سرائے

سرائے
مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

رہنما

غار سے نکل کر بے نور پتلیوں والے شخص نے رنگ برنگا جھنڈا ایک طرف رکھا!

بغیر سروں کے انسانی ہجوم کو بیٹھنے کا اشارہ کیا!

پھر دوسرے ہاتھ میں پکڑے چھرے کو کھونٹے سے بندھے نوخیز غزال کے پیٹ میں گھونپ کر آزاد کر دیا۔

اس کے رستے خون سے چہرہ تر کیا اور روشنی کی دعا مانگی غزال گیت گاتا، قلانچیں بھرتا رخصت ہوا۔

آسمانوں پر پنکھ پھیلائے ساکت گدھ نظریں جمائے ہوے دور کے درندوں کو خبر دے رہے تھے۔

میں حیران تھا۔

تھوڑی دیر پہلے ہی تو الاؤ روشن ہوا تھا کہ
کارواں ان راستوں میں کھو نہ جائیں جو اندھیروں میں گم ہو رہے تھے۔

جب خوشبو دار پھول راہ دکھانے پر مامور کیے گئے۔

الاؤ بھڑ کانے کو کتنے خوشبو دار پھولوںٰ کتنی نازک کلیوں اور تروتازہ کونپلوں نے اپنا وجود آگ کے سپرد کیا !

مگر افسوس قافلے والے دکانوں سے رنگ برنگے جگنو خرید کر انہی کی پھیکی روشنی میں راستہ بھٹک کر پتھیریلی وادیوں کی طرف نکل گئے۔

سرائے

وہ دلاویز مسکراہٹ سے ہر آنے والے کااسقبال کرتی۔ اس کا والہانہ انداز ہر مسافر کو یہ باور کرواتا کہ جیسے اس کو بس اسی کا انتظار تھا۔ آنے والا ہر مسافر سرشار تھا کہ وہ اس کا خاص مہمان ہے۔

مسافروں کی سرشاری دیدنی ہوتی کہ جب طاقتِ اظہار نہ ہونے کے باوجود وہ ان کی ضرورتوں کو بھانپ جاتیٰ۔ مہمان کو کس وقت کیا چاہیے وہ بن مانگے پیہم خدمت میں ڈٹ جاتی۔

مسافروں کو اس کا قطعاً ادراک نہیں تھا کہ اقتصادی اصولوں کے پیش نظر ہر چیز کی ایک قیمت مقرر ہے۔ وہ تو بس اس کی خدمت سے محظوظ ہو رہے تھے۔

مسافروں کو سرائے میں ٹھہرے ہوئے جب چند دن گزرے تو ان کو احساس ہوا کہ اب اس کی مسکراہٹ میں ایک اکتاہٹ کا عنصر نمایاں ہو چکا ہے۔

وہ آج بھی ان کی خدمت میں کوشاں تھی مگر ایسا لگتا تھا جیسے اب یہ سب بادل ناخواستہ کر رہی ہے وہ نئے آنے والے مسافروں سے خاص عنایت برت رہی تھی جبکہ پرانے مسافر اس کی بے اعتنائی و کج روی کا شکار ہوچلے تھے۔

پرانے مسافروں میں سب سے بوڑھا شخص جسے آج بھی اس کی وہ شاندار اسقبالیہ مسکراہٹ روز اول کی طرح یاد تھی اور وہی اس کے بدلے ہوئے رویے پر سب سے زیادہ دلبرداشتہ بھی تھا دھیرے سے اٹھا اور اپنا سامان باندھنے لگا۔ اس کی ڈبڈباتی ہوئی ملگجی آنکھیں تصور میں اپنا پہلا وجود دیکھنے لگیں کہ جس پر اس قتالہ نے ایک نگاہِ غلط انداذ ڈالی اور اسے غیر مرئی زنجیر سے جکڑ لیا تھا۔
بوڑھا مسافر اپنا سامان باندھ کر جھکی ہوئی کمر پر ہاتھ دھرے دروازے کی طرف بڑھا جہاں وہ اپنی روایتی حشر سامانیوں سے لیس نئے مسافروں کا اسقبال کر رہی تھی۔

بوڑھا اس کے قریب سے گزرا مگر اس نے اسے یوں نظر انداز کیا جیسے جانتی ہی نہیں بوڑھا مسافر دل گرفتہ ہوکر اس کی بے وفائی پر آنسو بہاتا ہوا دروازے تک پہنچا تو ایک آواز سماعت سے ٹکرائی سنیے !!!

یہ اسی کی مدھر آواز تھی۔ مسافر کی آنکھیں فرط مسرت سے جگمگا اٹھیں۔ تمام وسوسے دم توڑ رہے تھے وہ اسے بلا رہی تھی بوڑھے نے خود کو ملامت کیا کہ کیوں کر وہ اسے بے وفا سمجھا وہ تو اسے بلا رہی ہے۔

بوڑھے نے گھوم کر اس کی طرف دیکھا وہ اسی طرح شاداب تھیں کئی ہزار سال کی عمر پانے کے باوجود وہ اتنی ہی تر و تازہ تھی بولی حضور معذرت چاہتی ہوں گر خدمت میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو اب آپ سے حساب ہو جائے؟

بوڑھے نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اپنی بند مٹھی اس کی طرف بڑھائی اور اپنی روح اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔
Faisal Quresi

Faisal Quresi

Faisal Qureshi is an MBA form Karachi. He works in law department.


Related Articles

سائن بورڈ اور دوسری کہانیاں

جنید الدین: آپ کتاب کو بند کر کے نارمل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور یا تو سو جاتے ہیں یا ماں کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ وہ کوئی ایسی بات کرے گی جسے سن کے آپ ہنسنے لگیں گے اور سوچیں گے وہ کتنی معصوم ہے۔

بائیسویں صدی کا آدمی اور دوسری کہانیاں

شین زاد: مجھ سے کب پوچھا مجھے کس گھرانے میں پیدا کرے مجھے تو میرے ماں باپ نے بتایا کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے خدا ہم سب کو پیدا کرتا ہے اور مقدس روح ہماری حفاظت کرتی ہے

عامر صدیقی کے تین افسانے

کارنس ’’میں اسے گڑیا سے کھیلنے نہیں دوں گی۔‘‘ کمرے کے سناٹے کو چیرتی، تین سایوں میں سے ایک کی