماری روتی صورت کا فورًا نوٹس لیا اور ابھی ہمیں گھر سے اسکول تک چھوڑنے والے چاچو جی اسکول سے کوئی آدھا فرلانگ ہی آگے گئے ہوں گے کہ ماسٹر جی نے بچوں سے بھری کُھلی فضائی کلاس میں ہمارے منہ پر ایک زور کا تھپڑ رسید کیا۔ ہم اس غیرمتوقع تھپڑ کی تاب نہ لاتے ہوئے ایک جانب گر پڑے۔ اس پر ماسٹر جی اپنی کرسی سے اٹھے، ہمیں خاک وطن کی ہم کناری سے سے اٹھا کر سنبھالا دیا اور ایک اور کڑاکے دار تھپڑ دے مارا۔ اب ہم اتنے زور سے روئے کہ اگر بفضلِ مولا ہمارے اسکول کی اگر کوئی چار دیواری ہوتی تو لرز جاتی لیکن نہ تھا بانس اور نہ ہی تھی بانسری! دو تھپڑوں کے بعد ماسٹر جی نے اپنا مدعا غصے سے غراتے ہوئے بیان کیا،"چپ کرنا ایں، کہ اک اور کَنّاں مُڈھ ماراں!"(چپ کرتے ہو یا کانوں کے پیچھے ایک اور تھپڑ ماروں)۔
اور ابھی ہمیں گھر سے اسکول تک چھوڑنے والے چاچو جی اسکول سے کوئی آدھا فرلانگ ہی آگے گئے ہوں گے کہ ماسٹر جی نے بچوں سے بھری کُھلی فضائی کلاس میں ہمارے منہ پر ایک زور کا تھپڑ رسید کیا
اب ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ سارا آپریشن تھپڑ ہماری رونے کی آواز کو دبانے کے لیے تھا۔ کانوں سے آنے والے گُھوں گُھوں کی آواز اور تھپڑوں کے زور سے ہمارے چھوٹے سے دماغ کی طرف تیزی سے متحرک فشار خون نے ہمارے دماغ کو سوچنے کیلئے کافی غذا فراہم کر دی تھی۔ آخر پنجابی خون تھا، صدیوں کی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کے بے ثمر ہونے کے اسباق تحت الشعور میں موجود تھے، اور کیوں نہ ہوتے؛ نہ چھپنے کو غاریں، نہ پہاڑ ؛ اور اپنی کھیتی باڑی کو نہ چھوڑ کے جانے کی ایک پنجابی میں تاریخی طور پہ تعمیر شدہ سرشت ہے۔
یہ درمیان میں کیا علم بشریات کے جوس کا ڈبہ آ گیا، ہاں تو ہم کہہ رہے تھے کہ دماغ کی طرف خون کی تیز روانی نے ماسٹر صاحب کی جانب سے کسی اور میزائل قسم کے تھپڑ کے خلاف ایک مصلحت پسندانہ مشورہ دیا، فورّا اماں ابا کی بتائے ہوئے "جی فارمولے" کو رفتہِ زباں کیا۔ کہا "جی ماسٹر جی، نہیں روتا اب !"
اس "جی" کے ڈبل سینڈوچ نے ماسٹر جی کے جلال کو اکرام میں بدل دیا اگرچہ ہمارے دانتوں اور زبان کے درمیان نظر آنیوالی فضا اور ہونٹوں کی جاری کپکپی میں کچھ بجھتے ہوئے شعلہ ہائے آہ و زاری موجود تھے۔ لیکن "جی" کے کمال کے سینڈوچ کی بدولت پٹ سن کے ٹاٹ پہ زانوئے تلمذ دراز کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ تھا "جی" کا پہلا باضابطہ سماجی ثمر!
پہلے بھی عرض کیا ہے کہ یہ اسّی کی دہائی کے اولین سال تھے۔ جی، جی، ہاں جی، بالکل یہ وہ سال تھے جب ہمارے ملک میں گرم پانی بہت زیادہ تھے۔ دور دور سے لوگوں کی نظریں ہمارے گرم پانیوں پہ تھیں۔ پر ہم بھی بڑے تیز ہیں، ہم نے بھی کہا کہ جیسا کہ ہم اکثر کہتے ہی رہتے ہیں کہ "آنکھ پھوڑ دیں گے" چاہے میلی ہو، چاہے سازشی ہو، ہمیں تو پھوڑنے سے مطلب ہے۔
ہمارے ساتھ بھی بحیثیت ننھے سے طالب علم اسی طرح کا معاملہ روا رکھا گیا۔ گو کہ ہم نے نہ تو اپنے ملک کے گرم پانیوں پہ کوئی نظر حرص رکھی تھی اور نہ ہی کوئی سازش کی تھی بلکہ ہم تو نہاتے بھی اپنے گھر کے اندر موجود ذاتی ملکیتی ہینڈ پمپ کے سایہِ عاطفت میں تھے۔
ہماری سوچنے سمجھنے والی اندر کی آنکھ پھوڑی گئی اور ہمیں اپنی درسی کتابوں کے اندر کے سچ اور مُچ دونوں پہ آنکھ بند کر کے ایمان لانے کی تلقین کی گئی۔ یقینی بنایا گیا کہ ہم بس "جی ماسٹر جی" ہی کہیں اور نہ کوئی سوال کریں اور نہ ہی کوئی سوال اٹھائیں۔ کہا گیا جس طرح تمہارا دین مکمل ہے اور کوئی اس پہ کوئی سوال نہیں، اسی مانند تمہارا وطن اور صاحبانِ امر کی کہی ہر بات مستند اور جامع ہے۔ کہا گیا بس جی، جی کرو اور کوئی دستِ سوال دراز نہ کرو!
ہماری سوچنے سمجھنے والی اندر کی آنکھ پھوڑی گئی اور ہمیں اپنی درسی کتابوں کے اندر کے سچ اور مُچ دونوں پہ آنکھ بند کر کے ایمان لانے کی تلقین کی گئی۔ یقینی بنایا گیا کہ ہم بس "جی ماسٹر جی" ہی کہیں اور نہ کوئی سوال کریں اور نہ ہی کوئی سوال اٹھائیں
اماں کی اِضداد سے لیس نصیحتِ تخت یا تختہ کبھی بھولتی تو ماسٹر جی کے پہلے دن کے تھپڑوں کی کانوں کے گرد گُھوں گُھوں کی یاد سارا نشہ ہرن کرنے کو کافی ہوتی۔ اسکول کا یک سطری سبق یہی تھا کہ "جی جی کر بھیا، اللہ اللہ کر بھیا!"
