سقوط ڈھاکہ اور امریکی کردار (آخری قسط)

سقوط ڈھاکہ اور امریکی کردار (آخری قسط)

سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے مشیر برائے سلامتی بروس ریڈل تیس سال تک امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے سے وابستہ رہ چکے ہیں، ساٹھ کی دہائی میں بھارت چین کشیدگی ہو ایوب دور میں پاکستا ن امریکہ تعلقات کی نئی اڑان ہو یا افغان جہاد میں امریکی کردار۔۔ سقوط ڈھاکہ سے پہلے اور بعد کی کہانی ہو یا پھر کارگل جنگ کے بعد نواز کلنٹن ملاقات کے راز، بروس ریڈل کئی اہم معاملات کے عینی شاہد ہیں۔ رفیع عامر پاکستانی نژاد امریکی ہیں جو ایک عرصے سے نیوجرسی میں مقیم ہیں، کہنے کو تو سافٹ وئیر بیچتے ہیں لیکن تاریخ، سیاسیات اور جغرافیائی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی وہ پاکستان سے ایسے بندھے بیٹھے ہیں جیسے کشتی سے ملاح۔ ان کی حالیہ کاوش بروس ریڈل کی کتاب 'اوائیڈنگ آرماگیڈن' کے ایک باب کاترجمہ ہے، جس کی پہلی کڑی قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ کہانی طویل ہے اور ایسے میں تمام تر حوالہ جات کا نقل کرنا قدرے مشکل تھا لہذا حسب ضرورت کسی بھی حوالے کے لئے کتاب سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ (تعارف: اجمل جامی)

اس سلسلے کی پہلی اور دوسری قسط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ستائیس اپریل انیس سو اکہتر کو جب مشرقی پاکستان ٹکا خان کے بوٹوں تلے مسلا جا رہا تھا، چین نے بذریعہ پاکستان ہنری کسنجر کو خفیہ دورے کی دعوت دے ڈالی۔ پھر کسنجر نے جون میں چین کو اپنی جلد آمد کی اطلاع دی اور اپنے اسلام آباددورے کی تیاری شروع کر دی۔ پاکستان میں امریکی سفیر اور سی آئی اے کو پہلی بار اعتماد میں لیا گیا اور انہیں ہدایت کی گئی کہ یحییٰ خان کے ساتھ مل کر کسنجر کے خفیہ دورہ چین کی تیاری کی جائے۔ یحییٰ خان کے ساتھ عشائیے کے بعد کسنجر کے عملے نے صحافیوں کو (طے شدہ منصوبے کے تحت) اطلاع دی کہ کسنجر کی طبیعت ٹھیک نہیں اور وہ دو دنوں کے لئے مری میں آرام کرنے جا رہا ہے اور وہ اس دوران کسی صحافی سے نہیں ملے گا۔

اور پھر دس جولائی انیس سو اکہتر کو کسنجر پاکستانی طیارے پر بیجنگ پہنچا جہاں اس نے چئیرمین ماؤ اور اعلیٰ چینی قیادت سے ملاقات کی۔ اگلے ہی دن وہ واپس اسلام آباد پہنچا اور اپنے معمول کے دورے کو جاری رکھا۔ ایک بڑا راز اس خفیہ دورے کے بعد بھی راز ہی رہا۔ چند دنوں کے بعد نکسن نے امریکی عوام کو اس سفارتی کامیابی سے آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ وہ چین کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایک ذاتی خط میں نکسن نے یحییٰ خان کا شکریہ ادا کیا اور لکھا "آنے والی انسانی نسلیں ایک پرامن دنیا کے لئے ہمیشہ آپ کی مقروض رہیں گی"۔

