سرخ شامیانہ۔ ساتویں قسط

سرخ شامیانہ۔ ساتویں قسط
ناول "سرخ شامیانہ" کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

راشد کا دماغ لاچارگی، دکھ، غصے اور بائیں جبڑے سے اٹھتے تیز درد نے منتشر کر رکھا تھا لیکن وہ شکستہ یادداشت کے سہارے اور لوگوں سے پوچھتا پرانے لاہور کی گلیوں میں چلتا رہا۔ جاڑے کی سردی سے لاہور کی فضا میں پھیلا گرد، دھویں اورلید کا مرکب منجمد ہو رہا تھا اور اس گھاڑی ہوا کا سانس اس کے قدم بوجھل کررہا تھا۔ موچی دروازے میں اقبال کی دکان تک پہنچتے اس نے کئی بار سوچا کہ اس حالت میں وہ شاہد کے دکھی عزیزو اقارب کے درمیان پہنچ کر ان کی پریشانی میں اضافہ کرے یا نہ کرے لیکن اس کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا۔ لاہو ر میں اس کے جو چند جاننے والے رہ گئے تھے ان سے رابطہ کئی برسوں سے معطل تھا۔

اقبال کی دکان بند تھی، وہ یقیناً شاہد کے جنازے کے ساتھ تھا، لیکن اب تو شاہد کو دفنائے ہوئے بھی کئی گھنٹے گزر چکے ہوں گے، راشد نے افسردگی سے سوچا۔

شاہد کے آبائی گھرکی گلی میں لوگ ٹولیوں میں کھڑے تھے، ایک طرف اینٹوں کے چولہے پر دیگ پک رہی تھی، گھر سے عورتوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اس نے نیم روشن گلی میں محوِگفتگو لوگوں پر نظر ڈالی، ان میں اس کا کوئی شناسا نہ تھا۔ وہ گھر کے دروازے پر پہنچا تو اندر سے نکلتا ایک نوجوان اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔

“راشد چچا، یہ آپ ہیں؟" وہ رندھی ہوئی ٓواز میں بولا”میں، میں بھیڈُو ہوں"۔

راشد کے حلق سے ایک بلند دھاڑ نکلی جسے وہ دن بھر ضبط کرتا رہا تھا۔ یہ ایک جانور کی دھاڑ تھی جو گلا کٹنے پر نکلتی ہے۔

وہ بیٹھک میں داخل ہوا تو چند لوگوں کے درمیان بیٹھا عرفان اٹھ کر اس سے لپٹ گیا۔وہ ایک دوسرے سے لپٹے سسکیوں اور ہچکیوں میں روتے رہے۔

“تمہارا حلیہ کیا بنا ہوا ہے؟" عرفان کو اچانک اس کے سوجھے ہوئے جبڑے کا احساس ہوا تو اس نے پوچھا۔

“پھر بتاؤں گا، اس حالت میں یہاں نہیں آنا چاہتا تھا لیکن میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا"، اقبال اور خاور کے استفسار پربھی اس نے یہی دُہرایا۔

عرفان جنازے کے وقت تک پہنچ گیا تھا، اس نے فلوریڈا ہی سے لاہور ہلٹن میں کمرہ بُک کروا لیا تھا جہاں سامان چھوڑنے کے بعد وہ یہاں آ گیا تھا۔ قبرستان زیادہ دور نہیں تھا، اس کے اصرار پر کہ راشد رستے میں تھا اور اس کا انتظارکرنا چاہیے، خاور نے کافی دیر جنازہ اٹھنے نہیں دیا تھا۔

“تمہیں فون کر کرکے تھک گئے، فون بند، تمہاری کوئی اطلاع نہیں، کب تک جنازہ روکے رکھتے۔ ہوا کیا ہے تمہارے ساتھ؟" خاور نے پھر پوچھا

“کوئی بڑی بات نہیں، خیر ہے، پھر بتاؤں گا، بس یار کا آخری دیدار بھی نہیں کرسکا۔" راشد نے تاسف سے کہا۔

راشد کی درخواست پر عرفان اور اقبال اس کے ساتھ قبرستان روانہ ہوئے۔ بھیڈُو نے ان کا ساتھ دینے کا ارادہ کیا لیکن خاور کے حکم پر کہ اسے پُرسہ دینے والوں کی تواضع کے لیے گھر پر رہنے کی ضرورت تھی، وہ خاموشی سے انہیں جاتے دیکھتا رہا۔

