سرمد گماں پرستا

سرمد گماں پرستا
سرمد گماں پرستا
سپنا بنا کے سیڑھی
بند آنکھ چڑھ کے اوپر
کھڑکی کیوں کھولتا ہے
سرمد گماں پرستا

 

تو رنگ کا پجاری
سورج کے سائے اپنے
شعروں میں گھولتا ہے
سرمد گماں پرستا

 

معلوم کا ہے قصہ
اور دید کا سفر ہے
اک کھیل چل رہا ہے
سرمد گماں پرستا

 

تو آہٹوں کا قیدی
لفظوں کی کوٹھڑی میں
بادل کیوں سوچتا ہے
سرمد گماں پرستا

 

بن کر فسانے روح کے
ننگے بدن میں اپنے
تہذیب ٹھونستا ہے
سرمد گماں پرستا

 

باطن کی بات مت کر
ظاہر ہے حال تیرا
کیوں جھوٹ بولتا ہے
سرمد گماں پرستا

Original Art Work: Sadequain


Related Articles

بُو باس کا عالم

سدرہ افضل: ممکن ہے
کوئی آدم زاد یہاں سے گزرا ہو
جس کے تلووں کی مٹی سے
ہُو باس کا عالم ٹپکا ہو
عمر کا خالی پَن مہکا ہو

فرض کرو

تو فرض کرو پھر کیسا ہو
جب خواب کی ساری گلیوں سے مسلک کے تماشے دور رہیں
ہم عشق نشے میں چور رہیں

بکھراؤ کا مرکز

سعد منیر: چیخوں سے بنا آدمی
اپنی شرمگاہوں کی دیواروں سے لپٹا ہوا
اپنے مرکز میں بکھرا ہوا
کہتا ہے کہ
کائنات ایک سولہ سال کی لڑکی ہے