سرخ شامیانہ - چھٹی قسط

سرخ شامیانہ - چھٹی قسط
ناول "سرخ شامیانہ" کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

سنٹر پر نئے ڈاکٹر کی آمد کی خبر دور دراز تک پھیل چکی تھی، اپنے کوارٹر کے دروازے پر شب خوابی کے پاجامے میں ملبوس شاہد نے دیکھا، وہ مریض خواتین و حضرات شاید سورج کے ساتھ ہی گھروں سے نکل پڑے تھے اور جوق در جوق ڈسپنسری کے صحن میں جمع ہو رہے تھے۔ مچھروں سے ہاتھا پائی میں گزری رات کی کسالت اس کے جسم پر طاری تھی اور وہ سوچ رہا تھا کہ ان بے چارے بیماروں میں تقسیم کرنے کے لیے اس کے پاس کونین کی گولیاں تک نہیں تھیں۔ سنٹر کے سابق غائب حکمران نے اسے ذمہ داریاں سونپنے اور رجسٹر پر دستخط کرنے کے لیے تشریف لانے کا تکلف نہیں کیا تھا۔ یکا یک اسے بھیڑ چیرتا ڈسپنسر نذیر نظر آیا جو اسی کی طرف آرہا تھا۔ علیک سلیک کے بعد اس نے نذیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے دھیمے لہجے میں کہا کہ وہ گھر میں رکھی ساری ادویات لے آئے، انکوائری اور حساب کتاب بعد میں ہوتا رہے گا۔ نذیر نے آئیں بائیں کرنے کی کوشش کی لیکن اپنے نئے افسر کی اٹل سنجیدگی دیکھ کر وہ خاموشی سے گاؤں کی طرف روانہ ہوگیا۔

وہ نذیر سے برآمد ہونے والی ادویات کے چند پیکٹ مریضوں پر تقسیم کر کے جلد ہی فارغ ہو گیا۔ نذیر نے اصرار کیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا کھانا اس کے گھر سے پک کر آئے گا، لیکن شاہد نے یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کیا، اس نے چوکیدار کو کچھ رقم دے کر گاؤں کی جانب روانہ کیا کہ وہ اس کے لیے خوردو نوش کا سامان لے آئے۔ چوکیدار اشرف نے اس کے کوارٹر میں اجاڑ پڑے چولہے کو زندہ کیا اور اس کے لیے کھانا بنایا۔

مریضوں سے فارغ ہو کر اس نے سنٹر کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی، یہ پڑتال جلد ہی ختم ہو گئی، سنٹر کی زیادہ تر دستاویزات یقیناً گاؤں کی دوکان پر پکوڑے لپیٹنے کے کام آ چکی تھیں۔ وہ اکتا کر باہر نکلا، کچھ دیر وہ فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا رہا پھر اس نے گاؤں دیکھنے کا ارادہ ترک کر کے ریتلے ٹیلوں کی راہ لی۔ دن ڈھل رہا تھا اور ریت ابھی اپنے اندر جذب کی ہوئی حرارت فضا کو لوٹا رہی تھی، تھور کے پودوں اور خاردار جھاڑیوں میں کہیں کہیں کوئی بھورا پرندہ پھُدکتا نظر آ جاتا، دور دور تک مکمل خاموشی تھی جیسے یہ کوئی آواز کی پیدائش سے پہلے کی دنیا ہو۔ رات بھر وہ مختلف سوچوں سے الجھتا رہا تھا، وہ یہاں کیا کرے گا؟ وہ جو جھمگٹے کا عادی تھا اور حرکت کا، یہاں کی تنہائی اور سکوت میں کب تک رہ پائے گا۔ کیا اسے بھی اپنی ممکنہ تنخواہ کا کچھ حصہ متعلقہ افسر کے لیے مختص کردینا چاہیئے تھا اور اپنے پیش روؤں کی طرح سیدوں کی دہلیز پر ماتھا ٹیک کر گھر کی راہ لینی چاہیئے تھی؟ پیشانی کے عین درمیان پڑاؤ ڈالتے مچھر پر تھپڑ رسید کرتے اس نے فیصلہ کیا کہ وہ وہیں رہے گا اور جب تک اس سے بن پڑا ایمانداری سے اپنا فرض نبھائے گا۔ بھاگ جانے کا رستہ ہمیشہ کھلا تھا۔ اس نے کل ہی جھنگ جانے اور ضلعی دفتر سے ادویات کی فراہمی کا بندو بست کروانے کا قصد کیا۔

