زوالِ عمر

زوالِ عمر
زوالِ عمر
کپکپاتی ٹانگیں، تھرتھراتے ہاتھ
خزاں سیٹیاں بجاتے آ گئی ہے

 

خزاں کے گھوڑے
بدن کو تاراج کرتے ہوئے
آگے نکل گئے ہیں

 

نامعلوم ساعتوں میں
دہلیزیں جھریوں سے بھر گئی ہیں

 

ہر شے سے رشتہ کمزور ہو رہا ہے
پرانے پیڑوں اور دوست ستاروں سے
اور بہت پرانے یاروں سے

 

نیند اب ایک ایسی چیز ہے
جو صرف بچے کی آنکھ میں ہے
طالب علم کی جیب میں ہے
یا پرندے کے گھونسلے میں!

Image: Dushyant Patel


Related Articles

خُدا اپنا لباس نہیں بدلتا

کون پڑھتا ہے زندگی کو تمہاری مو جودگی میں
اور کسے لکھنا آ جا تا ہے لفظ "موت "
تمہارے بغیر

صدا کر چلے

کسی موہوم سی آسائشِ فردا کے چکر میں
حکایاتِ غمِ دیروز کا نقشہ بدلنا کیوں
تمہیں کس نے کہا ہر سست رو کے ساتھ چلنے کا
سبک قدمی میں لیکن سبزۂ رَہ کو کچلنا کیوں

دروازوں کی خود کُشی اور دوسری نظمیں (تبسم ضیا)

دروازوں کی خود کُشی دروازے کیا ہوتے ہیں؟ کیا دروازے باہر جانے کے لیے ہیں؟ یا صرف اندر آنے کے