سترہ روزہ جنگ

سترہ روزہ جنگ
یہ اس سلسلے کا تیسرا مضمون ہے، اسے وطن کے سجیلے جوانو کاپہلا اور دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
 
کشمیر سیل اور آپریشن جبرالٹر
1964ء میں پاکستانی فوج میں ’کشمیر سیل‘ قائم کیا گیا۔ایوب خان نے اس سیل کی سربراہی میجر جنرل اختر حسین ملک کے سپرد کی۔جنرل اختر نے کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے ایک خفیہ منصوبہ تشکیل دیا۔ مارچ 1965ء میں بھارت نے کشمیر کو اپنے وفاق کا باقاعدہ حصہ بنا لیا جس کے بعدمئی اور جون 1965 میں پاکستانی فوج کی 19 بلوچ رجمنٹ سے خصوصی انسٹرکٹر آزاد کشمیر بھیجے گئے۔ ان انسٹرکٹرزنے دس سے بیس ہزار کشمیری رضاکاروں کو عسکری تربیت دی ۔ اس ’جبرالٹر فورس‘ کی ذمہ داری کشمیر یوں کو بغاوت پر اکسانا اور ایک عارضی انقلابی حکومت کا قیام تھا۔ پاکستان پالیسی سازوں کے مطابق اس موقعے پر کشمیری مسلمانوں کو بھارتی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانا آسان تھا۔ 24 جولائی 1965ء کو پاکستانی کمانڈوز کی سربراہی میں رضا کاروں نے کشمیر کی سرحد پار کرنی شروع کی۔ رضاکاروں کو طارق، غزنوی،صلاح الدین، قاسم اور خالد نامی یونٹس میں تقسیم کیا گیا تھا۔
منصوبے کے مطابق ان رضا کاروں نے 8 اگست کو پیر دستگیر صاحب کے عرس میں شریک ہونا تھا اور اگلے روز شیخ عبداللہ کی گرفتاری کے خلاف کشمیری رہنماؤں کی منعقد کردہ احتجاجی ریلی کا حصہ بننا تھا۔ اس ریلی کی آڑ میں انہوں نے ہوائی اڈے اور ریڈیو سٹیشن پر قبضہ کرنا تھا اور اس موقعے پر ’نصرت‘ نامی یونٹ نے بھارتی افواج کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنا تھا۔ان ’مجاہدین‘ کی حمایت کیلئے راولپنڈی میں ایک ’انقلابی کشمیری حکومت‘ قائم کی گئی اور ایک ’آزاد کشمیر ریڈیو‘ بھی شروع ہوا۔ اس منصوبے کی خبر صرف چند جرنیلوں اور اعلیٰ حکومتی ارکان کو تھی اور کشمیری رہنما ؤں سمیت پاکستانی فوج کے فارمیشن کمانڈر اس منصوبے سے بے خبر تھے۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل موسیٰ اور چیف آف جنرل سٹاف، جنرل شیر بہادر اس منصوبے کو جنرل اختر ملک اور ذوالفقار بھٹو کی ناجائز اولاد قرار دیتے تھے۔ رضاکاروں کی قیادت کرنے والے کمانڈو کشمیر زبان بولنا تک نہیں جانتے تھے۔
بھارت نے پاکستان کی جانب سے جارحانہ کارروائی کی صورت میں جوابی حملے کا منصوبہ سنہ 1949ء سے تشکیل دے رکھا تھا اور اس منصوبے کو اس وقت کی بھارتی کابینہ نے بھی منظور کیا تھا۔
رضاکاران کسی قسم کی بغاوت برپا کرنے میں ناکام رہے، بلکہ اُلٹا کشمیری شہریوں نے اِس کارروائی کی خبر بھارتی حکومت کو دے دی۔کشمیر میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا اور جبرالٹر میں شریک زیادہ تر رضا کاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی فوج نے دو ہفتے کے اندر حاجی پیر پاس (جہاں سے پاکستانی رضاکار سرحد پار کر چکے تھے) پر پوزیشن سنبھال لی۔7 اگست کو پاکستانی فوج کے دستوں نے کارگل چوٹی پر قبضہ کر لیا جسے کچھ دن بعد بھارتی فوج نے شدید لڑائی کے بعد re-claim کر لیا۔ ا س صورت حال کے پیش نظر جنرل اختر نے آپریشن گرینڈ سلیم (Operation Grand slam) کے آغاز کی اجازت طلب کی، جو حاصل کرتے ہوئے ایک ہفتہ لگ گیا کیونکہ صدر ایوب خان سوات میں چھٹیاں منا رہے تھے۔ ایوب نے اجازت نامے پر دستخط کرتے ہوئے کہا کہ ہندوؤں کا مورال صحیح وقت پر لگائی گئی ضربیں نہیں سہہ سکے گا۔