اقبال نے اسے بتایاکہ قاتلوں کے بارے کچھ پتہ نہیں چلا تھا، موٹرسائیکل پر دو آدمی تھے، پیچھے والے نے فائرنگ کی اور موٹر سائیکل دوڑا کر وہ غائب ہوگئے۔ پرچہ درج ہوگیاتھا اور پولیس تفتیش کررہی تھی۔ لاش انہیں پوسٹ مارٹم کے بعد مل گئی تھی۔

“لیکن شاہد جیسی روح سے کسے دشمنی ہوسکتی تھی؟" راشد نے پوچھا

“قتل ہونے کے لیے دشمنی کی یہاں کیا ضرورت رہ گئی ہے، راشد صاحب‘‘، اقبال نے کہا،”دہشت گرد کسی کا نام پتہ کب پوچھتے ہیں"۔

“حالات کا کچھ اندازہ تو مجھے بھی ہو گیا ہے اسلام آباد سے لاہور پہنچتے،" راشد نے کہا

وہ علی الصبح اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔ کسٹم کاوٗنٹر پر اس کے اکلوتے بیگ کی تلاشی میں وہسکی کی ایک چھوٹی بوتل برآمد ہوئی جو اس نے فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر اپنے حواس قابو میں کرنے کے لیے خریدی تھی اور جسے چند گھونٹ لینے کے بعد وہ اسی بد حواسی میں اپنے بیگ میں رکھ بیٹھا تھا۔

“شرم نہیں آتی، مسلمان ہو کر شراب پیتے ہو؟ کسٹم افسر نے بوتل برآمد کرتے ہوئے رعونت سے فرمایا۔

“بے خیالی میں ساتھ آگئی، حواس درست نہیں میرے"

“باہر سے سب ایسے ہی آتے ہیں، یہاں آکر حواس درست ہوجاتے ہیں"

“میرا ایک دوست قتل ہوگیا ہے، میرا دماغ ماؤف ہے اور مجھے جنازے میں پہنچنے کی جلدی ہے"۔

“جنازوں کو کندھا دینے ہی آتے ہیں سارے، کسی کو بچانے تو کوئی نہیں آتا"

“او جناب ٹھیک ہے، اب کرنا کیا ہے؟"

“قانونی کارروائی ہو گی، بوتل ضبط ہوگی، واپسی پر لے لینا"

“ٹھیک ہے آپ بوتل رکھیں اور مجھے رسید دے دیں"۔ راشد نے غصے سے کہا

قانونی کارروائی کے لیے رسید بک کی تلاش شروع ہوئی اور اسے گھنٹہ بھر وہاں رکنا پڑا۔ اس نے لاکھ کہا کہ اسے رسید کی ضرورت نہیں تھی، وہ یونہی بوتل ضبط کرسکتے تھے لیکن رسید کا معاملہ کسی بڑے افسر تک پہنچ گیا تھا اور اب گلوخلاصی ممکن نہیں تھی۔آخروہ بڑا افسربذاتِ خود نمودار ہو۔ “تم لوگوں کے پاس اسٹیشنری تک نہیں تو کیوں لوگوں کو تنگ کر رکھا ہے یہاں، جانے دو انہیں"۔ افسر کی گرجدار آواز گونجی۔

تلاشی لینے والے نے بوتل بیگ میں واپس رکھی اور بیگ بند کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا،" ایک بوتل علیحدہ رکھ لیا کریں ہم غریبوں کے لیے، لگتا ہے پہلی بار واپس آئے ہو"۔

ائیرپورٹ پر ہونے والے اس سلوک نے اسے اتنا بد دل کیا کہ اس نے لاہور کی فلائٹ کا پتہ کرنے کی بجائے بس میں جانے کا فیصلہ کیا، دن ابھی شروع ہوا تھا اور وہ جنازے کے وقت تک کوچ یا بس کے ذریعے لاہور پہنچ سکتا تھا۔ ٹیکسی میں کوچ سٹیشن کی طرف سفر کرتے اس کی نظر ایک جگہ کھڑی دن میں روشنیاں چمکاتی اور باجے بجاتی لاری پر پڑی جس کے ماتھے پر لاہور لکھا تھا۔ اس نے ٹیکسی رکوائی اور وہیں اس لاری میں سوار ہوگیا۔ اس نے اپنے کوفت زدہ ذہن کو ڈھیلا چھوڑنے کی کوشش کی، سفر کی تھکن اور دل کے بوجھ میں وہ جلد ہی اونگھ گیا۔ اس کی آنکھ کھُلی تو لاری دینہ کے قریب سے گزر رہی تھی، اس قرب و جوار میں اس کا آبائی گاؤں تھا جہاں وہ بچپن میں گرمیوں کی چھٹیوں میں ٓیا کرتا تھا۔
گرم دوپہروں میں پرندوں پر غلیل چلاتے کھلنڈرے لڑکے اور ایک سرد ملک میں شیشے کے کمرے میں کمپیوٹر سے سر پھوڑتے آدمی کے بیچ زمانوں کا فاصلہ تھا۔

