سون مچھلی

سون مچھلی
ایک شہر تھا جس میں تھوڑی سی دہلی، تھوڑی ممبئی، تھوڑا بنارس، تھوڑا کلکتہ، تھوڑا پٹنہ، وغیرہ ٹھیک ویسے ہی تھے جیسے دہلی میں تھوڑا پٹنہ، تھوڑا کلکتہ، تھوڑا بنارس وغیرہ ہیں۔ اس شہر میں شایدبہار کا یا اتر پردیش کا یا شاید مدھیہ پردیش کا ایک لڑکا تھا، جو شاید آئی اے ایس، یا آئی آئی ٹی، یا شاید ایم بی بی ایس کی تیاری کر رہا تھا۔ وہ تیاری کرتا جا رہا تھا، پریکشا(امتحان) دیتا جا رہا تھا، لیکن قسمت ہمیشہ اس سے کترا کے نکل جا رہی تھی۔ عمر ایک ایسی ریت گھڑی ہے جسے اوپر کی ساری ریت نیچے گر جانے کے بعد الٹا نہیں کیا جا سکتا اور یہی بات اسے کھائے جا رہی تھی۔ اس نے ہر طریقہ آزما لیا تھا۔ مندروں میں منت مانگ کر، پیپل پہ دھاگے باندھ کر، درگاہ میں چادر چڑھ کر، بانہوں پرتعویذ بندھوا کر، چرچ میں موم بتیاں جلا کر وہ تھک چکا تھا۔ لیکن کسی بھی طرح کے خدا سے اسے مدد نہیں ملی تھی۔ کچھ اور ٹوٹکے بھی کیے تھے اس نے۔ ہوٹل کھانا کھانے جاتا تو ایک روٹی بچا کے لے آتا اور گئوماتا کو کھلاتا تھا۔ منگلوار کو ورت(روزہ) رکھتا تھا۔ کمرے سے پریکشا دینے کے لیے نکلتا تھا تو خود ہی دو گلاسوں میں پانی بھر کے دروازے کے دونوں طرف رکھتا اور دہی چاٹ لیتا تاکہ پریکشا اچھی جائے۔ لیکن کوئی بھی ٹوٹکا کارگر نہیں ہوا تھا۔ سمے بیتتا جا رہا تھا، کتابیں بڑھتی جا رہی تھیں اور بال جھڑتے جا رہے تھے اور ان سب کے بیچ ہر سال ایک بار پیلیا بھی مہمان کی طرح آ جاتا تھا کچھ ہفتے رہتا تھا اور اس کی ساری محنت برباد کرکے چلا جاتا تھا۔
وہ سب سے پہلے اس شہر کے مشہور مچھلی بازار پہنچا۔ وہاں ہر طرف مچھلیاں ہی مچھلیاں تھی، زیادہ تر مری ہوئی۔ اور جو زندہ تھیں انہیں دیکھ کر کہیں سے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ انہیں پالا جانا چاہئیے۔ وہ بازار اسے مچھلیوں کا ٹارچر روم لگا۔
اس بار جب وہ گاؤں گیا تو پڑوس میں رہنے والی چاچی نے اسے صلاح دی کہ اسے مچھلیوں کو آٹے کی گولیاں کھلانی چاہیئں، اس سے قسمت ساتھ دیتی ہے۔ وہ کسی بھی طرح اپنی محنت کا ہاتھ قسمت کے ہاتھ میں دینا چاہتا تھا، اس لیے وہ شہر مچھلیوں کو آٹے کی گولیاں کھلانے کے ارادے کے ساتھ لوٹا۔ آتے ہی اس نے آٹا خریدا گھر میں لے جا کر گوندھا اور اس کی گولیاں بنا کر نکل پڑا اس ندی کی جانب جو اس شہر کے ٹھیک باہر سے بہتی تھی۔ وہ اس ندی پر بنے پل پر کھڑے ہو کر آٹے کی گولیاں پانی میں پھینکنے لگا۔ اس کی آنکھیں پل کے نیچے بہتی ندی کی اور تھیں لیکن نظر بھوشیہ(مستقبل) میں کہیں دور۔ جیسے ہی اسکی نظر بھوشیہ سے لوٹی تو اسے محسوس ہوا کہ پل ندی سے اتنا اوپر ہے کہ اسے یہ دکھائی ہی نہیں دے رہا ہے کہ گولیاں مچھلیاں کھا بھی رہی ہیں یا نہیں۔ پہلے سے ہی اداس تھا وہ، اس بات سے اس کی اداسی اور بڑھ گئی اور وہ بچی ہوئی گولیوں کو لے کر اپنے کمرے کی سمت لوٹنے لگا۔ لوٹتے ہوئے اسے اپنے کمرے پر ہی مچھلیاں پالنے اور انہیں آٹے کی گولیاں کھلانے کا خیال آیا۔ وہ اس بات سے بھی خوش تھا که اسے کسی ندی یا تالاب تک جانے میں سمے برباد نہیں کرنا پڑےگا۔ وہ تیزی سے بڑھ چلا کیونکہ وہ مچھلیوں کو خریدنے میں بھی کچھ سمے بچا لینا چاہتا تھا۔
وہ سب سے پہلے اس شہر کے مشہور مچھلی بازار پہنچا۔ وہاں ہر طرف مچھلیاں ہی مچھلیاں تھی، زیادہ تر مری ہوئی۔ اور جو زندہ تھیں انہیں دیکھ کر کہیں سے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ انہیں پالا جانا چاہئیے۔ وہ بازار اسے مچھلیوں کا ٹارچر روم لگا۔ وہ ترنت(فوراً)بازار سے نکل گیا اور ڈھونڈے ڈھونڈتے ایک دوکان 'متسیہ' پر پہنچا جہاں پالنے لائق مچھلیاں اور ایکویریم بیچے جا رہےتھے۔ وہ اندر گھسا اور مچھلیوں کو دیکھنے لگا۔ جیسے ہی اس کی نظر گولڈفش پر پڑی وہ حیران ہو گیا اور اسے بنا پلکیں جھپکائے دیکھنے لگا۔ اور گولڈفش بھی چونکہ دوسری مچھلیوں کی طرح پلکوں کے بغیر پیدا ہوئی تھی اس لیے وہ لڑکے کو پہلے سے ہی بنا پلکیں جھپکائے دیکھ رہی تھی۔ لڑکے نے فیصلہ کیا کہ وہ گولڈفش ہی لےگا۔ دوکاندار نے اسے گولڈفش کے رکھ رکھاؤ کے بارے میں پوری جانکاری(معلومات) دی۔ لڑکے کو یہ جان کر بہت افسوس ہوا کہ گھر میں پالی جانے والی مچھلی کو آٹے کی گولیاں کھلانا ٹھیک نہیں ہے، بلکہ اسے خاص قسم کا چارہ کھلانا بہتر ہوتا ہے جو بازار میں ملتا ہے۔ اس نے بڑی مایوسی سے مچھلی کو دیکھا اور سوچا کہ پھر کیا فائدہ مچھلی لینے کا، ٹھیک تبھی دوکاندار نے کہا ‘اینڈ سر۔۔ برنگس یو گڈ لک’۔ گڈ لک۔۔۔ اور چاہئیے بھی کیا تھا گڈ لک کے سوا، اب وہ آٹے کی گولیاں کھلا کر آئے یا بازار سے خریدا گیا چارہ کھلا کر۔
جب وہ مچھلی کو چارہ کھلاتے ہوئے باؤل کے کھلے ہوئے منھ سے باؤل میں جھانکتا تو اسے لگتا ہے باؤل کے اندر کوئی چھوٹی ندی ہے اور اس کی آنکھیں ایک پل ہیں جس پر کھڑا ہو کر وہ ندی میں جھانک رہا ہے۔
گھر آ کر اس نے پڑھنے کی میز پر فش باؤل کو رکھ دیا۔ جب وہ مچھلی کو چارہ کھلاتے ہوئے باؤل کے کھلے ہوئے منھ سے باؤل میں جھانکتا تو اسے لگتا ہے باؤل کے اندر کوئی چھوٹی ندی ہے اور اس کی آنکھیں ایک پل ہیں جس پر کھڑا ہو کر وہ ندی میں جھانک رہا ہے۔ وہ جیسے ہی یہ سوچتا اسے شہر سے باہر بہتی ہوئی ندی پر بنا ہوا پل یادآتا اور وہ سوچتا کہ اس بار نہیں ہوا تو وہ اپنی ناکامی اپنی آستھاؤں، اپنے اندھ وشواسوں، اپنے ٹوٹکوں اور اس مچھلی سمیت اسی ندی میں کود جائےگا۔