۔۔۔۔۔۔

اس چمکدار دن وہ مریضوں کے معائنے میں منہمک تھا جب اسے ایک اچانک غلغلے نے چونکایا، کمرے کے کھلے دروازے سے باہر دالان میں بیٹھے مریض اور ان کے لواحقین باجماعت کھڑے ہورہے تھے، سلام شاہ جی، سلام شاہ جی کی بلند ہوتی صداؤں میں تین چار مصاحبین کے ہمراہ بوسکی کی قمیض اور سفید کھڑکھڑاتی شلوار میں ایک سرخ و سپید نوجوان صحن میں داخل ہوا۔ حاضرین کمر تک جھُک گئے، خواتین نے چادریں گھٹنوں تک کھینچ لیں اور گرمی سے بلبلاتے بچے اچانک خاموش ہو گئے۔

“چھوٹے شاہ صاحب بہ نفسِ نفیس آگئے ہیں، خیر ہو”، اس نے اپنے قریب نذیر کی سرگوشی سنی۔ اجتماعی وفور کی اس فضا میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے اٹھ کر نوجوان شاہ صاحب کا استقبال کیا۔

“ آپ تو سنا ہے گھر سے ہی ہم لوگوں سے ناراض چلے ہیں، لیکن ہم پڑھے لکھے لوگوں کے قدردان ہیں، آپ کے اسقبال کو خود حاضر ہوگئے ہیں۔” نوجوان نے ایک کرسی پر تشریف رکھتے ہوئے کہا۔ اس کے لہجے میں تکبر، تمسخر اور ایسا ٹھہراؤ تھا جو پشت در پشت مکھن میں پھسلتے رہنے کے بعد نصیب ہوتا ہے۔

“ نہیں مجھے کس بات کی ناراضگی ہوسکتی ہے، مجھے خوشی ہے کہ آپ ملنے آئے ہیں”۔ شاہد نے رسان سے کہا۔

“ آپ کی خدمت کریں گے ڈاکٹر صاحب، یہاں تو کوئی ٹکتا ہی نہیں، گھر بیٹھے تنخواہ بٹورتے ہیں، آپ تو سنا ہے یہاں رہ کر کام کریں گے”۔

“ہاں ارادہ تو یہی ہے”۔

“ بہت اچھے، بہت اچھے”، نوجوان جس نے اپنا نام بتانا ضروری نہ سمجھا تھا، توصیفی انداز میں گردن ہلا کر بولا، جس پراطراف و جوانب سے ماشاٗللہ کی صدائیں بلند ہوئیں۔ شاہ صاحب نے اسے بتایا کہ وہ اس کے جذبے اور لگن کی قدر کرتا تھا اور عنقریب اپنی جیب سے ہسپتال کے لیئے نیا فرنیچر مہیا کرنے والا تھا۔ پھر وہ شاہد کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے اپنے ساتھ باہر لے آیا۔

“ نذیر غریب آدمی ہے اور پھر وہ لوگوں کا علاج ہی تو کرتا رہا ہے، خود تو ساری دوائیاں نہیں کھا جاتا تھا، میری بات سمجھ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب؟”

“ ضابطے کی کارروائی تو ہونی چاہیے”۔

“ ضابطے تو محکوموں کے لیے ہوتے ہیں، آپ تو ہمارے افسر ہیں، ضلع کے افسران بھی ہمارے ہی ہیں، خوامخواہ آپ وہاں انکوائری ڈال آئے، ایسے چھوٹے موٹے معاملے ہم یہیں نمٹاتے ہیں”۔ شاہ نے اس کے کندھے پر تھپکی دی اور مصاحبین کے جلو میں گاؤں کی سمت بڑھ گیا۔

شام اپنے کوارٹر میں اس نے تین ٹانگوں والی میز کی مرمت کی جو اسے سنٹر کے مختصر سے گودام میں مل گئی تھی،میز برآمدے میں رکھ کر اس نے جھنگ سے خریدے ہوئے پلاسٹر آف پیرس کے پیکٹ اس پر منتقل کیے، سوٹ کیس سے مجسمہ سازی کے اوزار نکال کر ترتیب سے میز پر سجائے اور سگریٹ سلگایا۔