اس سے ملحقہ نشست پر ایک نوجوان طالبعلم بیٹھا تھا جس کا تعلق راولپنڈی کے کسی گاؤں سے تھا اور وہ لاہور کے کسی کالج میں زیرِ تعلیم تھا۔یہ جاننے کے بعد کہ راشد یورپ سے آرہا تھا اس نوجوان کی دلچسپی صرف اس موضوع سے رہی کہ
باہر جانے کے کیا کیا طریقے ہو سکتے ہیں۔ اس کا بیان تھا کہ وہ اس ملک سے جلد از جلد نکل جانا چاہتا تھا۔
وہاں تو زیادہ تر یہ پڑھنے سننے میں آتا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت مغربی تہذیب کے خلاف ہے،" راشد نے کہا
“سب بکواس ہے جی، یہاں وہی مغربی دنیا کو گالیاں دیتے ہیں جو یہاں رہنے پر مجبور ہیں یا جن کے ہاں حلوے کی دیگیں چڑھی رہتی ہیں"، نوجوان نے تلخی سے کہا۔

چناب کے پُل پر سے گزرتے اسے اپنے باپ کی تلاش میں کیا سفر یاد آیا۔ کئی برس پہلے اسے ایک دور کے رشتہ دار سے اطلاع ملی تھی کہ اس کا باپ انتقال کر گیا تھا، راشد نے نہیں پوچھا تھا کہ جمیل احمد کا انتقال کب، کہاں اور کیسے ہوا اور اسے کہاں دفن کیا گیا تھا۔

وہ انہی خیالوں میں گُم تھا کہ اچانک لاری میں بھگدڑ سی مچی، تین نوجوان مختلف جگہوں سے اٹھے اور ان میں سے ایک نے دروازے کے ساتھ بیٹھے مسلح گارڈ کے سر پر پستول رکھ دی، دوسرے نے اس کی گن چھین لی، تیسرا راشد کے پاس ہی کھڑا چاروں طرف پستول لہرا رہاتھا۔

“ڈاکو، ڈاکو،”راشد کے ساتھ بیٹھے نوجوان کے حلق سے پھسی پھنسی آواز نکلی۔

“خاموش، کیا ہے تیرے پاس، نکال،" پستول بردار نے طالبعلم کو للکارا

لوٹ مار شروع ہوگئی، راشد کے قدموں میں پڑا بیگ کھُلنے پر شراب کی بوتل برآمد ہوئی۔

“شرم نہیں آتی، شراب پیتے ہو؟ شکل سے تو مسلمان لگتے ہو"، پستول بردار نے بوتل پر قبضہ کرتے ہوئے شدید نفرت اور غصے سے راشد کے جبڑے پر پستول کا دستہ رسید کیا۔ اچانک وار اور تکلیف کی شدت سے یکلخت راشد کا دماغ ماؤف ہو گیا، اندھیرے میں چنگاریاں اُڑ رہی تھیں اور ناقابلِ فہہم آوازوں کے جھکڑ۔

اس کے حواس درست ہوئے تو ڈاکو مالِ غنیمت کے ساتھ لاری سے باہر نکل رہے تھے۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کی ساری جیبیں خالی تھیں، نقدی، پاسپورٹ، واپسی کا ٹکٹ اور موبائل فون، سب کچھ لوٹا جا چکا تھا۔ دن کا بقیہ حصہ پولیس کی پوچھ گُچھ اور آہ وزاری میں گزرا، طویل منت سماجت اور بیگ کی کسی جیب سے نکلنے والے اس کے وزیٹنگ کارڈ کی بنا پر پولیس افسر نے اس کے کاغذات چوری ہونے کی رپورٹ درج کی۔

“معلوم نہیں کیسے لاری اڈے سے پیدل چلتا یہاں پہنچا ہوں، اتنا کچھ بدل چکا ہے، کوئی سڑک پہچانی نہیں جاتی"، راشد نے اپنی روداد ختم کرتے ہوئے کہا۔

