سر بُریدہ خواب

سر بُریدہ خواب

میں کسی نامعلوم زبان میں سوچنا شروع ہو گیا۔ میرا خواب دلدلی زمین میں دھنستا چلا جا رہا تھا۔منظر اندر ہی اندر ایک دوسرے کو تیزی سے ہڑپ کرتے چلے جا رہے تھے۔ اندر سے ابھرتی ہوئی آواز بھدی، بھاری اور مدہم ہوتی چلی جا رہی تھی میرا سانس بھی قدرے نوکیلا ہو رہا تھا۔ میں جنگ ہارنے والا تھا مجھے لگا کہ اب کسی بھی لمحے میری آنکھ کھلنے والی ہے میں نے اپنی پلکوں کو زور سے میچ لیا ۔کنواں اپنے سرے تک لبالب بھر چکا تھا آہستہ آہستہ پانی رسنا شروع ہو گیا۔ میں ہربڑا کر اُٹھ بیٹھا۔ کچھ دیر تک کمرے میں کچا خواب جلتا بجھتا رہا پھر وہ ہولے ہولے دھند کی طرح چھٹنے لگا۔ آس پاس کی چیزوں کے نقوش واضح ہونے لگے۔مبہم نامعلوم میں ڈوب رہا تھا بس دور جاتی ہوئی ایک لمس کی میٹھی سی کیفیت سینے ، پیٹ اور رانوں میں سرسراہٹ کر رہی تھی۔ میں بستر پر بیٹھا جانے کیا سوچے جا رہا تھا۔

میرا زندہ ہونا بھی ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ پیدائش کے ابتدائی دنوں سے ہی میرا سانس بات بہ بات رُکنے لگتا۔ ایسے میں میری انگلیاں مڑ جاتیں اور میرا چہرہ سیاہ ہو جاتا۔ میری ماں کے آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگتے اور انہیں یقین ہو جاتا کہ انہوں نے مجھے گنوا دیا ہے ایسے میں زندگی ایک چیخ بن کر میرے اندر سے ابھرتی اور میرا وجود ہلکورے لینے لگتا۔ لیکن چند گھنٹوں کے بعد میرا سانس پھر بند ہونے لگتا۔ سب کو لگتا تھا کہ میں چند ماہ سے زیادہ نہیں جی پاوں گا لیکن میں جیتا رہا ۔ اس کے ساتھ ساتھ جو دوسرا آزار تھا وہ یہ تھا میری نظر بھی ٹھہرتی نہ تھی شروع شروع میں سب بچوں کے ساتھ یہ ہوتا ہے میں بڑا ہوتا گیا لیکن میری نظر نہ ٹھہر سکی۔ منظر میرے سامنے دوڑتے پھرتے رہتے اور میں ان کو پکڑنے کی کوشش میں ہلکان ہو جاتا۔ میرا سر چکرانے لگتا لیکن میں کوئی بھی چیز تفصیل سے دیکھ نہیں پاتا تھا۔ میں تھک کر اپنی آنکھیں بند کر دیا کرتا ایسے میں نامعلوم سائے میرے پلکوں کے اندر ریس لگانا شروع کر دیتے ۔دنیا میرے سامنے سرپٹ دوڑتی رہتی اور میں ٹرین کی ونڈوسیٹ پہ بیٹھا ہمیشہ آس پاس کے منظر سے آگے نکل جاتا۔ میں رکنا چاہتا تھا ،ٹھہرنا چاہتا تھا مگر میں ہمیشہ آگے نکل جاتا اور وقت میرے پیچھے چلتا آتا ۔ مجھے بہت خواب آتے تھے مگر میں آج تک کسی خواب کو پکڑ نہ پایا یہاں تک کہ مکمل تاریکی چھا جاتی میں اُس اندھیرے میں بھی دوڑتا چلا جاتا۔میں ہمیشہ سوچتا کہ کیا ہو کہ یکایک سب کچھ ٹھہر جائے سال، مہینے، لمحے سب دھندلے چہرے اور میں ان سب کو جی بھر کر دیکھتا رہوں۔