65 کی جنگ؛ چند تلخ حقائق
میجر جنرل اختر ملک کی قیادت میں نوے پیٹن ٹینک اکھنور پر قبضے کیلئے روانہ کئے گئے۔ اس کارروائی کے دوران حیران کن طور پر میجر جنرل اختر کی جگہ میجر جنرل یحییٰ کو کمان سونپ دی گئی اور اس تاخیر کا فائدہ اٹھا کر بھارتی افواج نے اکھنور کا دفاع مضبوط کر لیا۔ جوابی کارروائی کے طور پر بھارتی فوج کی جانب سے Operation Riddle شروع کیا گیا جسکے مطابق لاہور اور سیالکوٹ پر حملہ کیا گیا۔آپریشن جبرالٹر کے منصوبہ سازوں نے بھارت کی جانب سے بین الاقوامی سرحد پر حملے کا تصور ہی نہیں کیا تھا۔بھارت نے پاکستان کی جانب سے جارحانہ کارروائی کی صورت میں جوابی حملے کا منصوبہ سنہ 1949ء سے تشکیل دے رکھا تھا اور اس منصوبے کو اس وقت کی بھارتی کابینہ نے بھی منظور کیا تھا۔پاکستانی فوج اس جوابی حملے کیلئے تیار نہیں تھی اور ہنگامی حالت میں قصور کی جانب سے امرتسر پر حملہ شروع کیا گیا۔اس حملے میں پیٹن ٹینک استعمال ہوئے لیکن بھارتی فوج نے نہری پانی کا رخ موڑ کر ٹینکوں کو بے اثر کر دیا اور کھیم کرن کے اس معرکے میں چالیس سے زائد پاکستانی ٹینک ناکارہ بنا دیے گئے۔کھیم کرن کے محاذ پر دو پاکستانی رجمنٹیں دو مرتبہ فاتحانہ پوزیشن سے واپس بلائی گئیں اور اس دوران بھارتی دفاع مضبوط کیا جا چکا تھا۔سیالکوٹ محاذ پر پاکستانی انٹیلی جنس کا حال یہ تھا کہ اعلیٰ افسران کو بھارتی حملے کے درست مقام (Exact Location) کابھی علم نہیں تھا۔ موقعے پر موجود افسران کو جنرل ہیڈ کوارٹر GHQ کی جانب سے افرا تفری کے عالم میں غلط ملط پیغامات اور معلومات موصول ہو رہے تھے۔
بارود ختم ہو گیا
اس جنگ کے دوران فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نور خان نے کشمیر سیل کا منصوبہ سنتے ہی استعفیٰ دینے کا ارادہ کیا لیکن ان کو اس عمل سے روکا گیا۔ ان کے مطابق جنگ کا یہ منصوبہ صرف چند جرنیلوں کے علم میں تھا اور اس منصوبے میں بھارت کی جانب سے جوابی کارروائی کا خدشے کو سرے سے نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ جنگ کے چوتھے روز جنرل موسیٰ نے ایوب خان کو مطلع کیا کہ فوج کے پاس بارود ختم ہو چکا ہے۔ اس دوران امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے امداد بند کرنے کا اعلان کیا جا چکا تھا اور ایوب خان نے اس لڑائی کو ختم کروانے کی کوشش شروع کر دی۔ پاک فضائیہ کے پاس صر ف دو ہفتے کا ایندھن موجود تھا جبکہ بہت سے پیدل دستوں کے پاس ہیلمٹ تک نہیں تھے۔ ایک فوجی بٹالین کو سامان کی ترسیل کیلئے اونٹ استعمال کرنے پڑے۔جنگ کے دوران پاکستانی صدر اور وزیر خارجہ چین کے خفیہ دورے پر روانہ ہوئے جہاں انہیں پہاڑوں پر ٹھکانہ بنا کر گوریلا جنگ لڑنے کی تلقین سننے کو ملی۔ جنگ میں پاک فضائیہ اور بحریہ کی شاندار کارکردگی کے باعث پاک فوج صریح شکست کا شکار ہونے سے بچ گئی۔ بالآخر 23 ستمبر کو جنگ بندی کا اعلان ہوا، اس جنگ کے دوران فریقین کے ایک ہزار فوجی ہلاک ہوئے اور دونوں جانب فتح کا دعویٰ کیا گیا۔
بریگیڈیئر عبدالرحمان صدیقی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا کہ 60ء کی دہائی میں چھاؤنی کی لائبریریوں میں انگریزمصنفین کی کتابیں کم اور نسیم حجازی جیسے تاریخی فکشن نگاروں کی کتابیں بڑھنا شروع ہو گئیں۔
