زہریہ ٹاون

زہریہ ٹاون

جعفر حسین کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ حالِ دل پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے اسے لالٹین پر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

میں دل شکستہ ہو چکا تھا۔ مایوسی میرے رگ و پے میں سرایت کر کے کانوں سے دھوئیں کی شکل میں نکل رہی تھی۔ جس سے میری عینک کے شیشے بار بار دھندلا رہے تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ اپنی عینک دیوار پر دے ماروں لیکن پھر خیال آتا تھا کہ یہ بھی ٹوٹ گئی تو کھمبوں سے ٹکراتے ٹکراتے کیسے گھر پہنچوں گا۔ جونہی میں کمرے سے باہر نکلنے لگا تو اشرف قصائی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اسے تھپتھپایا۔ اور سرد لہجے میں یاددہانی کراتے ہوئے بولا،"چوہدری صاحب دس ہزار روپے ہو چکے ہیں، اگلے ہفتے تک ادا ہو جانے چاہیئں"۔ میرا جی چاہا کہ جھنگ روڈ پر جا کے این ایل سی کے ٹرالے کے سامنے کود جاوں۔ مجھے پتہ تھا کہ اگلے ہفتے تک، دس تو کیا، میں ایک ہزار کا بھی بندوبست نہیں کر سکتا۔ تنخواہ ملنے میں ابھی بیس دن باقی تھے اور کوئی مجھے ادھار دینے کی غلطی نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے اللہ دتے کی وہ حالت یاد آ گئی جو پچھلے مہینے اشرف قصائی کے بیٹوں کے ہاتھوں ہوئی تھی اگرچہ وہ صرف پانچ سو کا ہی مقروض تھا۔ انہی سوچوں میں غلطاں میں جوئے کے اڈے سے باہر نکلا۔ ابھی دس قدم چلا ہوں گا کہ گلی کی نیم تاریکی سے ایک سایہ نمودار ہوا۔ یہ ملک نیاز تھے!!!

میں دل شکستہ ہو چکا تھا۔ مایوسی میرے رگ و پے میں سرایت کر کے کانوں سے دھوئیں کی شکل میں نکل رہی تھی۔ جس سے میری عینک کے شیشے بار بار دھندلا رہے تھے۔
انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے تاریکی میں پارک کیے ہوئے ستر ماڈل ویسپے کے پاس لے آئے۔ کک مار کر اسے سٹارٹ کیا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں بادلِ نخواستہ پچھلی سیٹ پر براجمان ہو گیا۔ ملک صاحب، مہارت سے ویسپا ڈرائیو کرتے ہوئے منڈی کوارٹر کی طرف رواں دواں ہو گئے۔ منڈی کوارٹر کے ایک خستہ حال مکان کے سامنے جا کر انہوں نے ویسپا روکا۔ مجھے اترنے کا اشارہ کیا اور ویسپے کو سٹینڈ پر لگا کر مخصوص انداز میں دروازے پر تین بار دستک دی (پینی۔۔۔ پینی۔۔۔۔۔۔۔۔ پینی۔۔۔۔) دروازہ ایک درمیانی عمر کی پختہ کار عورت نے کھولا اور ہماری طرف دیکھ کر خوف صورت انداز میں مسکرائی۔ ملک صاحب میرا ہاتھ پکڑ کر جلدی سے اندر گھس گئے۔ بیٹھک میں دو کرسیاں، ایک میز جس کا پایہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اینٹیں بھی نہیں رکھی گئی تھیں، اور ایک جھلنگا سی چارپائی تھی جس پر ایک میلا سا گدا بچا ہوا تھا۔ دس منٹ بعد ملک صاحب تشریف لائے۔ ان کے چہرے پر "نور" معمول سے کچھ زیادہ تھا۔ انہوں نے چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہوئے سگریٹ سلگایا تو چرس کی مسحور کن خوشبو پوری بیٹھک میں پھیل گئی۔ دو کش لگا کر انہوں نے مجھے واری لگانے کی دعوت دی جو میں نے شکریے کے ساتھ قبول کر لی۔ سگریٹ ختم ہونے کے بعد ملک صاحب نے کھنگورا مار کر گلا صاف کیا اور یوں مخاطب ہوئے۔

