!سنگ سیاہ

!سنگ سیاہ
میں اندر سے ایسا ٹوٹ چکا ہوں بلکہ ٹوٹنا کیا تھا میں نے، کہ مجھ جیسے پتھر ،مورتی بننے کے پہلے مراحل کی ضرب تک نہیں سہہ پاتے ۔۔۔ بھلا کوئی مجھے مٹی بنا دیتا کہ کسی عورت کے آنسوؤں سے نرم ہو جاتی اور کوئی کوزہ یا صراحی یا کوئی گلدان میں ڈھل جاتا، یا کسی گڑھے ، کسی قبر کا پیٹ بھر دیتا۔ کاش میں کوئی ہیرا ہوتا کہ تراشا جاتا ، تاکا جاتا اور چمکایا جاتا ۔۔۔کسی اُونچے مرتبے کو پہنچتا مگر میں تو ایک پتھر تھا۔ نصیبا! معمولی سا بیکار پتھر۔ ایسا پتھر جس سے ٹھوکر کھانے والے نابینا بھی اُس بےجان کو کوستے ہیں اور اپنی بصارت کو سزاوار نہیں ٹھہراتے۔
مگر میں تو ایک پتھر تھا۔ نصیبا! معمولی سا بیکار پتھر۔ ایسا پتھر جس سے ٹھوکر کھانے والے نابینا بھی اُس بےجان کو کوستے ہیں اور اپنی بصارت کو سزاوار نہیں ٹھہراتے۔
تو، میں عرض کر رہا تھا کہ میں کسی ابتدائی چھانٹ کے دوران ہی ٹوٹ گیا تھا ۔ مگر میرے ٹوٹنے کا کسی خشت و خاک کو کوئی احساس نہیں ہوا ۔۔۔ نہ چشمے بہے ، نہ ایسا سرکا کہ چنگاریاں پھوٹ کر شعلہ بنتیں ،نہ کہیں سے چٹخنے کی کوئی آواز نکلی کہ سنگ تراش کوئی جنبش لیتا ۔معمولی پتھروں کا ٹوٹنا بھی معمولی ہوتا ہے ۔ایسے میں اُن حجورِ بالا کو کیا خبر کہ جنہیں حسَن صورتوں میں پہنا جاتا ہے اور نہ ہی اُن کو ہوش تھی، جن کے ملکوتی خصائص مشکل زبانوں میں کیے جاتے ہیں ۔سب مصروفِ عمل تھے اُنہیں میری ریزگی کا احساس کیسے ہوسکتا تھا؟
مجھے آج سلطنتِ روم میں آئے دو ہفتے بیت گئے تھے۔ میرا یہاں آنا ایسے ہی بےکار تھا جیسے کہ میرا دشت کی ویرانی میں موجود ہونا یا پھر جیسے میرا یہاں پڑے رہنا اور آخر کسی ڈھیر سے اٹھ جانا۔آہ، کہ اٹھنا بھی وہ جو کسی مصروف مزدور کی غلطی سے ہوا ہو اور پھر سے کسی دور پار کے قافلے یا سمندری جہاز کے سامان میں شامل ہوجانا اور اپنی کم مائیگی کو تسلیم کیے جانا۔
بھلا، مجھ جیسے کو کیونکر اُٹھانے کی خفت کی جاتی، لیکن اِس مورتی ساز نے کہ دیکھو جس نے مجھےروم میں اپنے شاہکاروں کے ساتھ رکھ دیا ہے۔
ارے سن!
اے ابن مریم جیسے پرندے بنانے والے سن!
تیرے مجسمے مجھ سے طرّح زبانی کرتے ہیں ۔ اور یہ نگار کیسے حقارت سے دیکھ رہے ہیں، یہاں سالاروں کے سر بنے ہیں اور نیم برہنہ دیویاں دراز ہیں کہ جیسے لاہوتی معشوق فرشتوں کے پہلو بہ پہلو ہیں۔۔۔اور وہ جو وہاں کانسی کی مورت ہے اور جو یہ، دیو قامت مَرمَر کے خدا ہیں سب میری توہین پر آمادہ ہیں اور میری ذِلت پر متفق ہیں ۔ شاید اِس لیے کہ بازاروں میں انہی کی مانگ ہے انہی کا چرچا ہے۔ درست ہے کہ یہی شہرت یافتہ نمونے بکاؤ ہوتے ہیں اور میں کہ رذیل جات کا پتھر ہوں، ایک نظرانداز شدہ علامت ہوں۔ لیکن شکر ہے کہ تماش بینوں سے تو محفوظ ہوں، حریص انگلیاں مجھے عریاں نہیں کرتی۔ ہماری کمتری کے لیے خود کلامی کافی ہوتی ہے ۔ میں خود ہی اپنی بولی لگانے اور اپنی قیمت کم کرنے پر راضی ہوں تو جوہری کی چرب زبانی کا فائدہ؟ جوہری کی چرب زبانی کا فائدہ تو وہ اُٹھاتے ہیں جو اُس کے تصرف میں رہتے ہیں ، باوجود اِس کے انہیں مول کر تول کر لینے والے اجرت میں رخصت طلب کرتے ہیں ۔
حجر پرور !
یہی وہ گھڑی تھی جب باغیچوں میں دبے مٹکوں کی مہریں ٹوٹتیں اور جب وہ اجناس کے خمیر کو نوش کر چکتا تو بے خیالی میں جس بچے جام کے چند قطرے مجھ پر پڑجاتے۔
کیا کہوں ؟ پتھر تو تھا، مگر پگھل گیا تھا ، کچھ وقت چھت پر بنے اجسامِ فلکی کی پہلیاں سلجھاتےگزرا ، جب تھک جاتا تو اِنہی جڑواں کنواریوں کے تلوے دیکھنے لگتا جو کسی چشمہِ حیات کے لبوں پر ایسے نصب ہونے کو تھیں کہ اُن کے پستان چھونے والے پارہ ہوجاتے ۔ کیا کہوں ۔۔۔ کہ یہ اٹھرہ دن کیسی مصیبت میں کٹے ۔ سنگ تراش آتا تو کبھی رات رات بھر مہنگی سلوں پر الہامی نقوش نمایاں کرتا اور ان پر رنگ و روغن نکھارتا ۔ پہر وں اپنی تخلیق پر منحصر سود و زیاں ناپتا اور پیمائشوں میں الجھ جاتا۔ یہی وہ گھڑی تھی جب باغیچوں میں دبے مٹکوں کی مہریں ٹوٹتیں اور جب وہ اجناس کے خمیر کو نوش کر چکتا تو بے خیالی میں جس بچے جام کے چند قطرے مجھ پر پڑجاتے۔
سنگ نواز!!
نہ تب قیمت کی وصولی تھی نہ حساب کتاب کا خوف ۔۔۔۔توبس کیا کہوں۔ انہی چند قطروں کے فیض سے دو چار روز برقرار رہا کہ نہ تو میں مرمر کا خدا تھا اور نہ ہی اُس کی گرج سننے کے قابل ۔۔۔رہے نقش و نگار تو وہ خمر کی نمی میں گم چکے تھے۔
ایسے ماحول ہی نے مجھے اپنے وجود کی نمود اور اِس کی حدود کا تعین کرنے پر مجبور کیا تھا۔ تو حجر پرور میں جو کبھی سے ٹوٹا تھا آج میرے سستے بدن پر دراڑیں اور واضح ہو گئی ہیں کہ اِن اٹھارہ برسوں میں جو تیرے لیے شب و روز کی ایک بے معنی تقسیم ہو ں گےمجھ پر لمحے بیتے ہیں۔۔۔میں مَرجان و نیلم کو دیکھ کر ہی میں پانی ہو جاتا ہوں اور یہ روم کے دیوتا مجھے باخبر کرتے ہیں اور وہ حسینائیں جو انہیں لمس سے زندگی عطا کرتی ہیں بخدا کسی سنگ ِ شہوت سے بنائی گئی ہیں کیسے شوق کو شیر کیے دیتی ہیں اور تیری دیوار سے رِستے پانی نے میرا کلیجہ کاٹ دیا ہے اور مجھ پر ایک حبس طاری ہے ۔ تیری کھڑکی سے ابھرتی دھوپ اِن جواہرات کو نایاب کرتی ہے۔ میں جب ان جواہرات کے انعکاس کی زد میں آتا ہوں تو یہ دھوپ مجھے اپنی شیریں تمازت کی بجائے نفرت کا کڑوا جلاؤ دیتی ہے ۔دیکھ میں کیسے بھن کر سیاہ ہو گیا ہوں ، ایسا سیاہ کہ جو رنگ کبھی چہرے پر تھے اب گمان تک میں نہیں آتے ۔ (۳ اگست ۲۰۱۳)
Abdul Basit Zafar