ایک دن میں گلی میں چل رہا تھا میں ہر دو قدم پر رک جاتا کہ میرا سایہ میرے ساتھ آ ملے لیکن وہ ہمیشہ کی طرح کسی انتظار میں پیچھے ٹھہرجاتا ایسے میں میرا دل کیا کاش شکر دوپہر ہو جائے اور دھوپ تمام سایوں کو نگل جائے اور یہ آنکھ مچولی ختم ہو۔ اسی دن میں نے اُسے پہلی بار اُسے دیکھا وہ گلی کی نکڑ پر اپنی کہنیوں اور گھٹنوں کے بل کسی چوپائے کی طرح کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ سامنے کو اُٹھا ہوا تھا ۔ اس کی آنکھیں سرخ انگارہ ہو رہیں تھیں اس کے ہونٹ کُھلے ہوئے تھے جس سے رالیں بہہ رہی تھی۔ میں اور میری نظر ایک لمحے میں اُسے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتے تھے کہ یوں لگا کہ جیسے اُس نے ایک جست بھری اور مجھے دبوچنے کو ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ میری گردن کے قریب پہنچا تو یکایک اندھیرا ہو گیا اور وہ اس اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ میں نے نظر پھیر کر دیکھا تو وہ ابھی بھی اُسی جگہ کھڑا تھا اور سرخ آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔ میں اُسے زیادہ غور سے نہ دیکھ پایا میری نظریں آگے نکل گئیں۔ لیکن جیسے ہی میری نظروں نے اُسے کراس کیا مجھے پھر لگا کہ وہ تیزی سے دوڑاتا ہوا مجھ پر حملہ آور ہونے کو ہے جب مجھے لگا کہ بس وہ مجھے دبوچنے ہی کو ہے تو میری نظر پلٹی پھر وہی ایک سیاہ لمحہ اور وہ وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔ میں پسینے میں شرابور ہو گیا تھا۔ میرا سانس پھر بند ہونے لگا میرے قدم جیسے زمین نے پکڑ لیے۔ میرے ہاتھ پاوں کپکپا رہے تھے۔ میں وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا لیکن میں ہل بھی نہیں پا رہا تھا صرف میری نظر دوڑتی جا رہی تھی اور وہ اس کے تعاقب میں دوڑ پڑتا میری نظریں سر گھما کر اُسے دیکھ نہ پاتی جب وہ آخری سرے پر پہنچ کر واپس اُس پر پڑتی وہ وہیں جما ہوتا۔ یہاں تک کہ میرا سانس مکمل بند ہوگیا اور میں بے ہوش کر گر پڑا۔ لوگ مجھے اُٹھا کے گھر لے کر جا رہے تھے اور میری بند پلکوں کے اندر اُس شخص کا سایہ میری طرف دوڑتا چلا آ رہا تھا۔

اس کے بعد اُٹھتے بیٹھتے اُس کا خیال میرے اندر کروٹیں لیتا رہتا اور میں اُس سے پہلو نہ چھڑا پاتا۔ وہ ایک خوف بن کے میرے اندر بس گیا تھا۔ مجھے ہر سمت اُس کے سائے نظر آتے جو مجھ پر حملہ آور ہوتے لیکن وہ کبھی مجھ تک پہنچ نہیں پاتے اور بالکل قریب آ کر غائب ہو جاتے۔ میں دوبارہ اُس گلی میں جانا نہیں چاہتا تھا لیکن روز صبح صبح میرے قدم اُس گلی کی طرف بڑھنے لگتے اور وہ ہمیشہ کی طرح گلی کی نکڑ پہ کھڑا ہوتا اُسے بھی شاید میرا انتظار ہوتا تھا۔ جتنا شدید ڈر مجھے اُسے دیکھ کر مجھے محسوس ہوتا اُس سے کہیں زیادہ کشش مجھے اُس کی طرف کھینچ کر لے کر جانے پر مجبور کرتی۔ جیسے ہی میری نظر اس کو چھوڑ کر آگے بڑھتی اور وہ بجلی کی سی تیزی سے حملہ آور ہوتا خوف میری ہڈیوں میں سرائت کر جاتا۔ میرے قدم رک جاتے اور میرا دل اچھل کر حلق سے جا لگتا۔ شدید ترین خوف سے میں کُبڑا ہو جاتا اور وجود کے ہر مسام سے پسینے چھوٹنے لگتے میرا سانس رکنے لگتا میری نظر ایک پل کو ٹھہرتی اور ایک جھٹکے سے مجھے انزال ہو جاتا اور میں تیز تیز سانس لینا شروع ہو جاتا۔