جب تاریخ مسخ کی گئی
بریگیڈیئر عبدالرحمان صدیقی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا کہ 60ء کی دہائی میں چھاؤنی کی لائبریریوں میں انگریزمصنفین کی کتابیں کم اور نسیم حجازی جیسے تاریخی فکشن نگاروں کی کتابیں بڑھنا شروع ہو گئیں۔آپریشن جبرالٹر کی منصوبہ بندی کسی اعلیٰ درجے کے فوجی دماغ کی بجائے نسیم حجازی سے متاثر شدہ افسران کی حرکت لگتی تھی۔ منصوبہ بندی، حکمت عملی (Strategy) اور عملی کارکردگی(Execution) کے پیمانے پر آپریشن جبرالٹر اور ستمبر 1965ء کی جنگ ایک صریح ناکامی تھی، پاکستانی فوجی صرف پروپیگنڈے کے میدان میں کامیاب ہوئی۔جنگی ترانوں اور چنگھاڑتی اخباری سرخیوں نے قوم کو آخری وقت تک دھوکے میں رکھا، کئی معروف شعراء اور دانشور وں نے فوج کی قصیدہ گوئی جاری رکھی۔ سبط حسن نے فیض صاحب پر لکھی کتاب ’سخن در سخن‘ میں کہا: ’ایسی لغو اور مہمل جنگ کی رجز خوانی وہی شخص کر سکتا تھا جس نے اپنی عقل وفہم کو احمقوں کے حوالے کر دیا ہو۔ اس نام نہاد سترہ روزہ جنگ کے زمانے کا لٹریچر یکجا کر کے اگر خود ان ادیبوں، دانش وروں کے سامنے رکھ دیا جائے جو اس لٹریچر کے خالق تھے تو اُن کی گردنیں بھی شرم سے جھک جائیں مگر اس وقت تو اہلِ خرد پر دیوانگی کا عالم طاری تھا۔ کوئی سنجیدگی سے سوچنے یا گفتگو کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ مفاد پرست اخبار گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہے تھے اور فیض صاحب سے حُب الوطنی کا دستاویزی ثبوت طلب کیا جا رہا تھا۔‘
’جون 1964 ء کے بعد سے انٹیلی جنس ایجنسیاں انتخابی مہم کے دوران سیاسی راہنماؤں کی سرگرمیوں کی جاسوسی کرنے پر مامور ہیں، انکے لیے بھارتی فوج کی نقل وحرکت کی اطلاع رکھنا مشکل ہے‘۔
’بزدل،مکار دشمن نے رات کے اندھیرے میں ہم پر حملہ کر دیا‘ جیسے جملے ہر دوسرے اخباری کالم اور نصابی کتاب میں موجود ہیں لیکن آپریشن جبرالٹر کا ذکر بھولے سے بھی کسی سرکاری دستاویز میں نہیں ملتا۔ چونڈہ کی جنگ کے کارنامے زبان زدِ عام ہیں لیکن کھیم کھرن میں پاکستانی ٹینکوں کی المناک ناکامی کی جانب کوئی اشارہ موجود نہیں۔ پاک فضائیہ اور جونیئر افسران کی ثابت قدمی کی عدم موجودگی میں پاکستانی فوج کشمیر آزاد کرانے کے چکر میں لاہور اور سیالکوٹ گنوا بیٹھتی۔ انٹیلی جنس کی ناکامی پر ایوب خان نے ISI کے سربراہ سے 7 ستمبر کو جواب طلبی کی تو بتایا گیا کہ ’جون 1964 ء کے بعد سے انٹیلی جنس ایجنسیاں انتخابی مہم کے دوران سیاسی راہنماؤں کی سرگرمیوں کی جاسوسی کرنے پر مامور ہیں، انکے لیے بھارتی فوج کی نقل وحرکت کی اطلاع رکھنا مشکل ہے‘۔
معجزوں کی دریافت
چند غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تو سادہ کپڑوں میں ملبوس چند بھارتی افسران اصل میں لاہو ر جم خانہ پہنچ بھی چکے تھے اور ہماری دلیر افواج کو خبر تک نہیں تھی۔ وطن کی حفاظت کی خاطر جنگ کو بلا وجہ مذہبی رنگ دیا گیا، اور اس وجہ سے ہر تیسرے بندے کو کوئی غیر مرئی مخلوق پاکستان کی حفاظت کرتی نظر آئی(لاہور میں لوگوں نے داتا صاحب کو بھارتی فضائیہ کے حملے روکتے دیکھا تو سیالکوٹ میں عینی شاہدین کے مطابق امام علی الحق صاحب بھارتی توپوں کے گولے واپس پھینکتے رہے)۔بریگیڈیئر گلزار کی اس جنگ کے بعد لکھی گئی کتاب کے مطابق: ’اس جنگ میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے ہمیں اسلام کے اولین ایام کی یاد تازہ کروا دی، جب جنگ بدر اور جنگ احد کے دوران لازوال قربانیاں دی گئی تھیں‘۔
