سنڈریلا آج گھر نہیں آئی

سنڈریلا آج گھر نہیں آئی
سنڈریلا آج گھر نہیں آئی
میں آج بھی شیشے چن رہا ہوں
دیواروں کے اندر
میں خود کو کھڑا دیکھنا چاہتا ہوں
میں خدا لگتا ہوں
میری آنکھیں کمزور ہیں
ان کو بس سب کچھ نظر آتا ہے
اور ان سے رویا بھی نہیں جاتا
جیسے اندر سیسہ بھرا ہو
بینائی ٹن! کر کہ رہ جاتی ہے
میرے کانوں میں
کائنات کا جھومنا
گونجتا ہی نہیں
میں بلبلے میں بیٹھا ہوا
چلّا رہا ہوں
جیسے کمزور خدا چلّاتے ہوں گے
جن کے فرشتے بنتے ہی بگڑتے
ٹوٹ جاتے ہیں
یہ کائنات بھی ایک فرشتہ ہے
ایک خدا تو ایسا بھی ہے
جو بس سوچتا رہتا ہے
وہ رک جاۓ تو ستارے گر جائیں
کہکشائیں اپنا سر پھاڑ لیں
تمام اصول
گڑبڑا جائیں
ایسا بھی ایک خدا ہے جس کو
شاید یاد ہی نہ ہو
کہ اس نے ایک فرشتہ بنایا تھا
جس کی مٹی میں آسیب بھرا تھا
وہ آسیب اوڑھ کر
اپنے ساحلوں پر
میں آج بھی شیشے چن رہا ہوں

 

میرے ہاتھوں سے خون بہہ رہا ہے
اس خون پر آدمی لکھا ہے
آدمی مجھے دیکھ رہا ہے
میں آدمی کو دیکھ رہا ہوں
خدا ہمیں دیکھ رہا ہے
بہت فلمی سین ہے یہ سب

 

وقت اپنے نیم مردہ سامعین کی
پرزور فرمائش پر بج رہا تھا
تاریخ اٹھ کر پیچھے دیکھتی ہے
پیچھے حد نگاہ تک
مایوسی پھیلی ہوئی ہے
یہ زرد ہواؤں کی دنیا
روح کو وراثت میں ملی ہے
ابھی کائنات کی جوڑ توڑ جاری ہے
آخری لفظ ڈھونڈ رہے ہیں سب
وہ اس تالے کی چابی ہے
اور ایک آواز ہے جو ہم سے
بہت پہلے سے گونج رہی ہے
ہم اس گونج کے نشیب و فراز پر
جنگلوں کی طرح اگ رہے ہیں
میں درخت ہوں خدا کی قسم
آپ کی باتیں مجھے
شاخوں جیسی لگتی ہیں
مان لیں ہم سب میں
مٹی برابر ہے
اور ان مٹی کے پتلوں کی
زمینیات اور مٹیات میں خدا کے ترک آئینوں کے
میں آج بھی شیشے چن رہا ہوں
ایک کمزور خدا ہے
جو تارکول میں ڈوبا ہوا
سنڈریلا کی طرح بھاگ رہا ہے
گھڑی اپنے بارہ بجا بجا کر
اپنے بارہ سے لٹک کر مر گئی
اور سنڈریلا گھر نہیں آئی


Related Articles

Escape

Forbidden was the proliferation
Slow and agonizing will be detoxification
Stop beach-combing to find
when it was the last you smiled
Greet the waiting astral diplomats
to accompany you on your voyage

اس بڈھے کا وائرس

راوی کے کنارے
لاہور نام کا
ایک پاگل بیٹھا
اپنی منحوس رگوں میں
شہریلا انجکشن لگاتا ہے
اور دم بخود

محبت کا سن یاس

سلمان حیدر: لفظ صحیفوں میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں
لیکن صحیفوں میں لکھے لفظ کثرت استعمال سے بے معنی ہو چکے ہیں