پھر ایک دن میں شاید نیند میں تھا اور میرے خواب کا بہاو بہت تیز ہو رہا تھا۔ میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے اُس آخری مقام پہ پہنچا جہاں وہ ہمیشہ کی طرح گھٹنوں اور کہنیوں کہ بل کھڑا تھا۔ اس دن اس نے مجھے اپنی کہانی سنائی۔ کہنے لگا “ میں پیدا ہوا تو میری ہڈیاں بہت کمزور تھیں اور میں آسانی سے حرکت نہ کر سکتا تھا ۔ میں سارا دن سیدھا لیٹا پڑا رہتا ۔ میری نظروں کے سامنے گھر کی چھت ہوتی میں اُسے تکتا رہتا عین میرے سر کے اوپر پنکھا تیزی سے چلتا رہتا اور میں بے مقصد اُسےگھورتا رہتا۔ کبھی کبھی چھت کے اس آسمان سے میری ماں کا چہرہ طلوع ہوتا اور میرے چہرے پہ جھک جاتا۔ یہ واحد انسانی چہرہ تھا جسے میں پہچانتا تھا۔ میری ماں مجھے اٹھاتی ،پیار کرتی، نہلاتی، دھلاتی اور مجھ سے وہ باتیں کرتی جس کی مجھے کچھ سمجھ نہ آتی تھی۔ بس میں گھور گھور کر انہیں دیکھتا رہتا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ مجھے میرے باپ کی کہانیاں سناتی تھی کیوں کہ وہ کبھی کبھی پرجوش ہو جاتی، کبھی مسکرانے لگتی اور کبھی اُس کی آنکھوں اور ناک سے پانی بہنے لگتا۔ میں بڑا ہو رہا تھا اور میرا وزن تیزی سے بڑھا رہا تھا اب میری ماں اکثر مجھے اُٹھاتے ہوئے تھک جاتی اور کبھی کبھی مجھے کوسنے لگتی جس کے بعد وہ اور میں دونوں رونے لگتے اور وہ مجھے زور سے سینے سے لگا لیتی۔ مجھے نامعلوم لوگوں، شہروں اور ملکوں کے خواب آتے۔ میں ہمیشہ خوابوں میں خود کو اڑتا ہوا نامعلوم ملکوں کی سیر کرتے ہوئے پاتا۔ میں جھیلوں، آبشاروں میں تیرتا پھرتا۔ مجھے تتلیوں اور پھولوں سےبھرے باغات نظر آتے ۔ جب میں جاگتا تو بہت دیر تک ان پھولوں کی خوشبو میرے بستر سے آتی رہتی یہاں تک کہ میرے اپنے وجود کی بو اُس خوشبو کو نگل لیتی۔ ایک رات میں بستر پر لیٹا کسی نامعلوم خواب کے انتظار میں پڑا تھا کہ میرے کانوں میں آواز گونجی۔ میری ماں سجدے میں پڑی اپنے خدا سے کہہ رہی تھی کہ ائے خدا میری مدد کر میری ہڈیاں کمزور پڑ گئی ہیں اور میں اس بوجھ کو مزید نہیں اٹھا سکتی۔ اپنی امانت واپس لے لے۔ یہ سن کر میرا پورا وجود سُن ہو گیا۔ میرے ہاتھ پاوں کانپنے لگے۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور مجھ میں مرنے کی شدید ترین خواہش پیدا ہوئی۔ میں رینگتا ہوا بستر سے زمیں پہ آیا۔ میرے کانوں سیٹیوں کی آوزیں گونجنے لگی۔ میں کسی پالتو جانور کی طرح سیٹی کی آواز پر کہنیوں اور گھٹنوں کے بل بھاگنا شروع ہو۔ مجھے یاد نہین کب میں نے گھر کی دہلیز پار کی، کب میں اپنی گلی کب میں اپنے محلے سے نکلا۔ میں بس بھاگتا چلا جا رہا تھا۔ میری کہنیوں اور گھٹنوں سے خون رس رہا تھا لیکن میں دوڑتا چلا گیا۔میں نے اپنا بچپن، اپنی ماں اور اپنا ایمان بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا “

اُس کا چہرہ میرے سامنے تھا وہ رو رہا تھا، اور میں بھی، وہ تھک چکا تھا اور میں بھی۔ہم ایک دوسرے سے ایک پل کو جدا ہوئے تو میں نے دیکھا کہ اس خواب کی آخری دہلیز پر ایک نیلی آنکھوں والا نوجوان کھڑا تھا۔ ہم دونوں نے اُس کی طرف دیکھا اور اپنے خواب میں اُس کی موجودگی کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا۔

