سنہرے دنوں کا مغنی - جارج مائیکل

سنہرے دنوں کا مغنی - جارج مائیکل
زندگی میں کئی بڑے تنازعات کوجھیلنے کے باوجود، اس کے چہرے پر مسکان موجود رہتی تھی۔ اس نے زندگی کو ہنستے مسکراتے بسرکیا۔ دنیااس کو جارج مائیکل کے نام سے جانتی ہے، مگراس کو اپنے نام کی تہہ تک اترنے میں کئی زمانے لگے۔ مشرقی لندن میں گزرتے بچپن کی یادیں، یونانی قبرصی مہاجر باپ کا بیٹا، نئے وطن کی سرزمین پر اپنی شناخت حاصل کرنے میں تگ ودو کامجسم بنا۔ اس جدوجہد میں اپنے آپ سے بھی کئی بار بچھڑا۔ کئی طرح کے اختلافات نے بھی اس کاگھیراؤ کیا۔ خاندانی مسائل، محبوبیت کے جھگڑے، نشے کی لت، دیگر کئی طرح کی الجھنوں نے اس کو نڈھال کردیا، مگر اس کی قوت ارادی نے ساتھ نہ چھوڑا، وہ مسکراتے ہوئے سارے غم اپنے سینے پر جھیلتارہا، آخراس دل سے بوجھ نہ سہاراگیا اور وہ داغ مفارقت دے گیا۔

جارج مائیکل کی زندگی کی جھلکیاں صاف طورپر اس کے گیتوں میں سنائی دیتی ہیں، اس کی شاعری میں ذاتی غموں کے ٹکڑے جابجا بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنی تخلیق کردہ دھنوں میں انتہائی سہل انداز میں اپنے احساسات کو بیان کردیتاہے، یہی اس کے گیتوں کی خوبی تھی، جس نے اس کے فن کو عروج دیا۔ دنیا کے ہرکونے میں پوپ موسیقی کے چاہنے والوں میں بڑی تعداداس کے مداحوں کی ہے۔ 80کی دہائی میں شاندار کیرئیر کی ابتداکی، تو پھر پیچھے مڑکرنہیں دیکھا، بالخصوص اپنے کیرئیر کی ابتدائی دہائی میں تو وہ مقبولیت کی انتہاؤں پررہا۔

نوجوان نسل، جن کی آنکھوں میں چمکیلے خواب اورارادوں میں سفرکی منصوبہ بندی ہوتی ہے، ان کے لیے جارج مائیکل کے گیتوں میں خزینے پوشیدہ تھے۔ اس نے ان گیتوں میں کبھی کرسمس کو یاد کیا، توکبھی آہنی عزم کو موضوع بنایا، اسی طرح، سچائی کی تلاش، قربت، رومان، تلخی، جدائی، حیرت، شہوت اوراس طرح کے دیگر موضوعات بھی اس کے گیتوں کاحصہ تھے۔ اس حسن پرست گلوکار کے مشہور گیت careless whisperمیں، اس کی گیت نگاری کی صلاحیت واضح طورپر دکھائی دیتی ہے، آواز میں پوشیدہ درد بھی درماں ہے۔ اس گیت کو سنیے، کس طرح ایک لڑکپن کے رومانوی جذبے کی حسد سے ٹکراؤ کی کیفیت اوررقابت کو عمدہ انداز میں لکھتا ہے کہ ۔ ۔ ۔

میں بے یقینی کاشکار
تمہارا ہاتھ تھام کر
رقص گاہ کی طرف
بڑھنا چاہتاہوں
اس جذبے کی قیادت میں
ایک دم توڑتی ہوئی
موسیقی کی طرح