پلاسٹر میں تھوڑی سی اس دالان کی ریتلی گرد بھی ملا ئی جائے، ناہید کے نام۔ اس نے کش لیتے ہوئے سوچا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کار کی اگلی نشست پر بیٹھتے ہوئے ناہیدنے دھیان سے اپنی چادر سمیٹ کر دروازہ بند کیا، اگنیشن میں چابی گھماتے اس کے نئے نویلے شوہر کے وجود سے اٹھنے والے آفٹر شیو، ڈی اوڈرینٹ اور پرفیوم کے مرکب مرغولے کار کی فضا معطر کر چکے تھے۔ چوکیدار گیٹ کھول چکا تھا، گاڑی آہستہ روی سے کراچی کی ایک متمول بستی کی سڑک پر نکلی۔ ہسپتال کا راستہ دس منٹ سے زیادہ کا نہیں تھا اور ناہید کو یہ بات بہت پسند آئی تھی، اسے کراچی کی آب وہوا اچھی لگی تھی اور سمندر، لیکن اس شہر کی ٹریفک نے اسے بوکھلا دیا تھا۔والدین کی مرضی اور اس کی رضامندی سے اس کا بیاہ دور کے رشتہ داروں میں کر دیا گیا تھا، یہ ڈاکٹروں کا خاندان تھا، جن کا ایک چار منزلہ ذاتی ہسپتال تھا۔ وہ خاندان میں ایک اور ڈاکٹر کی آمد پر خوش تھے، اس کے والدین احسن طریقے سے اپنا فرض ادا ہونے پر خوش تھے اور وہ اپنے دراز قد اور مضبوط کاٹھی کے مرد کے ساتھ خوش تھی جسے قیمتی سوٹ اور میچ کرتے ریشمی سکارف پسند تھے۔

مہندی کی شام جب اس کی سہیلیاں گا رہی تھیں اور وہ اپنے حنائی ہاتھ گود میں رکھے بیٹھی تھی، ایک لمحہ کے لیئے اسے اس مجہول سے کلاس فیلو کی یاد آئی جو اس سے میڈیسن اور سرجری کی بجائے رنگوں، مجسموں اور شاعری کی باتیں کرتا تھا۔ اور جس کے دماغ میں ایسے بے تکے انقلابی خیالات بھرے تھے جن کی عملی زندگی میں کوئی جگہ نہ تھی۔ گو شاہد نے کبھی اظہار نہ کیا تھا لیکن وہ اس کی مضطرب نگاہ اور لڑکھڑا جانے والے لہجے کو پڑھ چکی تھی۔ اس کی باتیں دلچسپ تھیں اورناہید کو اس سے انسیت سی ہوگئی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں بادلوں کی طرح امنڈتی محبت کا ناہید کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

وہ ایک تنگ گھر سے دوسرے تنگ گھر میں منتقل نہیں ہونا چاہتی تھی، اسے تحفظ کی طلب تھی اور آسائش کی، ایک ایسی زندگی کی جس میں وہ قیمت پر دھیان دیے بغیر اپنی مرضی کا لباس خرید سکے، چمکدار اورخوش باش لوگوں کے بیچ بڑھیا ریستوران میں شام کا کھانا کھا سکے اور جس زندگی میں اسے بچوں کے سکول کی فیس کے لیے تین تین شفٹوں میں کام نہ کرنا پڑے۔ شاہد کی باتوں سے لگتا تھا کہ اگر اس شخص کو اتفاق سے ایسی زندگی مفت بھی مل جاتی تو وہ شاید اپنی میلی جینز سے ہاتھ صاف کرتا پہلی فرصت میں نکل بھاگتا۔

اس سے مکمل قطع تعلق ناہید کے لیے آسان نہیں تھا لیکن اس کے روبرو اس کی محبت کو ٹھکرانا اس سے بھی زیادہ مشکل تھا۔وہ دن جب تقریباً روزانہ گرلز ہاسٹل کا چوکیدار اسے شاہد کی آمد کی اطلاع دیتا، وہ اپنے کمرے کا دروازہ بند کرلیتی تھی۔کمرے میں اکیلی بیٹھی وہ تصور کی آنکھ سے اس پاگل لڑکے کو گیٹ پر بیچینی سے انتظار کرتا دیکھتی رہتی۔

(جاری ہے)
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Hussain Abid

Hussain Abid

Poet and Musician Hussain Abid, was born in Lahore and is currently living in Germany. His poetry collections; "Utri Konjain", "Dhundla'ay din ki Hidat" and Behtay Aks ka Bulawa" have been praised by the general audience and the critics alike. Hussain Abid collaborated with Masood Qamar to produce "Kaghaz pe Bani Dhoop" and "Qehqaha Isnan ne Ejad kia". Abid's musical group "Saranga" is the first ever musical assemble to perform in Urdu and German together.


Join the debate

Your opinion, analysis and feedbacks are welcomed.