ہنری کسنجر اور ماوزے تنگ کے درمیان ملاقات کا منظر

ہنری کسنجر اور ماوزے تنگ کے درمیان ملاقات کا منظر

دوسری جانب اندرا گاندھی کو اپنا بھیانک ترین خواب پورا ہوتا نظر آ رہا تھا۔ مشرقی پاکستان کے بحران کی وجہ سے کلکتہ اور آسام عدم استحکام کا شکار تھے، امریکہ پاکستان کی حمایت کر رہا تھا اور ایک نیا بیجنگ ۔ اسلام آباد ۔ واشنگٹن اتحاد تشکیل پا رہا تھا۔ اندرا نے ایک جوابی اتحاد بنانے کی لئے ماسکو کا دورہ کیا جس کے نتیجے میں سوویت ۔ بھارت دوستی اور تعاون کا معاہدہ ہوا جو دونوں ممالک کو بہت قریب لے آیا۔ اس معاہدے کے مقاصد میں سے ایک چین کو پاکستانی ایماء پر فوجی مداخلت سے خبردار کرنا تھا۔ دوسرے الفاظ میں اندرا گاندھی نے چین کو پیغام دے دیا تھا کہ اگر چین نے ممکنہ جنگ میں مداخلت کی کوشش کی تو اسے سائبیریا اور منچوریا میں روسی فوج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جنگ ہوا ہی چاہتی تھی۔ نومبر میں اندرا گاندھی نے بنگالی عوام اور بھارت کے لئے امریکہ اور اقوام متحدہ کی حمایت حاصل کرنے کے لئے نیویارک اور واشنگٹن کا دورہ کیا۔ اسے اوول آفس میں نکسن کی شکل میں ایک آہنی دیوار کا سامنا کرنا پڑا۔ نکسن کے نزدیک وہ سوویت یونین کی پارٹنر تھی اور نکسن کے لئے اندرا کے تمام تحفظات کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ یہ ہر لحاظ سے ایک مایوس کن ملاقات تھی۔ نکسن نے اندرا کی پیٹھ پیچھے اسے کتیا اور اس سے بھی برے القابات سے نوازا۔ اندرا کے نزدیک نکسن ایک سرد جنگ کا جنونی تھا جس کے نزدیک انسانی زندگی کی کوئی وقعت نہ تھی۔ اس ملاقات کے بعد اندرا گاندھی نے فوجی کمانڈر فیلڈ مارشل سام مانک شاہ کو مشرقی پاکستان پر حملے کی تیاری کا حکم دے دیا۔

لیکن پہل پاکستان نے کی۔ اسرائیل کے انیس سو سڑسٹھ کے مصر پر حملے کی طرز پر ابتدائی برتری لینے کے لئے پاکستان نے تین دسمبر انیس سو اکہتر کو آپریشن چنگیز خان لانچ کیا جس کا ہدف بھارتی ایئر بیس تھے۔ حملہ ناکام رہا اور بھارت نے جارحیت کا آغاز کر دیا۔ مانک شاہ بھاگتی پاکستانی فوج کے تعاقب میں تھا۔ مشرقی پاکستان میں تعینات نوے ہزار پاکستانی فوجیوں کو ایک ایسی صورتحال کا سامنا تھا جس میں کسی مثبت امید کی گنجائش نہ تھی۔ وہ تین اطراف سے گھر چکے تھے اور کمک ایک ہزار میل دور تھی۔

اکہتر جنگ میں پاکستان نے پہل کرتے ہوئے بھارتی فضائی اڈوں پر حملے کیے

اکہتر جنگ میں پاکستان نے پہل کرتے ہوئے بھارتی فضائی اڈوں پر حملے کیے

امریکہ ہر طورپاکستان کے ساتھ تھا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جارج ایچ ڈبلیو بش (جو بعد میں امریکہ کے اکتالیسویں صدر بنے) نے بھارت کو "عظیم جارح" قرار دیا۔ خلوت میں بش کسنجر کو "مغرور اور خوف زدہ انسان" پکارتا تھا لیکن پبلک میں بش نے وائٹ ہاؤس کی پالیسی کا دفاع کیا۔ کسنجر اور بش نے اقوام متحدہ میں چین کے سفیر سے ملاقات کی اور بین السطور چین کو جنگ میں شمولیت کی دعوت دی۔ کسنجر نے چینیوں کو کہا کہ اگرچہ ان پر ہتھیاروں کی پابندی قائم ہے لیکن وہ ایران اور اردن جیسے امریکی اتحادیوں کے ذریعے امریکی لڑاکا طیارے چین کو فراہم کر سکتا ہے (جو کہ ایک غیر قانونی قدم ہوتا)۔ سی آئی اے نے ایران اور اردن کو سابق امریکی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلام آباد کو ایف ۔ 104 فراہم کرنے کو کہا۔ اردن نے کئی طیارے فوری طور پر پاکستان منتقل کر دیے لیکن جہاں تک چین کا تعلق ہے، اس نے پاکستان کی کسی قسم کی مدد نہیں کی۔

عین اس موقع پر سی آئی اے نے نکسن کو ایک انٹیلیجنس رپورٹ پیش کی جس کے مطابق اندرا گاندھی کے عزائم مشرقی پاکستان تک محدود نہیں تھے۔ رپورٹ کے مطابق اندرا گاندھی اس جنگ میں پورے پاکستان کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اگرچہ سی آئی اے کے کچھ ماہرین کے نزدیک یہ رپورٹ کلی طور پر قابل اعتبار نہیں تھی لیکن اس رپورٹ نے واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر رچرڈ ہیلمز نے وائٹ ہاؤس کو کہا "اندرا گاندھی کوشش کرے گی کہ پاکستان کی تمام بری اور فضائی افواج کی مشینری ختم کر دی جائے اور اس کے بعد کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کو بندوق کی نوک پر زیر کرلیا جائے"۔ نکسن نے اس رپورٹ کو ان چند رپورٹس میں سے ایک قرار دیا جو سی آئی اے نے اسے بروقت فراہم کیں۔