وہی ندی جو اس شہر کے باہر بہتی تھی، ایک گاؤں کے پاس سے ہو کر گزرتی تھی۔ ایک گاؤں جس میں تھوڑا میرا گاؤں تھا، تھوڑا آپ کا گاؤں، اور تھوڑا تھوڑا سب کا گاؤں تھا۔ اسی گاؤں میں ایک مچھوارا رہتا تھا۔ مچھوارا اب صرف مچھوارا رہ گیا تھا۔ وہ نہ پتی بچا تھا، نہ بیٹا۔ اس کا ایک بیٹا تھا جو ندی میں ہی ڈوب کے مر گیا تھا، اس لیے اب اس میں باپ ہونے کا احساس بھی نہیں بچا تھا۔ وہ صرف اور صرف مچھوارا تھا اور کچھ نہیں۔ وہ دن بھر مچھلی مارتا اور شام کو پاس کے قصبے میں جا کر بیچ آتا تھا۔ جو پیسے ملتے تھے اس سے تھوڑی سی شراب پیتا اور تھوڑا کھانا کھاتا، پھر اپنی جھونپڑی میں آ کر سو جاتا تھا۔ کئی سالوں سے اس کا یہی معمول تھا۔ جس میں کبھی بھی کوئی بدلاؤ نہیں آیا۔ اس کی جھونپڑی کے بغل میں ایک لوہار کی جھونپڑی تھی۔ صبح کے آٹھ بجتے ہی وہ کام پر لگ جاتا تھا۔ کھٹ کھٹ۔۔ جھن جھن۔۔۔ پھٹ پھٹ۔۔ کی آوازوں سے ہی مچھوارے کی نیند کھلتی تھی۔ وہ اٹھتا اور لوٹا لیکر ندی کی اور جانے کے لیے جب گھر سے نکلتا تو اسے لوہار کے گھر کے باہر ایک کھٹارا کار کا ڈھانچہ دکھائی دیتا، پتہ نہیں لوہار نے اسے توڑ کر اب تک دوسرے اوزاروں میں کیوں نہیں ڈھالا تھا، شاید اس کار کے ڈھانچے کو وہ سٹیٹس سمبل کی طرح رکھتا تھا۔ مچھوارا کار پر نظر ڈالتا تو اس کا من بجھ جاتا وہ اپنے آپ کو اس کار کے جیسا ہی پاتا جس پر سمے دھول کی طرح جمتا جا رہا ہے۔ وہ اداس ہوتا اور ندی کی طرف چل دیتا۔ وہ لوٹ کر لوٹا گھر رکھتا اور اپنا جال لےکر پھر سے ندی کنارے پہنچ جاتا۔ بھوک لگتی تو مچھلی بھونتا اور کھا لیتا۔ بھوک نہیں لگتی تو سیدھا رات کو کھانا کھاتا۔
جب بھی کوئی جنم لیتا یا مرتا تو وہ سوچنے لگتا کہ وہ کتنی بار جنما ہوگا اور کس کس روپ میں ؟ کبھی کبھی خود ہی اندازہ لگاتا کہ کم سےکم ایک آدھ کروڑ بار تو اس کا پنرجنم ہوا ہی ہوگا۔ پھر وہ سوچتا کہ پھر تو وہ ایک آدھ کروڑ بار مرا بھی ہوگا۔
اس نے دوسرے مچھواروں سے سن رکھا تھا کہ سمندر میں بہت بڑی بڑی مچھلیاں ہوتی ہیں اور وہ مگرمچھوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ اسے خیال آتا کہ ندی بھی تو سمندر میں جا کے ملتی ہے کسی دن کوئی ویسی ہی خطرناک مچھلی اس کے جال میں پھنس گئی اور پھر اس کا جال کاٹ کے اس کو کھا گئی تو کیا ہوگا؟ وہ یہ سوچتے ہی ڈر جاتا اور پھر سوچتا کہ اچھا ہی ہوگا مر جائے گا تو، زندہ رہنے میں بھی کون سا بہت مزا آ رہا ہے، کتنی بے مزہ ہے یہ زندگی، اور پھر زندگی بھر اس نے مچھلیاں ماری ہیں اگر اسے کوئی مچھلی مار دےگی تو اس کا پاپ بھی کٹ جائیگا۔ پھر پچھلے خیال کی دم پکڑکر دوسرا خیال آتا کہ جب آج تک کوئی ایسی مچھلی اس ندی میں نہیں آئی تو اب کیا آئے گی۔ ایک رنگین مچھلی تو دکھتی نہیں ہے اس میں۔ وہی مانگر وہی جھینگا۔ یہ سوچتے ہی اس کے من پر چھائی ہوئی بدمزگی بڑھ جاتی۔ اور پھر وہ سوچتا ہی چلا جاتا۔ وہی سونا، وہی جاگنا، وہی لوہار، وہی کھٹ پٹ، وہی ندی، وہی راستہ، وہی گاؤں، وہی تیوہار، تیوہاروں میں شہروں سے گاؤں لوٹنے والے وہی لوگ، وہی زندگی۔ ایک دن بھی ایسا نہیں جس میں اچانک کچھ بدلاؤ آیا ہو، اور اس کی بدمزگی ختم ہوئی ہو۔ بس بدمزگی۔۔بدمزگی ہی بدمزگی اسے چارو جانب نظر آتی۔ وہ یہ سوچ کر حیران ہوتا تھا کہ گاؤں کے باقی لوگوں میں یہ بدمزگی کیوں نہیں تھی۔ اگر اس کا پریوار ہوتا تو کیا وہ بھی باقی لوگوں جیسا خوش ہوتا؟ لیکن جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ پریوار ہونے پر وہ خوش ہوتا تو وہ اداس ہو جاتا۔
یہ بدمزگی برسوں سے اس کے من پر چھائی تھی۔ اس کے آس پاس برسوں سے کچھ بھی نیا نہیں ہو رہا تھا۔ اگر کچھ نیا ہوتا بھی تھا تو ٹھاکر صاحب کے گھر کی سفیدی جیسا کچھ جو اس کی بدمزگی کو اور بڑھاتا ہی تھا۔ ہاں گاؤں میں بچے پیدا ہوتے تھے لیکن اس نے پہلے بھی دیکھا تھا بچوں کو پیدا ہوتے ہوئے بڑھتے ہوئے۔ گاؤں میں لوگ مرتے بھی تھے لیکن کسی کے مرنے سے کیا بدمزگی میں کمی آ سکتی ہے۔ ویسے بھی اس نے تو اپنی بیوی بچے تک کو مرتے دیکھا تھا۔ جنم اور مرن کی یہ گھٹنائیں تک اس کی بدمزگی کو دور نہیں کر پاتی تھیں۔ البتہ بڑھا ضرور دیتی تھیں۔ جب بھی کوئی جنم لیتا یا مرتا تو وہ سوچنے لگتا کہ وہ کتنی بار جنما ہوگا اور کس کس روپ میں ؟ کبھی کبھی خود ہی اندازہ لگاتا کہ کم سےکم ایک آدھ کروڑ بار تو اس کا پنرجنم ہوا ہی ہوگا۔ پھر وہ سوچتا کہ پھر تو وہ ایک آدھ کروڑ بار مرا بھی ہوگا۔ اف۔۔ کیا چکر ہے۔۔ وہی پیدا ہونا وہی مر جانا۔۔ وہ اتنی بار جنم لینے اور موت کے بارے میں سوچ کر ہی اوب جاتا اور اپنی آتما پر ترس کھاتا کہ اسے کتنی بوریت کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی سوچتا کہ آتما کو اگر باتیں اور بوریت یاد رہتیں تو خود اسے بھی پچھلے جنم کی اور پچھلے کے پچھلے جنم کی باتیں یاد ہوتیں۔ اور جب اسے کوئی پچھلا جنم نہیں یاد آتا تو وہ یہ سوچ کر نچنت ہو جاتا کہ آتما کی یادداشت کمزور ہوتی ہے، اس کارن بار بار جنم لینے اور مرنے کے باوجود وہ اوبتی نہیں ہوگی۔ اسے ہر بار مرنا اور جنم لینا نیا ہی لگتا ہوگا۔
ہم جب ندی میں اترتے ہیں تو ندی سے نکلتے ہوئے تھوڑی سی ندی ہمارے ساتھ ہو لیتی ہے۔