۔وہ نیلی آنکھوں والا خواب گر دیوتادیوتاوں میں سب سے جدا تھا۔ وہ آسمانی دیوتاوں کے لئے خواب تخلیق کرتا تھا۔ پھر اُس نے لافانی خواب تخلیق کئے جس کے زیر۔اثر سبھی دیوتا نامعلوم لمحوں کے لئے سو گئے۔ وہ اب تھک چکا تھا اُس کی انگلیاں خواب لکھتے لکھتے خون آلود ہو گئی تھیں۔ وہ ان سب کو سوتا چھوڑ کر لامحدود خلاوں میں اُتر گیا۔ اُس کی انگلیوں سے قطرہ قطرہ خون ٹپکتا رہا ۔ ہزاروں لاکھوں کہکشائیں غنودگی میں جا رہی تھیں۔ کا ئناتوں میں سحر بکھرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ایک دودھ پیتی کہکشاں تک پہنچا۔ وہ ان لوگوں تک پہنچا جو خواب دیکھنا نہ جانتے تھے۔ ان کی آنکھیں پتلیوں کے اندر تیزی سے حرکت کرتی تھیں۔اُس نے ان کی نظروں کو ٹھہرانا تھا پھر اس میں خواب اتارنےتھے۔ تہذیب یافتہ لوگوں کو خواب دکھانا دیوتاوں کے لئے بھی کتنا مشکل تھا۔ اُس نے چھٹی سمت کو چنا اور وہاں اپنے خواب بکھیر دئیے۔ یہ وہ راستہ تھا جس سمت کوئی نہیں آتا تھا۔ پھر لوگوں کے قدم ڈگمگانے لگے۔ وہ اپنے خوابوں پر اوندھے منہ گرنے لگے۔ پہلے پہل کسی کو سمجھ نہ آیا کہ وہ اپنے خواب لے کر کدھر جائے۔ سبھی دیوانے ہونے لگے۔ ایک نوجوان اُٹھا اُس نے مقدس نشان زمین پہ دے مارا اور پاس کھڑی لڑکی کو باہوں میں لے لیا۔ لڑکی نے ایک طویل بوسے کے بعد ٹشو سے اپنے ہونٹ پونچھے اور شرما کر اپنے باپ کی طرف دیکھا اُس کا باپ جان بوجھ کر بے خبر بن کر مقدس گیت دہرانے لگا۔ ان سیٹ میں سارے دیوتا نیند میں تھے اس لئے کسی نے اُس طرف توجہ نہ دی۔ سُرخ بتیاں جلا دی گئیں غلاموں نے اپنے گلوں کے طوق کھول لئے اور سروں سے لپیٹ کر ملی ترانے پڑھنے لگے۔ موت کی خوشبو ہر سو پھیلنے لگی لوگ پلیٹوں میں اپنے ہم جنسوں کو سررکھے چھری کانٹے سے کھانے لگے۔ اس شدید بھوک کہ باوجود وہ اپنے کوٹ کے بٹن کھولنے اور ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرنی نہ بھولے۔ سب لوگوں نے اپنی مقدس کتابوں کو آگ لگا دی اور موت کو سولی پہ چڑھا کے زندگی کے خواب دیکھنے لگے۔ آگ جب آسمان تک پہنچی تو دیوتا ہربڑا کر اُٹھ بیٹھے۔ نیلی آنکھوں والے دیوتا کو زنجیروں سے باندھ کر آسمان پر لایا گیا اور سماوٰی خوابوں کو زمین میں بونے کے جرم میں ایک خواب کے قید خانے میں اترنے کا حکم سنا دیا۔ یوں یہ دیوتا ہمارے خواب میں آ کر قید ہو گیا۔

اب ہم تینوں ایک خواب میں قید تھے جس کے چاروں سروں پر اندھیرا تھا جو آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ خواب کی زمین تنگ ہوتی چلی جا رہی تھی۔ ہم تینوں سمٹ کر ایک دوسرے سے جڑ کر بیٹھ گئے تھے۔ ہمیں مزید اندر دھکیلا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ ہم نے ایک دوجھے کو گلے لگا لیا۔ ہم ایک نقطے کی طرح سمٹ رہے تھے۔ میں خواب سے بیدار ہونا چاہتا تھا۔ گھٹن اتنی بڑھ گئی تھی کہ میرا سانس بند ہونے لگا۔ میں چیخنا چاہتا تھا، میری چیخ حلق میں پھنس کے رہ گئی۔ وہ دونوں میری نطروں کے سامنے تحلیل ہو رہے تھے اور یہ منظر میری آنکھوں میں پتھر ہو گیا۔ میرا سانس کبھی نہ بحال ہونے کے لئے بند ہو گیا۔

Image: Dimitry Vorsin

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Asad Raza

Asad Raza

Asad Raza is an anthropologist. He is a researcher by profession and is interested in reading and writing stories.


Related Articles

قاری ظفر

ژولیاں: ظفر کا اِرادہ نیک ہے۔ مگر اُس کی دُلہن اڑیل اَور سازشی ہے۔ وہ اُسے قریب نہیں آنے دیتی اَور اُس سے دُور بھاگتی ہے۔۔۔۔ شادی کو دو ہفتے گزر چکے ہیں، اَور ظفر ابھی تک اپنا اِزدواجی وظیفہ اَدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اُس نے بارہا کوشش کی مگر وہ ہر کوشش میں نامُراد ہی ٹھہرا۔

لُون پلیتھن

پیدل پگڈنڈی کی ریت ابھی گرم تھی۔ میرے سامنے کے افق پر پیلے گؤ کے گھی میں تلے گئے انڈے کے جیسے سرخی مائل زرد سورج کو دن بھر کی مسافت دھیرے دھیرے کھائے جا رہی تھی۔

The Madness of Readymade Letters[i]

Dr. Javed Jalees, a psychiatrist, has put me to a really difficult test. It is a test of my skill to write,