اس رپورٹ کے نتیجے میں نکسن نے فوری طور پر امریکی بحری بیڑہ یو ایس ایس اینٹرپرائزکی قیادت میں خلیج بنگال میں اتارنے کا حکم جاری کیا۔ یہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی حمایت کا بہت پرزور مظاہرہ تھا۔ شائد نکسن یہ کر کے چین کو ہمت دلانا چاہ رہا تھا کہ وہ بھارت پر حملہ کر دے۔ اندرا گاندھی آسانی سے ڈرنے والی خاتون نہیں تھی اور ویسے بھی اب دیر ہو چکی تھی۔ پاکستان نے ڈھاکہ میں چودہ دسمبر انیس سو اکہتر کو امریکی قونصل سے کہا کہ وہ بھارت کو مطلع کردے کہ پاکستانی فوج ہتھیار ڈالنے کو تیار ہے۔
اور پھر پاکستان کی تاریخ کا تاریک ترین دن آن پہنچا۔۔۔!

(بروس رائیڈل نے اپنی کتاب میں امریکی بحری بیڑے کی خلیج بنگال میں جانے کی تفصیل بیان نہیں کی کیونکہ شائد یہ کتاب کے وسیع تر موضوع کا تقاضا نہیں تھا لیکن میرے خیال میں پاکستان میں موجود ایک غلط فہمی کے ازالے کے لئے یہ تفصیل ضروری ہے۔ نہ صرف یہ کہ امریکی بحری بیڑہ خلیج بنگال کی طرف گامزن تھا بلکہ امریکہ کے کہنے پر ایک برطانوی بحری بیڑہ بھی ایچ ایم ایس ایگل نامی جہاز کی قیادت میں بھارت کی طرف رواں تھا۔ چند ماہرین کے خیال میں منصوبہ یہ تھا کہ برطانوی بیڑہ بحیرہ عرب کی طرف سے بھارت کے مغربی ساحل سے بھارت پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں پہنچے گا اور امریکی بیڑہ خلیج بنگال سے مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کی مدد کرے گا ۔ لیکن بھارت کو اس منصوبے کی بھنک پڑ چکی تھی سو بھارت نے اپنے معاہدے کے تحت دسمبر دس کو سوویت یونین سے مدد مانگ لی جس کے جواب میں سوویت یونین نے ولادی واسٹوک سے دسویں آپریٹو بیٹل گروپ سے وابستہ سوویت آبدوزوں کا ایک دستہ خلیج بنگال روانہ کر دیا۔ ایڈمرل ولادمیر کرگلیوکوو اس دستے کا کمانڈر تھا۔ اس نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک انٹرویو کے بعد بتایا کی جیسے ہی امریکی بیڑے نے خلیج بنگال میں داخل ہونے کی کوشش کی، ایڈمرل نے، ماسکو کے احکام کے مطابق، اپنی آبدوزوں کو سطح آب پر آنے کا حکم دیا تاکہ امریکی بحریہ دیکھ لے کہ سوویت بحری دستوں میں میں نیوکلیئر آبدوزیں شامل تھیں ۔ پیغام واضح تھا: امریکہ کی بھارت کے خلاف جارحیت ممکنہ تیسری عالمی جنگ کا آغازہو سکتی تھی۔ سو امریکہ نے یہ انتہائی قدم لینے سے گریز کیا ۔ مترجم)
Rafi Amir

Rafi Amir

Rafi Amir lives in New Jersey, and deals in software products. He has a keen interest in history, politics and geography. Follow @Rafi_AAA


Related Articles

امیرِ بُخارا کا عدل

ان کی توجہ دو آدمیوں کی طرف مبذول ہوئی جن میں سے ایک گنجا اور دوسرا داڑھی والا تھا۔ دونوں اپنے اپنے شامیانوں کے نیچے کھاری زمین پر لیٹے تھے ۔

ایک جابر کا سنگِ مزار

جب وہ ہنستا تو معززین و شُرفاء بھی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوتے
اور جب وہ روتا تو چھوٹے چھوٹے
بچے گلیوں میں مرتے جاتے

خوبصورت ترین نظریہ

آئن سٹائن کی مساوات یہ بتاتی ہے کہ سپیس جامد نہیں رہ سکتی۔یہ لازماً پھیل رہی ہے۔