Abdul Basit Zafar

Abdul Basit Zafar is a graduate of theology from Ankara University, Turkey and pursuing his doctorate in classic Islamic theology.


Related Articles

بھولا گُجر شہید

ذکی نقوی: شام کے وقت علاقے میں کرفیو کا سماں رہنے لگا۔ ہمارے محلے کے دوچوراہوں کے تھڑوں پر سرِ شام جمنے والی نوعمر طلباء کی بیٹھک بھی سیکیورٹی کے نام پر حکماً برخاست کردی گئی اور رات گئے تک چہل قدمی کے سارے شوقین 'آوارہ گردی' کی دفعہ میں ایک ایک بار حوالات میں رات گزارنے کے بعد خانہ نشیں ہوگئے۔

محبت کی گیارہ کہانیاں (پانچویں کہانی)

تصنیف حیدر: نصرت اور میں فارغ اوقات میں خوب باتیں کیا کرتے تھے، میں اسے اپنے تازہ افیئرز کے بارے میں بتایا کرتی اور وہ مجھے پڑھائی لکھائی، گھر بار، کیمپس اور ہاسٹل کے بورنگ مسئلے اپنے بھولے بیانیے کے ساتھ سنایا کرتی، جنہیں میں قہقہے مار مار کر سنا کرتی تھی۔

بھگوڑا

جیم عباسی: عصر سے تھوڑا پہلے وہ گھر جا پہنچے۔ گھر میں کیا داخل ہوئے ہنگامہ اورغل برپا ہو گیا۔ شور، گالیاں، دھمکیاں، رونا، دوہتڑ، بدعائیں،تھپڑیں، بالوں سے پکڑنا، کھینچا تانی، پھٹی ہوئی شرٹ سب شامل تھا۔ ایک کمرے میں شگفتہ نشانہ بن رہی تھی ایک میں یونس۔