اسی طرح عمر بڑھتی گئی اور چھوٹے اسکول سے بڑے اسکول، وہاں سے کالج پھر یونیورسٹی۔ نہ سوال منہ سے باہر نکلے، نہ جواب آئے۔سمسٹر امتحان کو پاس کرنے کیلئے پروفیسر صاحبان کی منت و سماجت اور جی، جی کے تقاضے نبھائے۔ اس بات کا پورا ادراک ہوا کہ یونیورسٹی کا اردو ترجمہ "جامعہ" کتنا موزوں اور برمحل ہے۔ تکمیل و اکمل؛ سوال ندارد، بس جی جی، ہاں جی، ہاں جی؛ ہر بڑے منہ اور ہر بڑے بیانیے کے آگے! بھئی مرتے کیا نہ کرتے، کرتے گئے اور ڈگری یافتہ کیا بلکے ڈگری زدہ ہوئے۔
ڈگری ہونے کے کچھ سال دھکے کھائے، اسکول جانے کے پہلے دن کے تھپڑوں کی ترشی اب اتنی ترش نہ رہی۔ مشکلیں اتنی پڑیں کہ آسان ہو گئیں۔ بالآخر ایک دن قسمت کی دیوی مہربان ہوئی اور ملازم ہو ہی گئے۔ دفتر داخل ہوتے ہی باس کے سامنے حاضر ہوئے، جو سننے کو ملیں وہ ہم نہیں بتائیں گے۔ آخر اب ہم بڑے ہوگئے ہیں۔ باس کے در سے حاضری کے بعد باہر بھیجے گئے تو کچھ صاحبانِ دفتری ہنر نے اخلاص سے مشورہ دیا کہ بھائی صاحب اب اگر نوکری کرنی ہے تو محض کام کرنے سےکام نہیں چلے گا۔ مزید کہا گیا کہ نِری جی، جی سے بھی گذارا نہیں ہوئے گا۔ اب تو باضابطہ جی حضوری کرنی پڑے گی ورنہ خدائے خیرالرّازقین کا فضل کہیں اور تلاش کرنا پڑ سکتا ہے۔ڈگری اور تلاشِ فضل کے درمیانی وقفہِ خشک سالی کے متعلق کچھ کہنا ہر ایک کے صحن میں اترتے سورج کو چراغ دکھانے جیسا ہے۔ تو پڑھتے ہی جا رہے ہیں "ح اور خ" سے پیچھے رہ جانے والی تسبیح کو!
بس بیٹا اب ہماری زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔ جتنی گذر گئی اس سے زیادہ تو نہیں ملے گی۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھا لینے دو تاکہ ہم دنیا سے ہلکے پن کے احساس سے رخصت ہوں
نوکری کرتے کوئی دو چار سال گذرے تو اماں ابا کی ایک جذباتی تقریر سنی کہ جس کی ٹیگ لائن تھی کہ "بس بیٹا اب ہماری زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔ جتنی گذر گئی اس سے زیادہ تو نہیں ملے گی۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھا لینے دو تاکہ ہم دنیا سے ہلکے پن کے احساس سے رخصت ہوں۔"
ہماری آنکھیں بھیگ سی جانے لگیں تو انہوں نے مطالبہ داغ ڈالا: " بیٹا شادی کر لو!" ایک لمحے بھر کو انگریزی کی معروف کلاسک ناول نگار جین آسٹن کے ناول "Pride and Prejudice" کے پہلے صفحے کی بالکل شروع کی سطریں اپنی ثقافت میں ترجمہ ہو کے آنکھوں میں جھلملا نے لگیں۔ ایک بندہ جس کی نوکری ہوئے کچھ سال گزر جائیں تو وہ تو اس کا مصرف بس شادی شدہ ہونے کیلیے تیار مالک جتنا ہی ہوتا ہے۔ تو جناب تقدیر کی آئی ایک بار پھر نہ ٹلی۔ ایک اور "ہاں جی"کہنی پڑی۔
شادی ہو گئی اور اب کے پھر سے اک سلسلہِ مسلسل ہے ہر سُو، ہر اور جی جی کیے جانے کا! "کس کنفیوژن میں ہو بھائی یقیناً ہم ہی سزاوار ہیں اس جی جی کے! پہلے تو بیگم صاحبہ کو جی جی، پھر ان کے کوئی عزیز چاہے وہ ٹیلیفون پہ ہوں یا ہمارے گھر کا قصد کیا ہوا ہو، ہر صورت جی، ہر محل جی،ہر سبیل ہاں جی کا ورد! بس کے اڈے سے مہمانوں کو گاڑی پہ گھر لے کے آؤ، اسلام آباد اور آس پاس کے پہاڑی علاقوں کی سیر کروا کے لاؤ۔ ہر فرمائش بجا لاؤ، کوئی ناں نہیں بس جی ہاں!
دفتر کی جی حضوری اور گھر کی جی برآوری میں فرق صرف وقت کی طوالت کا ہے
دفتر کی جی حضوری اور گھر کی جی برآوری میں فرق صرف وقت کی طوالت کا ہے؛ بس جی کسی گزرے وقت سلطنت برطانیہ کے سورج کی مانند ہماری جی حضوری بجا لانے کا سورج کبھی ڈوبتا نہیں۔ لیکن اپنا دل ڈوب ڈوب جاتا ہے اس جی جی کے ہاتھوں۔
الغرض یہ تو چلتا ہی رہنا ہے اب ہم ایک نئی جی کو جو کہ ہماری ذات سے کچھ خارج ہی اس پہ نظر کرتے ہیں۔ من میں اک لہر سی اٹھ رہی ہے کہ ہم بھی ذرا کیتھرین مینسفیلڈ کی شارٹ سٹوری " دی فلائی" کے کردار بوس بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم جو اتنی جی، جی کے عادی ہیں انہیں جب ملکِ خداداد میں تھری جی ٹیکنالوجی آنے کی کی بابت خبر ہوئی تو کبھی سوچا دیکھتے ہیں کہ کون آیا نیا اس خانقاہِ جی میں اور کبھی ہمدردی کا درد جاگا۔ جب تھری جی چالُو ہونے لگی تو پہلے تو اس کے مہنگے پیکجوں نے جیب پہ کھُجلی کرائی اور کچھ ڈر سے گئے کہ اتنی مہنگی۔ خیر تھوڑے ٹیک چٹخورےتو ہم ہیں ہی، لے لیا ایک پیکیج پانچ سو والا۔ اب جناب ہم اپنے گھر پہ بیٹھے اپنے موبائل فون کی تھری جی سروس آن کرتے ہیں تو لاکھ آؤ جی، آؤ جی کہنے پر، منتیں کرنے پر بھی یہ نہیں آتی! اب ہم اسی طرح رونی صورت ہوئے پڑے ہیں جس طرح پہلے دن اسکول جانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا، آج شاید اسی طرح تھری جی کا ہمارے فون پہ آنے کو جی نہیں چاہ رہا
Yasser Chattha

