سراب میں جل پری

سراب میں جل پری

سمندر یہ زہر نہیں دھو سکتا
جو میری آنکھوں، رگوں
روئیں روئیں میں ٹھاٹھیں مارتا ہے
سمندر میرے قرب سے نیلا پڑ جاتا ہے

ایک ایک پاوٗں جوڑ کر
ریت میں گھروندے بناتے نہیں بھولنا چاہیے
محبت دو مونہی سپنی ہے

لڑکیاں
ادھیڑ عمر مردوں کے ساتھ
محبت کی نیٹ پریکٹس کرتی ہیں
کہ جب نوجوان محبوب
نا تجربہ کاری کی گیند پھینکے
تو وہ اسے میدان سے باہر اچھال سکیں

تم جل پری کی طرح اپنا نچلا دھڑ
مجھ پر مقفل رکھو
میری محبت تمہارے بائیں پستان کے نیچے دبا سیپ ہے
پورے چاند کے تلاطم سے گبھرا کر
تنہائی کے غار میں اترو گی
تاریک دیواروں سے سر ٹکراتے اپنا دل اگلو گی
تو ایک چھوٹی سی نیلے کانچ کی گیند
تمہاری ریتلی جھلی سی آنکھیں خیرہ کردے گی

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Hussain Abid

Hussain Abid

Poet and Musician Hussain Abid, was born in Lahore and is currently living in Germany. His poetry collections; "Utri Konjain", "Dhundla'ay din ki Hidat" and Behtay Aks ka Bulawa" have been praised by the general audience and the critics alike. Hussain Abid collaborated with Masood Qamar to produce "Kaghaz pe Bani Dhoop" and "Qehqaha Isnan ne Ejad kia". Abid's musical group "Saranga" is the first ever musical assemble to perform in Urdu and German together.


Related Articles

تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا

علی زریون: اے بزرگ ستارے
تم ہمیشہ روشن رہو گے
کھوج کرنے والی پیشانیوں
کائنات کا کُھرا نکالنے والے بہادر دماغوں
اور بچوں کی ہنسی میں

ہماری خاموشی، تمہاری داستانیں

تنویر انجم: ہمیشہ رہے گا
ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
ایک گہرا ربط
جوتمہیں نہیں معلوم

تم وہی رہو، جو ہو

زاہد امروز: اِسی طرح تم وہی رہو
عیاری اور منافقتوں سے پاکیزہ
جس کو پوجنا چاہتا ہے
دنیا کا مکّار خدا!