نیم تاریکی میں ڈوبے قبرستان پہ طاری موت کے سناٹے کو ارد گرد کی سڑکوں سے آتی آوازوں نے ایک ایسے مقام میں تبدیل کردیا تھا جو زندگی اور موت کے درمیان بے ترتیبی سے بکھری مٹی کی ڈھیریوں پر مشتمل کوئی سیارہ معلوم دیتا تھا۔

بوڑھے اورکھردرے درختوں کے درمیان چلتے وہ شاہد کی قبر پر پہنچے۔ راشد نے قبر کے قدموں میں بیٹھ کر پھر سے ایک بچے کی طرح رونا اور بلکنا شروع کردیا۔ اقبال اس کے پاس کھڑا حوصلہ دینے کے انداز میں اس کے شانے سہلاتا رہا۔

عرفان پتھر کے بُت کی طرح کھڑا تھا، اس کی آنکھوں کا خلا اندھیرے میں نظر آتا تھا۔

“پتہ نہیں کب کے اور کس کس کے لیے آنسو جمع تھے میرے اندر، مر کے مجھے تو ہلکا کردیاتم نے"، راشد نے بالآخر طویل سانس لیتے ہوئے کہا۔

“شاہد کو آخر کوئی کیوں قتل کرسکتا تھا، تم تو یہاں اس کے قریب ترین تھے اقبال"؟ اس نے کھڑے ہوتے ہوئے اقبال سے استفسار کیا۔

“میرا تو دماغ ہی بند ہو گیا ہے ڈاکٹر، "اقبال بولا،”میری دکان سے چند دکانیں آگے اس کا کلینک تھا، اس نے اگرچہ اپنی رہائش تبدیل کر لی تھی مگر ہمارا روز کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ شاہد کی بہت عزت تھی علاقے میں، کلینک مریضوں سے بھرا رہتا، لوگ اس کے لیے تحفے لے کر آتے تھے، اتنا سنجیدہ اور ماہر ڈاکٹر تھا میرا یار، کسی سے دشمنی کا تو سوال ہی نہ تھا۔"

وہ تینوں بہت دیر خاموش بیٹھے رہے، سوال تھے اور دکھ، جواب کہیں نہ تھا، قرار کہیں نہ تھا۔

ایک مریل سا کتا خاموشی سے ان کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ نیم اندھیرے میں ایک آدمی نمودار ہوا، موسم گو ابھی سرد نہ ہوا تھا لیکن اس نے خود کو پوری طرح چادر میں لپیٹ رکھا تھا، صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ ان کے بالکل قریب پہنچ کر اس نے چہرے سے چادر ہٹائی، یہ غلیظ بالوں کی لٹوں اور پچکے گالوں پر بے طرح الجھی داڑھی میں چھپا چہرہ تھا، اس کی آنکھوں میں بیک وقت کرب اور دیوانگی کی چمک تھی۔

“توفیق؟" اچانک راشد کے منہ سے نکلا

“اس حلیے میں بھی پہچانا جاتا ہوں"، توفیق نے ایک کھوکھلی، دور سے آتی آواز میں کہا۔

(جاری ہے)
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Hussain Abid

Hussain Abid

Poet and Musician Hussain Abid, was born in Lahore and is currently living in Germany. His poetry collections; "Utri Konjain", "Dhundla'ay din ki Hidat" and Behtay Aks ka Bulawa" have been praised by the general audience and the critics alike. Hussain Abid collaborated with Masood Qamar to produce "Kaghaz pe Bani Dhoop" and "Qehqaha Isnan ne Ejad kia". Abid's musical group "Saranga" is the first ever musical assemble to perform in Urdu and German together.


Related Articles

سرخ شامیانہ - پانچویں قسط

حسین عابد: ڈسپنسری تین کمروں پر مشتمل تھی، ایک گرد آلود میز، کرسی، معائینے کا سٹول، چند زنگ خوردہ اوزار، ایک بستر جس کے سپرنگ پینڈولم کی طرح لٹک رہے تھے اور دوائیوں کی ایک الماری اس کا کل اثاثہ تھے۔

سرخ شامیانہ-پہلی قسط

حسین عابد: میں جو تُند ندی کی طرح تھا، ایک بدبودار جوہڑ بنتا جا رہا ہوں، جامد اور یکساں۔ اب مجھ پر صرف کائی کی تہیں جم سکتی ہیں۔ اس نے استہزائی کرب سے سوچا۔

سرخ شامیانہ - قسط نمبر 3

حسین عابد: کالج غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیا گیا، مبینہ ملزم فرار ہوچکے تھے، ہاسٹلوں کی تلاشیاں لینے کے بعد انہیں گھروں کو کوچ کرنے کا حکم جاری ہوا۔