Yasser Chattha

The author teaches English at Model College for Boys Islamabad. In the past he was affiliated with Council for Social Sciences Pakistan. His translation of English poetry has recently been published as a book.


Related Articles

On Their Way to Fade Away

Every language in the world is an epitome of certain culture and has its distinctive colour, beauty, rhythm and flavor which make it exotic and unique.

سماجی مظاہر کی طبقاتی تقسیم

یہ بھی مانا کہ مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ جینز استری کر کے نہیں پہنتے، ٹی شرٹ کے نیچے بنیان کا مذاق اڑایا جائے گا اور شلوار قمیص کے ساتھ جوگر پہن کر میں پینڈو ہی لگ سکتا ہوں لیکن پھر بھی میں اپنا ماضی اپنے جسم سے کیسے کھرچ کر پھینک دوں؟ میں کیسے اس بات پر شرمندہ ہونا شروع کر دوں کہ ہمارے کپڑوں سے اب سے کچھ عرصہ پہلے تک بانو سوپ کی 'بو' آتی تھی اور میرا سارا بچپن پرچ میں چائے انڈیل کر پیتے گزرا ہے؟

ضرورت "اجتہاد" کی ماں ہے

کوئی چیز جو پہلے ہمارے مولوی صاحبان کی جانب سے حرام قرار پائی ہو اور پھر بتدریج حلال بن گئی ہو اس کا ایک اہم ضابطہ و اصول، شرعی نصوص (جو کہ ہمیشہ ایک ہی ہوتے ہیں) سے کہیں زیادہ یہ ہے کہ وہ چیز کسی خاص طبقے اور عوامی ضرورت سے آگے بڑھ کر مولوی حضرات کی ضرورت بن جائے۔