سُر منڈل کا راجا

سُر منڈل کا راجا
سُر منڈل کا راجا
پتلے کانچ کی دیواروں پر بُن کر رات کے جالے
ٹھنڈے دلوں کے گاڑھے لہو پر پڑھ کر منتر کالے
میں جادوکے دیس چلا ہوں ،جس کے پار اُجالے
نیل سرا میں کھو جائیں گے مجھ کو ڈھونڈنے والے

 

چھونے والے پاس آئے تو پاس نہ آنے دوں گا
سِحر نگر میں پری محلہ ، پریوں پاس رہوں گا

 

آنکھ ہوا کی بھر آئے گی دھندلائیں گے تارے
راہِ سفر میں جاگ اُٹھیں گے ٹھہری نیند کے مارے
تیز اڑے گی جیت ہماری ،اُونگھنے والے ہارے
چھن چھن چھاجا چھنکائیں گے چھُپ بیٹھے ہنکارے

 

پورب پنچھم باجنے والا ایک خدا کا باجا
نام ہمارے بجوائے گا سُرمنڈل کا راجا

 

آخری پربت کی برفوں پر پھول ازل کا نیلا
آب حیات رگوں میں جاری لیکن چہرہ پیلا
مُلک سراب کی جادو گرنی اور جادو کا ٹیلا
جوں جوں پربت پھیلتا جائے توں توں ماتھا گیلا
ڈوبنے والے نام پکاریں لیکن میں شرمیلا
آخر کھینچ لیا منتر نے، ایک چلا نہ حیلہ


Image: M. F. Hussein

Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Natiq

Ali akbar Natiq, a renowned poet, short story writer and a novelist, hails from Okara, Punjab. He is currently teaching at a private university. His books "Yaqoot k Warq", "Be Yaqeen Bastio'n Mein" and "Nau Lakhi Kothi" have been praised by readers and critics alike.


Related Articles

ایسی نظموں کی حمایت کا انجام گمشدگی ہے

علی زریون: لیکن بندوق کبھی کوئی رسوائی نہیں دیکھے گی
کیونکہ لوہے پر کوئی بد دعا اثر نہیں کرتی

اگر ہم گیت نہ گاتے

افضال احمد سید: ہمیں معنی معلوم ہیں
اس زندگی کے
جو ہم گزار رہے ہیں

باز گشت

ساتوں سُر آخری بار اکٹھے ہوئے، شور نے ان پر واضح کر دیا تھا کہ اب صرف اسی کو کہا، سنا اور گایا جائے گا،سو انھوں نے دنیا چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا۔