نشیلی آنکھوں والے جارج مائیکل کے گیتوں میں ملاپ اور جدائی کے کئی رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی زندگی میں محبت کئی رنگوں میں موجود رہی، اسی لیے وہ اپنے اظہار میں بھی مختلف پہلوؤں کا طرف دار ہے، جس نے اس کی شخصیت کو بھی تفصیل سے بیان کیا، جس میں خارجی اورداخلی دونوں زاویے میسر آتے ہیں۔ حیرت انگیز طورپر ایک مقبول پوپ گلوکار ہونے کے باوجود اس نے اپنے انداز کو زیادہ منتشر نہیں ہونے دیا، میڈونا، مائیکل جیکسن، پرنس ، باب ڈلن جیسے شاندار گلوکاروں کے ہوتے ہوئے، اس نے اپنی جداگانہ راہ بنائی، یہی وجہ ہے، آج کی اس رحلت پر میڈونا کہتی ہے۔ "ایک اور اچھا گلوکارہم سے بچھڑ گیا"۔

جارج مائیکل کا پیدائشی نام Georgios Kyriacos Panayiotou تھا، مگر اس نے اپنے نام کو بھی اپنی کامیابیوں کے راستوں کی مانند تراشا۔ اس کاجنم دن 25 جون، 1963ہے، مگراس کی وفات میں ماہ وسال سے زیادہ جس چیز کی اہمیت ہے، وہ کرسمس کادن ہوناہے، اس دن کی نسبت سے اس کو مقبولیت بھی ملی تھی، اس کا گیت "لاسٹ کرسمس" بہت مقبول ہواتھا، آخرکارحقیقی زندگی میں ، رواں کرسمس، اس کی زندگی کی بھی آخری کرسمس ثابت ہوئی۔ 1981سے خوبصورت گیت تراشنے والا یہ گلوکار 2016میں ہم سے بچھڑ گیا۔

اس کو ابتدائی شہرت اپنے بینڈ"Wham!"سے ملی، جس میں"Andrew Ridgeley" بھی ان کے ہمراہ تھا، یہ دور1981سے 1986پر محیط تھا۔ اس کے بعد"Aretha Franklin" سمیت کئی گلوکاروں کے ساتھ مشترکہ طورپر بھی گایا، مگرحتمی طورپر پھر اپنے انفرادی کیرئیر پر توجہ مرکوز کی۔ اس راہ پر ، کامیابیوں نے ان کے قدم چومے۔ جارج کاایک اورمشہورگیت"Wake me up before you go" کوسماعت کرکے ایک پاکستانی لوک گلوکار عطااللہ عیسیٰ خیلوی کا گیت "نی سسی اے جاگ دی رئیں، اوٹھاں والے ٹُر جانڑ گے"یاد آتا ہے، دونوں میں معنویت اورکیفیت کے اعتبار سے مسابقت ہے۔ پاکستانی پوپ موسیقی میں بھی رومانوی پوپ گلوکاروں پر اس کے اثرات نمایاں ہیں، جس کو بیان کرنے کے لیے ایک الگ دفتر درکار ہے۔

جارج مائیکل کی اسٹوڈیو البم "Faith" نے اس کوشہرت کی دیوی سے جاملایا۔ یہ البم 1987 میں ریلیز ہوئی۔ اس البم کے ایک گیت "I want your sex" نے بہت مقبولیت حاصل کی۔ امریکا اوربرطانیہ کے ریڈیواسٹیشن پر اس گیت پر پابندی بھی لگائی گئی، مگر اس کی مقبولیت میں کوئی فرق نہ آیا۔ اس گیت کی بے باک شاعری نے موسیقی کے حلقوں کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا، مگر یہ جارج کا انداز تھا، جس کی نمایاں عکاسی، اس کی حقیقی زندگی میں بھی ہوتی ہے۔Faith کے بعد جارج مائیکل کی 5مزید اسٹوڈیوالبمز ریلیز ہوئیں، جن کے نام بالترتیب یوں ہیں:

Listen Without Prejudice Vol. 1(1990)
Older (1996)
Songs from the Last Century (1999)
Patience (2004)
Symphonica (2014)

