شاعر شناسی کیوں؟

شاعر شناسی کیوں؟

 

میں نے اپنے دو ایک احباب کو اردو اور ہندی شاعری کی وجہ سے ہمیشہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا ہے کہ ان کا شعر کہنے کا انداز اتنا مختلف اور متاثر کن ہے کہ میں اس پر ہمیشہ رشک کرتا ہوں۔ چونکہ وہ میرے دوست ہیں اس لیے وہ بہتر جانتے ہیں کہ یہ رشک کبھی حسد نہیں بنا اور اگر ان جیسے اشعار نہ کہہ پانے کے سلسلے میں یہ حسد بن بھی گیا تو اس میں کچھ بری بات نہیں کہ اس امر میں یہ بھی مستحسن ہے۔ شعرکہنا تو خیر ہر کسی کے بس میں نہیں مگر اچھی شاعری پڑھنا اور اسے سننا یہ ہر کسی کے بس میں ہے اور اس وقت تک ہمارے بس میں ہے جب تک ہم بری شاعری کے عادی نہیں ہوتے۔ بری شاعری کوئی ایسی شئے نہیں جو ایک ابھری ہوئی صورت میں ہمارے سامنے آئے اس تختی کے ساتھ کہ میں بری ہوں ۔ بس اس کی شناخت ایک طرح کے مسلسل عمل قرات سے ہوتی ہے اور ساتھ ہی وسعت مطالعہ سے۔ موٹے طور پر شاعری کو پڑھتے پڑھتے اور سنتے سنتے ہر قاری اور سامع کو ایک وقت پر اس بات کا احساس خود ہو جاتا ہے کہ اچھی شاعری کون سی ہے اور بری کون سی ۔لہذا اس کی کوئی جامع قواعد نہیں ،یہ سراسر ذوق مطالعہ پر منحصر ہے۔ آج کل عوامی مشاعروں میں جس طرح کے شعر پڑھے جاتے ہیں اور جس فکری سطح کے شاعر اس میں اپنا کلام سناتے ہیں اس میں سے زیادہ تر کا  یہ حال ہے کہ ان کی شاعری بہت خراب ہوتی ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ مشاعروں میں عوام کے سامنے شعر سنا رہے ہیں بلکہ اس لیے کہ جو شاعر عوام کے سامنے کھڑا ہو کر شعر پڑھ رہا ہوتا ہے اس کا مبلغ علم کچھ نہیں ہوتا۔نہ وہ اپنی ماضی کے شعری سرمائے سے واقف ہوتا ہے  ،نہ اسے زبان آتی ہے، نہ اس کا ادبی مطالعہ ہوتا ہے اور نہ ہی عوام کے مسائل اور حالات حاضرہ پر اس کی نگاہ ہوتی ہے۔ شعر کہنا ایک بڑی ذمہ داری کا کام ہے وہ بھی ایسی ذمہ داری جو شعوری عمل سے کم غیری شعوری شعری صلاحیتوں سے زیادہ نبھائی جاتی ہے۔ مشاعروں کو برا کہنے کا سلسلہ تو خیر پرانا ہے ، میرا یہاں ایسا کوئی ارادہ نہیں بس میں اس بات کی جانب اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مشاعرے کی شاعری کے چکر میں پڑا ہوا ہے اور اسے ا ن چھٹ بھیوں کے علاوہ شاعری کے نام پر کوئی شاعر معلوم ہی نہیں تو اس کی علمی استعداد کا اندازہ کم سے کم درجے میں ان لوگوں کو یک بارگی ہو جائے گا جو واقعی شاعری کے عاشق ہیں اور شعر پڑھنے اور سننے کے حقیقی عمل سے وابستہ ہیں ۔شعر تو خیر عوام کے سامنے ہی پڑھا جاتا ہے اور عوام کو ہی سنانے کے لیے ہوتا ہے ۔مثلاً استاذ محترم غالب نے کہا تھا کہ:

ادائے خاص سے غالب ہوا ہے نکتہ سرا

صلاے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

تو ہمیں معلوم ہوا کہ واقعی شعر عوام کے لیے ہوتا ہے یا میر صاحب نے جو یہ کہا کہ:

شعر میرے ہیں گو خواص پسند

پر مجھے گفتگو عوام سے ہے

تو بھی اس خیال کو تقویت ملی۔ لہذا اس ذیل میں میر اور غالب میں فرق یہ ہے کہ میر صاحب نے عوام کی تعریف نہیں کی جبکہ غالب نے صلاے عام میں ان لوگوں کو اپنے شعر کے لیے یا حقیقی شعر کے لیے مختص کر دیا جو نکتہ دانی کا ہنر جانتے ہیں۔ اس امرمیں میں میر صاحب سے زیادہ غالب کا معتقد ہوں کہ شاعری کی عوام بھی وہ ہی ہوتی ہے جو شاعر کی نکتہ سرائی کو اپنی نکتہ دانی سے سمجھ لے۔

خیر بات کہیں سے کہیں نکل گئی ۔ میں کہنا یہ چاہتا تھا کہ اچھا شعر اگر کوئی شخص نہ کہہ سکے یا کسی شخص میں شعر کہنے کی صلاحیت نہ ہو تو اسے خود کو اس عمل میں لگا لینا چاہیے کہ اچھے شعرا کا کلام پڑھے ۔ اس سے دو فائدے ہوں گے ۔پہلا تو یہ کہ شعری ذوق ستھرا ہو گا اور شاعری کے معیار کا علم ہوگا جس کے لیے مولی علی نے کہا ہے کہ شعر انتہا العلوم ہے ، دوسری بات یہ کہ عین ممکن ہے کہ اچھی شاعری پڑھتے پڑھتے کچھ اچھے شعر کہنے کا ملکہ حاصل ہو جائے۔ حالاں کہ یہ ذرا مشکل کام ہے پر امر محال نہیں ۔