ایک بار مچھوارا جب بہت اوب گیا تو اس نے مرنے کی ٹھان لی۔ ایسا نہیں تھا کہ اس نے پہلی بار مرنے کی ٹھانی تھی۔ اس سے پہلے بھی ایک بار بہت اوب کر وہ مرنے کی کوشش کر چکا تھا۔ مرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے موکش(نجات) کا بھی راستہ نکال لیا تھا۔ اس نے سوچا تھا کی اگر وہ ندی میں کود کے جان دے دے تو اس کی لاش کو مچھلیاں کھا جائیں گی اور اس طرح مچھلیوں کو مارنے کا اس کا پاپ کٹ جائےگا۔ وہ ایک بڑے سے پل سے ندی کے ٹھیک بیچ میں کودا تھا اس کا اندازہ تھا کہ ندی کے ٹھیک بیچ میں کودنے سے وہ چاہ کر بھی ندی پار نہیں کر پائے گا۔ لیکن ندی میں ڈوبتے ہی جب اسے گھٹن محسوس ہونے لگی تو وہ ندی پار کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ آدھے رستے میں جب وہ تھک کے چور ہوکر پھر سے ڈوبنے لگا تو اس نے مدد کے لیے آواز لگائی۔ آواز نے جلد ہی ایک مددگار ڈھونڈ لیا جس نے جلد ہی مچھوارے کو بچا لیا۔ ہم جب ندی میں اترتے ہیں تو ندی سے نکلتے ہوئے تھوڑی سی ندی ہمارے ساتھ ہو لیتی ہے۔ مچھوارا پانی میں بھیگا ہوا گھر لوٹا۔ لوہار اسے روز دیکھتا تھا لیکن دن بھر مچھلی مارنے کے باوجود مچھوارا کبھی بھیگا ہوا گھر نہیں لوٹا تھا بس کچھ چھینٹے اسکے کپڑوں پر پڑے ہوتے تھے۔ لوہار نے جب بھیگے ہونے کے وجہ جاننی چاہی تو مچھوارے نے سچ سچ بتا دیا که وہ زندگی سے اوب کر آتما ہتیا کرنے گیا تھا۔ لوہار نے اسے صلاح دی کی اسے مچھلیوں کو آٹے کی گولیاں کھلانی چاہیئں اس سے اس کی قسمت بدل سکتی ہے۔ لوہار نے اپنے دروازے کے باہر پڑے کار کے ڈھانچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مچھوارے کو بتایا کہ وہ بھی ہر چیز سے اوب گیا تھا لیکن ایک پنڈت کی صلاح پر اس نے مچھلیوں کو آٹے کی گولیاں کھلائیں اور اسکی قسمت ہی بدل گئی۔ ساتھ ہی اس نے مچھوارے سے پوچھا کہ ہے کیا گاؤں میں کوئی دوسرا گھربھی ہے جس کے دروازے پر کار ہو؟ ڈھانچہ ہی صحیح۔ مچھوارے کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ لیکن اپنی خاموشی کے پس پشت وہ سوچ رہا تھا کہ مچھوارا اگر مچھلی سے دوستی کر لے گا تو مرے گا کیا، بیچےگا کیا، کمائے گا کیا اور کھائے گا کیا؟
آتم ہتیا کی پچھلی ناکام کوشش کو مچھوارا بھولا نہیں تھا اور اس بار اس نے مرنے کا مضبوط ارادہ کیا ہوا تھا۔ اس کا ارادہ ایک پتھر میں بدل چکا تھا۔ اس نے طے کیا تھا کہ اس بار پانی میں کودنے سے پہلے وہ اپنے آپ سے ایک پتھر باندھ لے گا۔ اس سے اگر پانی میں گھٹن بھی ہونے لگےگی تو وہ اوپر نہیں آ پائے گا۔ وہ پل پر پہنچا اس نے آس پاس گزرتے ہوئے لوگوں کو گزر جانے دیا۔ اس سے پہلے کہ کوئی دوسرا آتا اس نے رسی کا ایک سرا پتھر میں باندھ دیا اور دوسرا سرا خود سے باندھ لیا۔ اس سمے اس کے من میں ایک بات آئی کہ رسی اگر کسی کیبل جیسی نکلی اور جیون کابہاو اس کی طرف سے پتھر میں ہو گیا تو؟ زندہ ہو جانے کے بعد اسے ڈوبتا ہوا دیکھ کر کیا پتھر اسے بچائے گا؟ یہ سوچ کر کہ یہ مرتے وقت آنے والے بیہودہ خیالوں میں سے ایک خیال ہے اس نے جھٹ سے اس خیال کو جھٹک دیا،پتھر کو ندی کی طرف لٹکا یا اور پھر کودنے سے پہلے ایک لمبی سی سانس لی، جیون کے آخری گھونٹ کو پیا اور اسکے بعد ندی میں کود گیا۔ پہلے ندی میں پتھر گرا اور تیزی سے نیچے چلا گیا۔ پھر مچھوارا گرا اور تل کی طرف جانے لگا۔ مچھوارا جیسے جیسے نیچے کی اور جا رہا تھا اسے ندی کا بہاؤ کم ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ بہاؤ کے ساتھ ہی اسکی آخری لی ہوئی سانس بھی کم ہوتی جا رہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کی ابھی یہ بہاؤ ایک دم رک جائیگا اور چارو ںطرف صرف گھٹن ہوگی کہ ٹھیک تبھی اس کے سامنے ایک سون مچھلی آ گئی۔ سون مچھلی یعنی گولڈ فش۔ اچانک مچھوارے کے اندر رومانچ بھر گیا اس کے اندر کی بوریت برسوں کی بدمزگی جیسے پانی میں گھلنے لگی۔ ندی کے اننت پانی میں۔ اور وہ اپنے آپ کو پتھر سے آزاد کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
Swapnil Tiwari

Swapnil Tiwari

سوئپنل تیواری ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر غازی پور میں 1984 میں پیدا ہوئے اور فی الحال ممبئی میں اسکرپٹ رائٹنگ اور نغمہ نگاری کا کام کررہے ہیں، وہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ ہندی کی نئی فکشن نگار نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانیاں ہندی رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ان کی مندرجہ ذیل کہانی ہندوستان میں غریب طبقے کی جد و جہد اور زندگی سے اس کے ایک لاحاصل لیکن اٹوٹ رشتے کو اجاگر کرتی ہے۔


Related Articles

محبت کی گیارہ کہانیاں (تیسری کہانی)

تصنیف حیدر: میں بی اے سکینڈ ائیر کی طالبہ ہوں اور اب میں کلاس میں جارہی ہوں ، جو میرے اونگھنے اور باہر دیکھتے رہنے کی سب سے پسندیدہ جگہ ہے۔

بَکاسُر

سب نے مل کر راکشس سے سمجھوتا کر لیا ہے کہ ہر روز کھانے سے بھری ہوئی ایک گاڑی، دو بیل اور ایک آدمی راکشس کے کھانے کے لیے بھیجے جائیں گے۔

سائے کی کہانی

اس سے پہلے بھی تین بار وہ سایہ میرا دھیان بٹا چکا تھا،ایسا لگتا تھا جیسے کہ مجھے کوئی دیکھ رہا ہے، بڑی حیرت کی بات تھی کہ میں نہ تو کھڑکی کے قریب بیٹھا تھا اور نہ ہی اگلی چھت سے کسی کے مجھے دیکھ لینے کا امکان تھا۔