جارج مائیکل کے گیتوں کی طرح اس کی زندگی بھی متناعہ رہی۔ اس نے ملکی سیاست سے حوالات کی حراست تک، زندگی کی وحشت سے جذبوں کی شہوت تک، تمام مرحلے عبور کیے۔ خیرات اور انسانیت کی خدمت میں بھی پیش پیش رہا۔ 53سالہ جارج مائیکل، اپنے 30سال سے زاید برسوں کے کیرئیر کے ساتھ پوری دنیا تک اپنی آواز ، مدھر دھنوں، منفرد شاعری کے ذریعے پہچاناگیا، اسی لیے آج اس کی رحلت پر پوپ موسیقی کی دنیا سوگوار ہے۔ 100 ملین سے زاید البم فروخت ہونے کا ریکارڈ بھی اس کے پاس ہے۔

برطانیہ کے مقبول ترین میوزک چارٹ"UK Singels Chart" اور امریکا کے "Billboard Hot 100" پر اس کے کئی گیت نمبرون رہے، جن میں "Careless Whisper"اور"Freedom! '90"سرفہرست ہیں۔ بل بورڈ میگزین کے مطابق جارج مائیکل دنیا کے 40مقبول ترین گلوکاروں کی فہرست میں بھی شامل ہے۔

دنیا کے متعدد اعزازات اپنے نام کرنے والے اس تخلیق کار نے، دنیائے موسیقی کا معتبر ترین اعزاز "گریمی۔ Grammy" بھی دوبار اپنے نام کیا۔ بی بی سی سے وابستہ ریڈیو اکیڈمی کے مطابق1984سے 2004تک جارج مائیکل کے گیت سب سے زیادہ نشر کیے گئے، جنہیں بے حد پسند بھی کیاگیا۔ 15برس کی عمر میں کانسرٹ کرنے والے اس باصلاحیت فنکار نے دنیا کے مختلف ممالک میں 25کامیاب اور یادگارکانسرٹس کیے۔ جس اطمینان سے، اس نے برطانیہ میں، اپنے گھر"Oxford Shire"کے بستر پر آنکھیں موند لیں، شایدوہ کئی طرح کے کرب جھیلنے کے بعد حتمی سکون پالینے میں کامیاب ہو گیا۔ شاید یہی اس کی تلاش کی آخری منزل تھی، جس کی طرف اب وہ گیا ہے۔

جارج مائیکل کے گیتوں کی گونج ایک عرصے تک سنائی دیتی رہے گی، اس کے دیے ہوئے موضوعات پر بھی دنیا بات کررہی ہے۔ اس کی محبتوں کا محور، مرد کی جنس تھی، لیکن اس سے زیادہ اہم بات، اس کا حساس انسان ہونا تھا، جس نے اس کی تخلیقی اُپج کو چارچاند لگا دیے۔ اس کے گیت 80اور90کی دہائی کے سنہرے دنوں کی یادوں کا عکس ہیں، اس اپنائیت کے احساس کو لیے، وہ کروڑوں مداحوں کی محفل سے رخصت ہوا، اپنی آواز پیچھے چھوڑ کر، جس میں ہمیشہ اس کے جذبات کی ترجمانی ہوتی رہے گی۔ تمام ترتنازعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، اس کے انسان دوست ہونے اور باصلاحیت گلوکار، موسیقار اور شاندار تخلیق کار ہونے کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ الوداع ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جارج مائیکل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Khurram Sohail

Khurram Sohail

Khurram sohail is a journalist and researcher. He regularly writes on performing arts and literature for various magazines, newspapers and websites. Several books containing his writings on music, art and literature have been published. Readers can contact him at: khurram.sohail99@gmail.com


Related Articles

آلو انڈے کی سیاست۔۔۔ بے غیرت بریگیڈ کی جنگ

آلو انڈے کی کامیابی پر بہت بہت مبارک باد۔

الف لیلٰی کے دیس سے۔۔۔۔

انما طارق کی فوٹوگرافی

تین نظمیں تین خاکے

ادارتی نوٹ:فہیم عباس بصری اور تحریری فنون میں صنف اور روایت کے قائل نہیں۔