سرکاری قصیدہ نویس الطاف گوہر نے جنگ کے بعد مختلف یونٹس کا دورہ کیا اور لکھا: ’مجھے ان دلیر مجاہدوں کی آنکھوں میں ایمان کی جھلک نظر آتی ہے‘۔ کرنل زیڈ اے سلہری نے ڈان اخبار میں لکھا: پاکستانی فوج کو صرف ایک جذبے نے آخری دم تک دشمن سے برسرپیکار رکھا اور اس جذبے کا نام اسلام ہے۔ ان قصے کہانیوں سے تنگ آ کر بریگیڈیئر قیوم شیر نے عبدالرحمان صدیقی کو بتایا: معجزے روز روز رونما نہیں ہوتے، یہ قصیدہ نویس ہماری فوج کے دماغ خراب کر رہے ہیں، کہ پاکستانی فوج غیر مرئی بزرگوں کی مدد سے ہی کسی کو شکست دے سکتی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ قسمت نتیجے پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن یہ مت بھولیں کہ بھارتی فوجی بھی اتنے ہی پرجوش اور پیشہ ور ہیں جتنے پاکستانی فوجی۔ ہمیں برتری صرف اس لئے حاصل ہوئی کیونکہ ہم اپنی دھرتی پر لڑ رہے تھے۔
مشرقی پاکستان تنہا تھا
اس جنگ کے دوران مشرقی پاکستان کو خدا کے رحم وکرم پر چھوڑا گیا تھا اور بھارت نے چینی رد عمل کے خوف سے مشرقی محاذ پر پیش قدمی نہ کی۔ اس سوتیلے پن کے باعث مشرقی پاکستان میں بے اعتنائی کے جذبات پیدا ہوئے۔ مرکزی حکومت کے مطابق مشرق کا دفاع مغرب کے ذریعے کیا جانا تھا، یعنی بھارت کو مغربی محاذ پر اتنا مصروف کر لیا جائے کہ وہ مشرقی محاذ کھولنے سے پرہیز کرے۔ یہ حکمت عملی بھی مجنوں کے خواب سے زیادہ قابل عمل نہیں تھی اور ستمبر 1965ء کے معرکے نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کے لیے مغربی محاذ کی حفاظت بھی مشکل ہےیہی وجہ ہے کہ مشرقی حصے کی حفاظت عملی طور پر ناممکن تھی۔ اس جنگ کی باقاعدہ رپورٹ جنرل اختر ملک سے لکھوائی گئی جو آج تک جی ایچ کیو کے کسی تہہ خانے میں پڑی گل سڑ رہی ہے۔
(جاری ہے)
  1. A History of the Pakistan Army: Wars and Insurrections. Brian Cloughley
  2. Pakistan meets Indian Challenge. Gulzar Ahmed
  3. Jawan to General: Recollections of a Pakistani Soldier. Muhammad Musa
  4. The Military in Pakistan:Image and Reality, Brig (Rtd) A.R. Siddiqui
  5. Sukhan dar Sukhan, Sibte Hasan
  6. Crossed Swords: Pakistan, its army, and the wars within. Shuja Nawaz
  7. Rethinking the National Security of Pakistan: The Price of Strategic
    Myopia, Ahmed Faruqui
  8. Pakistan's Drift Into Extremism. Hassan Abbas
Muhmmad Ahad

Muhmmad Ahad

Muhammad Ahad is a software engineer, based in Lahore.


Related Articles

Legalizing the illegal: Protection of Pakistan Ordinance

The laws in a civilized society are promulgated in order to guide its citizens rather than to veil the state sponsored crimes.

بارکھان کی تاریخ

سوران مقبرے کی ظاہری صورت تو بالکل تباہ ہو چکی ہے البتہ اندرونی جانب بنائے گئے نقش و نگار کی باقیات موجود ہیں۔

سندھ کی صوفیانہ شناخت خطرے میں

بدین، تھرپارکر، گھوٹکی سمیت سندھ کے وہ اضلاع، جو معدنی وسائل سے مالامال ہیں، اور ان اضلاع میں ہندو برادری کی بھی کثیر تعداد موجود ہے وہاں مذہبی انتہاپسندی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے