سرکاری ملازمت نامہ

سرکاری ملازمت نامہ
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں تیر ا راہ گزر یاد آیا
غالب کا تو پتا نہیں انھوں نے یہ شعر کیوں کہا تھا لیکن سرکاری ملازمت میں آنے کے بعد ہم یہ شعر اکثر گنگناتے ہیں، کہ اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی پتا نہیں کیا سوچ کر اس"کوچہ ملامت" کا رخ کر لیا۔اگر آپ سرکاری ملازم ہیں تو آپ میری کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں اگرچہ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت وقت کے ساتھ ختم ہوچکی ہے۔بحرحال قصہ مختصر یہ کہ ہم نے بھی باقی لوگوں کی طرح عہد جوانی میں بہت سے سہانے سپنے دیکھے جیسے اعتزاز احسن نے کہا!
عہد جوانی میں دیکھے تھے کیسے کیسے خواب سہانے
ایک نئی دنیا کی کہانی ، ایک نئی دنیا کے فسانے
صبح وقت کی پابندی ضروری ہے مگر رہ رہ کے دل میں خیال آتا ہے کہ سرکاری ملازم وقت پر آکر کرے گا کیا۔خیر ایسے غیر اخلاقی سوالات سے پرہیز ہی بہتر ہے۔ سرکاری ملازم صبح سویرے گیارہ نہیں تو بارہ بجے پہنچ کر پہلے نماز اور پھر کھانے کے وقفے کے بعد شام ڈھلے یعنی چار بجے تک اپنا کام ختم کرنے کی جمائی آور اور انگڑائی زدہ کوششوں کے باوجود کام وقت پر ختم نہیں کر پاتا۔
اور ہمیں تمام دوست احباب،عزیز و اقارب اور اساتزہ وغیرہ نے یقین دلایا کہ زندگی کی ساری خوشیاں سرکاری نوکری کرنے میں ہی ہیں۔اب اتنے سارے ذہین فطیں اور تجربہ کار لوگوں کے مشورے کے برعکس کچھ کرنا واقعی بیوقوفی نظر آتا تھا سو آنکھوں میں سپنے سجائے،سینہ تانے ہم پہلے روز دفترپہنچے،ہمارا خیال تھا کہ بہت سے لوگ پھولوں کے ہار لئے ہمارے استقبال میں کھڑے ہوں گے، مبارک باد اور تہنیتی پیغامات کا ایک سلسلہ ہو گا اور کئی روز نئی نویلی دلہن کی طرح ہمارے ناز نخرے اٹھائے جائیں گے۔ پاس پڑوس کی میزوں والے کبھی ہمارے بانکپن تو کبھی ڈگریوں کی تعریف کریں گے اور ہم سرکاری متانت کا گھونگٹ ڈالے من ہی من میں شرمائیں گے، مگر ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ ہر شخص رقیبانہ نظروں سے گھورتا محسوس ہوا۔یہ بھی ایک دلچسپ تجربہ ہے،آپ کسی نجی (private) ادارہ میں جائیں تو لوگ یا تو آپ کی فوراً مدد کریں گے یا پھر اپنے کاموں میں اتنا مصروف ہوں گے کہ بالکل توجہ نہیں دیں گے،مگر سرکاری اداروں میں حساب ذرا مختلف ہے،اول تو لوگ آپ کی مدد ہی نہیں کریں گے اور دوسرا ہر ایرا غیرا نتھو خیرا آپ کو ایسے گھورتا ہوا گزرے گا جیسے آپ اس کے حق پر ڈاکا دالنے آئے ہیں۔
سرکاری اداروں میں کرنے کو کچھ خاص ہوتا نہیں ہے اس لئے لوگ وقت گزاری کے لیئے ایک دوسرے کی ٹوہ میں رہتے ہیں،ایک دوسرے کی برائیاں،حکومت کی برایئاں،مہنگائی کا رونا،حالات کی خرابی،یا حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں۔مجھے کسی نے بتایا کہہ یہاں لوگ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ فلاں نے آج کتنے گلاس پانی پیا،واش روم میں 5 کے بجائے 8 منٹ کیوں لگائے،کتنی روٹیاں کھائیں،کس کے کمرے میں کتنا وقت گزارا۔کون سا اخبار پڑھا،بنک سے کتنے پیسے نکلوائے،جلدی کیوں گیا، دیر سے کیوں آیا ، یا نہا کر کیوں آیا وغیرہ وغیرہ۔اخبار سے یاد آیا کہ اخبار پڑھنا سرکاری ملازمین واسطے نہایت ضروری ہے ایسے ہی جیسے کھانا کھانا ،یا سونا وغیرہ۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ اخبارات چھپتے ہی سرکاری ملازمین کی وجہ سے ہیں۔شاید اخباراتی علم کا ہی اثر ہے کہ ہر شخص خود کو وسیع المطالعہ اور ملکی سیاست،معیشت،تجارت،ثقافت،مذہب، اور حالات حاضرہ پر اتھارٹی سمجھتا ہے، اور دفتری امور سے زیادہ سیاسی امور پر تبصرہ کناں رہتا ہے۔ایک دفعہ تو ایک "قریب الریٹائرمنٹ "جہاں دیدہ بابا جی نے بحث کا خاتمہ اس مجذوبانہ بڑ سے کیا کہ میاں ہم سے کیا بحث کرتے ہو ہمارے علم کی وسعت تم کیا جانو قسم سے اگر ارسطو، سقراط اور افلاطون بھی آج زندہ ہوتے تو ہماری شاگردی اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتے۔
سرکاری دفاتر میں زندگی اس قدر آہستہ چلتی ہے کہ کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم زمانہ قبل از تاریخ میں زندہ ہیں۔اندازہ کیجئے ایک فائل 3 دن میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جاتی ہے اوراس پر دستخط(sign)ہونے میں مزید دو سے تین روز گزر جاتے ہیں۔ہم سب شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم سرکاری ملازم مادہ پرستی اور زمانے کی نفسا نفسی سے محروم ہیں، وقت بے شمار اور وسائل بے پناہ۔سرکاری ادارے ہی وہ محافظ ہیں جو ہمارے سکون، آرام اور آسائش کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں ورنہ غالبؔ تو دو سو سال پہلے بھی وقت کی تیز رفتاری سے پریشان تھا:
کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جائے دل
انسان ہوں کوئی پیالہ ساغر نہیں ہوں میں
اخبار پڑھنا سرکاری ملازمین واسطے نہایت ضروری ہے ایسے ہی جیسے کھانا کھانا ،یا سونا وغیرہ۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ اخبارات چھپتے ہی سرکاری ملازمین کی وجہ سے ہیں۔شاید اخباراتی علم کا ہی اثر ہے کہ ہر شخص خود کو وسیع المطالعہ اور ملکی سیاست،معیشت،تجارت،ثقافت،مذہب، اور حالات حاضرہ پر اتھارٹی سمجھتا ہے، اور دفتری امور سے زیادہ سیاسی امور پر تبصرہ کناں رہتا ہے۔
صبح وقت کی پابندی ضروری ہے مگر رہ رہ کے دل میں خیال آتا ہے کہ سرکاری ملازم وقت پر آکر کرے گا کیا۔خیر ایسے غیر اخلاقی سوالات سے پرہیز ہی بہتر ہے۔ سرکاری ملازم صبح سویرے گیارہ نہیں تو بارہ بجے پہنچ کر پہلے نماز اور پھر کھانے کے وقفے کے بعد شام ڈھلے یعنی چار بجے تک اپنا کام ختم کرنے کی جمائی آور اور انگڑائی زدہ کوششوں کے باوجود کام وقت پر ختم نہیں کر پاتا۔ اور اس قدر ان تھک محنت کے باعث اکثر سرکاری ملازم ظاہروباطن سے بیگانہ نہ ہو تو کیا کرے۔ایک لطیفہ ہے کہ کسی بھی شخص کو اس اسکی پرانی شلوار قمیض،بڑھی ہوئی شیو،پرانی چپل بکھرے ہوئے بالوں کی وجہ سے عاشق،مجذوب، یا غریب نہ سمجھو ہوسکتا ہے کہ وہ سرکاری ملازم ہو۔یہ لطیفہ کافی حد تک درست بھی ہے کیونکہ اکثریت یہی حالت اپنائے ہوتی ہے۔جو زبانِ حال سے کہتے ہیں:
میں کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناوں کس کے لئے۔۔
یہاں ایک مسئلہ یہ ہے کی فارغ رہ رہ کر انساں تنگ آجاتا ہے۔اگر چہ سرکار پوری کوشش کرتی ہے کہ سرکاری ملازمین کے آرام اور سکون میں خلل نہ آئے اور وہ مثبت آسائشی سرگرمیوں میں مشغول رہیں مثلاً دفتری اوقات میں سونا، کھانا ،بار با ر چائے پینا، اخبار پڑھنا، انٹرنیٹ کا استعمال، گپ شپ وغیرہ،لیکن ان سب سرگرمیوں کی باوجود سرکاری ملازمین خاص طور پر افسران بالا بور (Bore) اور پریشان ہوجاتے ہیں کہ اگر سکون اور آرام رہا تو ہماری افسری کو تو کوئی گھاس بھی نہ ڈالے گا اس لئے وہ اپنے سے نیچے والوں کو کسی نہ کسی آزمائش کا شکار کرکے اپنی اور ماتحتوں کی بوریت دور کرنے کا سامان کرتے رہتے ہیں اور اسی کودفتری سیاست بھی کہتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ سرکاری اداروں میں سیاست نہیں ہونی چاہیے لیکن اگر سیاست نا ہو تو بیچارے ملازمین تو بوریت سے مرجائیں۔مشاہدہ میں آیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے پاس ایک ایسی دولت کی فراوانی ہے جو باقی لوگوں کو میسر نہیں اور وہ دولت ہے سکون قلب۔ہمارے اکثر ملازمین کے پاس بچوں کے سکول کی فیس کے پیسے ہوں یا نہ ہوں لیکن سکون قلب بہت ہے۔کیوں کہ جو سکون کسی کی چغلی کرکے،ہڈ حرامی کرکے، یا کسی کو کسی ناکردہ جرم میں پھنسا کر ملتا ہے وہ کسی اور کام میں کہاں۔لیکن اکثر ملازمین اپنے سکون قلب کے ہاتھوں پریشان ہوکر لمبی لمبی نمازیں اور تسبیحات کرتے نظر آتے ہیں۔کئی داڑھیاں بھی رکھ لیتے ہیں کہ کسی کو ان کے کردار پر شک نہ ہوسکے۔اگر آپ سرکاری ملازم ہیں تو مجھے آپ کی دلآزاری پر افسوس ہے لیکن آپ بھی دل بہلانے کے لیئے غالب ؔ کا یہ شعر گنگنائیں:
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھ خدا کرے کوئی

Related Articles

قوم کے منہ پر طمانچہ

جشن آزادی کےموقع پر اس دفعہ کراچی کے عوام میں کافی جوش و خروش دیکھنے میں آیا ۔

دو قومی نظریہ اور دو تنازعات

اگرجناح ایک سال بعد ہم سے جدا نہ ہوتے اور مزید کچھ برس زندہ رہتے تو کیا ہوتا؟ تو پھر پورا برصغیر 15اگست کو یو م آزادی مناتا اور غالب خیال ہے کہ یہ دونوں نو آزاد قومیں جشن آزادی اکٹھے منایا کرتیں ۔

ادبی تھیوری:ایک مغالطہ (پہلا حصہ)

عامر سہیل: تخلیقی فن پارہ صرف اپنی لسانی ساخت کی وجہ سے اہم نہیں ہوتا بلکہ اپنے فکری عناصر کی وجہ سے بھی فن پارہ بنتا ہے۔ادبی تھیوری نے فن پارے کے فکری اور معنوی پہلو کو جس احمقانہ شدت سے رد کیا وہ بجائے خود ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