زوالِ عمر

زوالِ عمر
زوالِ عمر
کپکپاتی ٹانگیں، تھرتھراتے ہاتھ
خزاں سیٹیاں بجاتے آ گئی ہے

 

خزاں کے گھوڑے
بدن کو تاراج کرتے ہوئے
آگے نکل گئے ہیں

 

نامعلوم ساعتوں میں
دہلیزیں جھریوں سے بھر گئی ہیں

 

ہر شے سے رشتہ کمزور ہو رہا ہے
پرانے پیڑوں اور دوست ستاروں سے
اور بہت پرانے یاروں سے

 

نیند اب ایک ایسی چیز ہے
جو صرف بچے کی آنکھ میں ہے
طالب علم کی جیب میں ہے
یا پرندے کے گھونسلے میں!

Image: Dushyant Patel


Related Articles

" اُمّتِ واحدہ"

ہمارے مسئلے اب تک وہی ہیں
ہم
جنہیں لنگڑا کے چلنا رقص لگتا ہے

زمین ہم پر تنگ ہوتی جا رہی ہے

زمین ہم پر تنگ ہوتی جا رہی ہے

ہمیں دھکیل رہی ہے ایسی گلیوں میں

جہاں دیوارسے دیوار لگتی ہے

سو گذرنے کا یہی اک رستہ ہے

کہ ہم اپنے اعضا کاٹ کر پھینک دیں

عمر کے رقص میں

نصیر احمد ناصر: لاجوردی خلا
ہے ازل تا ابد
جست بھر فاصلہ
روشنی! روشنی!!