"دیکھ باؤ چوہدری! تو حیران ہو رہا ہو گا کہ میں تجھے یہاں کیوں لے کر آیا ہوں۔ بات یہ ہے جگر، کہ مجھے تیرے حالات کا پتہ چلا ہے کہ تو کافی قلتِ زر کا شکار ہے اور اشرف قصائی، آئی ایم ایف بن کر تیرا خون چوسنے کا پروگرام بنا رہا ہے اور اپنے بیٹوں کو نیٹو کی طرح تیری طبیعت صاف کرنے پر لگانے والا ہے۔ باؤ میں تجھے پسند کرتا ہوں۔ تو حق کا پرچارک اور راست گو لکھنے والا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ سربازار تیری پھینٹی لگے اور لوگوں کو پتہ لگے کہ تو جواء کھیلتا ہے اور اتنا برا کھیلتا ہے کہ ہمیشہ ہار جاتا ہے"۔ ملک صاحب دم لینے کو ایک لحظہ رکے اور مجھے پہلو بدلتا دیکھ کر میسنے انداز میں زیرِ مونچھ مسکرائے اور دوبارہ سلسلہ کلام جوڑا۔ "ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ رزق کا وعدہ تو رب نے کیا ہے لیکن جوئے، شراب اور عیاشی کا نہیں۔ لہٰذا یہ سب چیزیں چاہیئں تو مجھ سے تعاون کر۔ تجھے جو چاہیئے ملے گا۔" ملک صاحب نے بات ختم کر کے لوفرانہ انداز میں مجھے آنکھ ماری اور نیا سگریٹ سلگانے لگے۔

دس منٹ بعد ملک صاحب تشریف لائے۔ ان کے چہرے پر "نور" معمول سے کچھ زیادہ تھا۔ انہوں نے چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہوئے سگریٹ سلگایا تو چرس کی مسحور کن خوشبو پوری بیٹھک میں پھیل گئی۔
میں نے نروس انداز میں ملک صاحب کی طرف دیکھا۔ عینک اتار کر اس کے شیشیوں پر پھونک ماری، قمیص کے دامن سے انہیں صاف کیا اور دوبارہ ناک پر ٹکا کر ملک صاحب سے استفسار کیا، "سو واٹ ایگزیکٹلی یو وانٹ می ٹو ڈو، دین؟ (So what exactly do you want me to do then?)" ملک صاحب نے ایک طویل قہقہ لگایا۔ میز پر پڑے گندے جگ سے منہ لگا کر پانی پیا اور مجھے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے، "ڈرو مت باؤ، تجھے صرف میرے حق میں خبریں لگانی ہیں۔ جس میں بتایا گیا ہو کہ میں کتنا بڑا سماجی کارکن ہوں، اور غریب غرباء کا کتنا درد میرے اس متاثرہ جگر میں ہے۔ تجھے تو پتہ ہے کہ دنیا کتنی حسد ہے۔ ایک سجن سو دشمن۔ بس تو مجھے ایک دیالو، ان داتا لکھ اور لکھ لُٹ امیج دے، میں تیرے قرضے، خرچے، جوئے، سب اٹھالوں گا۔ کسی اشرف قصائی جیسے کن ٹُٹے کی جرات نہیں ہو گی کہ تیرا ہوا ول وی تک جاوے۔ آہو۔"

میں اٹھا، ملک صاحب کے گھٹنوں کو چھوا۔ اور الٹے قدموں سے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا۔
میری دنیا بدل چکی تھی۔

Image: Fieca


Related Articles

خالصہ سرکار؛ تاریخی حقائق اور حکومتی تعبیر-مدیر کے نام خط

شیر علی انجم: ہمارے علاقے ہمارے وسائل کی وجہ سے پاکستانی کہلاتے ہیں مگر یہاں قانون کی عملداری اسلام آباد کے مزجپر منحصر ہے۔

سینٹ ویلنٹائن یا سید ولی الدین

مفروض اے سازشی: ٹی ایچ پین کا موقف ہے کہ یورپ نے کسی قدر اپنے تعصب اور کسی قدر مجبوری کے تحت سید ولی الدین کے کارنامے کو سینٹ ویلنٹائن سے منسوب کیا،

Pakistan: A Society in Perpetual Turmoil

Today Pakistan’s image on the international scene is everything but positive...