سمندر جزیروں کو کھا جاتا ہے

سمندر جزیروں کو کھا جاتا ہے
سمندر جزیروں کو کھا جاتا ہے
میرے دادا کے آٹھ بچے تھے
تین نے
منزل کی طرف کوچ کیا
باقی پانچ
انتظار اور کرب کی صلیب اٹھائے
کسی جزیرے کی طرح
الگ تھلگ، ویران
خواہش کے کانٹے میں پھنسے
ایک ہی بطن سے جنم لینے والے
شاید
اپنا انتخاب خود کرنا چاہتے تھے
تقدیر نے انہیں اکٹھا باندھ دیا

 

آنکھ کا کھلنا
زندگی کے جال میں ایک نئے فرد کی آمد
موت
انجان ترائیوں میں کسی
نیک روح کے پہلو میں دفن ہونا

 

جزیرے، جزیرے نہیں رہتے
سمندر
جزیروں کو کھا جاتا ہے

 

صحن میں کھیلتے بچے
آسمان کے تاروں میں
اپنی الگ بستیاں بسانے کے جنوں میں
جزیرے بن جاتے ہیں

 

دکھ اور سدھارتھ کا وعظ
رشی منی
کے مریدوں کے ہاتھ میں لٹکے کاسے میں
وقت
خیرات کی صورت
ہمیں جزیرے بننے پر مجبور کرتا ہے
اورسمندر
ان جزیروں کو کھا جاتا ہے

Image: Jason deCaires Taylor


Related Articles

میرا سایہ

عذرا عباس: لیکن جب کبھی
کوئی مجھے کہیں دیکھ لیتا ہے
میرے سینے میں
چھرا گھونپ دیتا ہے

لاشیں اور دن ترتیب سے گنے جاتے ہیں

نصیر احمد ناصر: لاشیں ترتیب سے رکھی گئیں
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے

کوڑے کے ڈھیر پہ پڑا سچ

صفیہ حیات: زچگی کے دن ماں کے گھر گزارتی بیوی
بستر کے ساتھی کو
ساتھ لانا بھول گئی