سُر شناسی کے پچپن برس - کل پاکستان موسیقی کانفرنس

سُر شناسی کے پچپن برس -  کل پاکستان موسیقی کانفرنس
گزشتہ 55 برس سے کلاسیکی موسیقی اور عوام کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے کے لئے کوشاں کل پاکستان موسیقی کانفرنس 18 اکتوبر کی شب اختتام پذیر ہوئی۔ چھ روزہ کانفرنس میں کلاسیکی، نیم کلاسیکی اور فوک گائیکی کے مختلف رنگ لوگوں تک پہنچانے کے لئے الحمرا ہال مال روڈ میں منعقد کی گئی۔کانفرنس میں نئے گلوکاروں کو متعارف کرانے کے علاوہ گھرانوں کی میراث کو بھی عوام تک پہنچایا گیا۔

کل پاکستان موسیقی کانفرنس کی سیکرٹری جنرل غزالہ عرفان  فن کاروں کا تعارف پیش کر رہی ہیں، پس منظر میں کانفرنس کے منتظمین سٹیج پر موجود ہیں۔  اس برس کانفرنس کے مرحوم صدر جاوید قریشی کی یاد میں ایک شام کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

کل پاکستان موسیقی کانفرنس کی سیکرٹری جنرل غزالہ عرفان فن کاروں کا تعارف پیش کر رہی ہیں، پس منظر میں کانفرنس کے منتظمین سٹیج پر موجود ہیں۔ اس برس کانفرنس کے مرحوم صدر جاوید قریشی کی یاد میں ایک شام کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

راقع جمیل نے "سُر بہار" پر اپنے فن کا مظاہر کیا۔ سُر بہار کو بجانے کا ڈھنگ ستار سے مشابہ ہے تاہم اسے عام طور پر الاپ بجانے کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔سرُ بہار ہندوستانی موسیقی میں انیسویں صدی میں مقبول ہواتھا تاہم آج کل ستار کو ترجیح دی جاتی ہے۔

راقع جمیل نے "سُر بہار" پر اپنے فن کا مظاہر کیا۔ سُر بہار کو بجانے کا ڈھنگ ستار سے مشابہ ہے تاہم اسے عام طور پر الاپ بجانے کے لئے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔سرُ بہار ہندوستانی موسیقی میں انیسویں صدی میں مقبول ہواتھا تاہم آج کل ستار کو ترجیح دی جاتی ہے۔

پاکستان کی واحد دھرپد گائیکہ عالیہ رشید ؛ دھرپد گائیکی خیال گائیکی کے متعارف ہونےسے قبل ہندوستان بھر میں مقبول تھی۔دھرپد طبلہ کی بجائےپکھاوج یا مردنگ پر پیش کی جاتی ہے، اور ویدوں کے زمانے سے گائی جا رہی ہے۔دھرپد گائیکی میں راگ کی اصل شکل، ساخت اور ترتیب کو برقرار رکھنے پر بہت زور دیا جاتا ہے اور مضامین عموماً مذہبی اور روحانی ہوتے ہیں۔

پاکستان کی واحد دھرپد گائیکہ عالیہ رشید ؛ دھرپد گائیکی خیال گائیکی کے متعارف ہونےسے قبل ہندوستان بھر میں مقبول تھی۔دھرپد طبلہ کی بجائےپکھاوج یا مردنگ پر پیش کی جاتی ہے، اور ویدوں کے زمانے سے گائی جا رہی ہے۔دھرپد گائیکی میں راگ کی اصل شکل، ساخت اور ترتیب کو برقرار رکھنے پر بہت زور دیا جاتا ہے اور مضامین عموماً مذہبی اور روحانی ہوتے ہیں۔

نور زہرہ کاظم اپنے والد رضا کاظم کا اختراع کردہ ساز "ساگر وینا" پر راگ ایمن کلیان پیش کر رہی ہیں۔ رضاکاظم 1970 سے اس ساز کی تیاری میں مصروف ہیں،اس ساز کی ساخت اور صوتی وسعت ہندوستانی String Instruments سے بے حد مختلف ہے اور یہ بجانے والے کو ستاراور سر بہار کی نسبت زیادہ تخلیقی آزادی مہیا کرتا ہے۔

نور زہرہ کاظم اپنے والد رضا کاظم کا اختراع کردہ ساز "ساگر وینا" پر راگ ایمن کلیان پیش کر رہی ہیں۔ رضاکاظم 1970 سے اس ساز کی تیاری میں مصروف ہیں،اس ساز کی ساخت اور صوتی وسعت ہندوستانی String Instruments سے بے حد مختلف ہے اور یہ بجانے والے کو ستاراور سر بہار کی نسبت زیادہ تخلیقی آزادی مہیا کرتا ہے۔

پٹیالہ گھرانہ کے استاد فتح علی خان  نےاپنے صاحبزادے رستم فتح علی خان کے ساتھ راگ ساکھ  اور راگ پہاڑی کی ٹھمری پیش کی۔پٹیالہ گھرانہ خیال اور ٹھمری گائیکی میں مہارت رکھتا ہےاور گمک،تان کاری، ترانہ  اور مختصر بندشوں کی وجہ سے منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔پٹیالہ گھرانہ کی بنیاد استاد بڑے فتح علی خان اور علی بخش خان نے رکھی تھی، یہ گھرانہ جوڑی میں گانے کے حوالےسے بھی مشہور ہے اور گائیکی کے پنجاب انگ کی نمائندگی کرتا ہے۔

پٹیالہ گھرانہ کے استاد فتح علی خان نےاپنے صاحبزادے رستم فتح علی خان کے ساتھ راگ ساکھ اور راگ پہاڑی کی ٹھمری پیش کی۔پٹیالہ گھرانہ خیال اور ٹھمری گائیکی میں مہارت رکھتا ہےاور گمک،تان کاری، ترانہ اور مختصر بندشوں کی وجہ سے منفرد حیثیت کا حامل ہے ۔پٹیالہ گھرانہ کی بنیاد استاد بڑے فتح علی خان اور علی بخش خان نے رکھی تھی، یہ گھرانہ جوڑی میں گانے کے حوالےسے بھی مشہور ہے اور گائیکی کے پنجاب انگ کی نمائندگی کرتا ہے۔

رستم فتح علی خان اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔

رستم فتح علی خان اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔

ابھرتے ہوئے بانسری نواز حیدر رحمان

ابھرتے ہوئے بانسری نواز حیدر رحمان

ستار امیر خسرو کی اختراع ہے اور ہندوستان بھر میں بجایا جاتا ہے،کانفرنس میں ستار، بانسری، رباب اور سرود پر سازینے بھی پیش کئے گئے۔

ستار امیر خسرو کی اختراع ہے اور ہندوستان بھر میں بجایا جاتا ہے،کانفرنس میں ستار، بانسری، رباب اور سرود پر سازینے بھی پیش کئے گئے۔

کانفرنس میں ملک بھر کے نامور کلاسیکی، نیم کلاسیکی اور فوک گائیک شرکت کرتے ہیں اور ہر برس معروف فنکاروں کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا جاتا ہے، اس برس یہ ایوارڈ استاد غلام خسرو خان اور استاد جاوید حسین خان کو دیا گیا ہے۔

کانفرنس میں ملک بھر کے نامور کلاسیکی، نیم کلاسیکی اور فوک گائیک شرکت کرتے ہیں اور ہر برس معروف فنکاروں کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا جاتا ہے، اس برس یہ ایوارڈ استاد غلام خسرو خان اور استاد جاوید حسین خان کو دیا گیا ہے۔

رفاقت علی خان اور استاد طافو

رفاقت علی خان اور استاد طافو

پٹیالہ گھرانے کے استادحامد علی خان ریاض کرتے ہوئے۔

پٹیالہ گھرانے کے استادحامد علی خان ریاض کرتے ہوئے۔

استادرستم فتح علی خان گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی ٹیم کے ہمراہ ۔

استادرستم فتح علی خان گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی ٹیم کے ہمراہ ۔

استاد شفقت سلامت علی خان اپنے بیٹے کے ہمراہ اپنے والد استاد سلامت علی خان مرحوم  کا ترتیب دیا ہوا راگ کیلاش بھیروں پیش کرتے ہوئے۔شفقت سلامت علی خان کا تعلق شام چوراسی گھرانہ سے ہے جس کی بنیاد سولہویں صدی میں میاں چاند خان اور میاں سورج خان نے رکھی تھی۔یہ گھرانہ اپنی خوبصورت تانوں کے باعث مشہور ہے۔

استاد شفقت سلامت علی خان اپنے بیٹے کے ہمراہ اپنے والد استاد سلامت علی خان مرحوم کا ترتیب دیا ہوا راگ کیلاش بھیروں پیش کرتے ہوئے۔شفقت سلامت علی خان کا تعلق شام چوراسی گھرانہ سے ہے جس کی بنیاد سولہویں صدی میں میاں چاند خان اور میاں سورج خان نے رکھی تھی۔یہ گھرانہ اپنی خوبصورت تانوں کے باعث مشہور ہے۔

گوالیار گھرانے کے استاد فتح علی خان نٹ بھیروں پیش کرتے ہوئے۔

گوالیار گھرانے کے استاد فتح علی خان نٹ بھیروں پیش کرتے ہوئے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

ماہِ میر؛ مسخ شدہ تاریخ کا پلندہ

فلم میں میر کی وحشت کا تذکرہ تو بہت ہے مگر اسے احمد جمال اور پروفیسر کلیم کی جنسی کج رویوں، ناکام معاشقوں اور شراب نوشی کے تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیا ہے وہ حقیقت سے بے حد دور ہے۔

From Solidarity with Hazaras to a Common Destiny

A recent survey by Pew Research Center gives a bleak picture of the sectarian divide in Pakistani society. According to

ریڈیو پاکستان کراچی کی خستہ حال عمارت

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پرریڈیو پاکستان کراچی کی قدیم عمارت واقع ہے جسے اب تاریخی ورثہ قرا دے دیاگیا ہے، یہ وہ عمارت ہے جہاں سے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی تقریر نشر ہوئی۔