 بہر کیف اردو میں گزشتہ دنوں ہمارے ایک عزیز اور بڑے پیارے انسان طارق فیضی صاحب نے اس سلسلے کا آغاز شاعر شناسی کے نام سے کیا ہے کہ پرانے اور نئے اچھے شعرا کا کلام ایک محفل منعقد کر کے پڑھا جائے اور اس کو باقاعدہ اسی التزام کے ساتھ پڑھا جائے کہ یوں محسوس ہو گویا شعر کہنے والا خود وہاں موجود ہے۔ یہ سلسلہ صرف طارق فیضی صاحب کا نہیں بلکہ اس میں تصنیف حیدر صاحب بھی شامل ہیں جو اردو کے اچھے اور سچے شاعروں کا انتخاب کر کے اس نشست کے انعقاد میں پیش پیش ہیں اور ساتھ ہی ایک نوجوان لڑکا اظہر الدین اظہر ہے جو اس پروگرام کی داخلی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔یہ تمام لوگ میرے لیے خاصے اہم ہیں کہ انہوں نے اس سلسلے کا آغاز کیا ہے۔ میں نے اس پروگرام کے حوالے سے جب پہلی مرتبہ سناتو اس پر چار سطریں لکھ کر فیس بک پر پوسٹ کیں، لہذا شمیم حنفی صاحب جو کہ اردو کے اس وقت موجود سب سے اہم ادیبوں میں سے ایک ہیں انہوں نے اس پوسٹ پر ایک کمنٹ کیا کہ یہ ایک مشکل کام ہے۔مجھے ان کی بات سے صد فی صد اتفاق ہے اور میں خود اس کام کو بہت مشکل ہی سمجھتا ہوں کہ جہاں اردو کے عوامی پروگرام اردو کی مٹی پلید کر رہے ہیں اور اس کے ادبی معیار کو انحطاط بخشنے میں اپنا آخری زور تک صرف کرنے میں لگے ہوئے ہیں، وہاں ایک ایسا مشاعرہ منعقد کیا جائے جس میں کسی بھی عوامی شاعر کا داخلہ ممنوع ہو۔ ساتھ ہی یہ اس لیے بھی مشکل ہے کہ اس پروگرام میں جن شعرا کا انتخاب کیا جا رہا ہےان کی شاعری پڑھنا خود اتنا آسان کام نہیں ۔ ظاہر ہے کہ کسی شاعر کو ہم اس وقت تک کسی محفل میں ہر گز نہیں پڑھ سکتے جب تک اس کی مسلسل قرات سے اس کو اپنے باطن میں اتار نہ لیں ۔ لہذا ایسے پڑھنے والے وہ بھی اس نئی شاعری کو جس میں ثروت حسین، زیب غوری،منچندہ بانی،غلام محمد قاصر،جمال احسانی، عرفان ستار،ادریس بابر،ذولفقار عادل،علی اکبر ناطق اورکاشف حسین غائر وغیرہ کوشامل کیا گیا ہو کہاں سے ڈھونڈا جائے۔ یہ تو ایسے شعرا ہیں جن کے اشعار ابھی اردو معاشرے میں عام ہی نہیں ہوئے ہیں  اور ہوں گے بھی کیسے کہ اردو معاشرہ جوش اور فراق سے آگے ہی نہیں بڑھا۔ اردو والے یا تو غالب اور میر کو پڑھتے ہیں یا اقبال اور فیض کو اور بہت زیادہ پڑھ لیا تو احمد فراز اور جون ایلیا کو ۔ اس سے آگے ان کا سلسلہ بڑھتا ہی نہیں ہے اور اردو کے طلبہ اور رسرچ اسکالرس کا تو اللہ ہی حافظ ہے کہ وہ تو ان شعرا تک کو نہیں پڑھتے جن کا تذکرہ اوپر ہوا۔البتہ راحت اندوری اور منور رانا کو خوب جھوم جھوم کر پڑھتے ہیں ۔ لہذا مشکل یہ بھی پیش آنی ہے کہ ان شعرا کا کلام پڑھنے کے لیے تلاش کسے کیا جائے۔ حالاں کہ ادھر نوجوان لڑکے ، لڑکیوں کی ایک ایسی کھیپ اٹھی ہے جو اردو شاعری سے صحیح معنی میں وابستہ ہے اور وہ ایسے شعرا کو تلاش کر کر کے پڑھ بھی رہی ہے اور اردو شاعری کا ستھرا ذوق بھی رکھتی ہے۔ مگر یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ ایسے لڑکے لڑکیاں بھی انگلیوں پر گنے جانے کے لائق ہیں  اور کتنی مرتبہ انہیں سے کلام پڑھوایا جائے گا۔ لہذا اس میں ایک بڑی پریشانی یہ بھی ہے کہ چند ایک لوگوں کو شاعر شناسی کے ذمہ داران کو خود تلاش کرنا ہوگا اور خود ان کی تیاری کروانی ہوگی اور پھر اس نشست کا انعقاد کرنا ہوگا۔

شاعر شناسی کی ضرورت اس وقت اس لیے بھی بہت زیادہ ہے کہ اردو میں جو لوگ اچھی شاعری کر رہے ہیں ۔ وہ بہت محدود سطح پر جانے اور قبول کیے جاتے ہیں ظاہر ہے کہ جب ان کو پڑھنے کا اتنا چلن ہی نہیں ہے تو ان کو جاننے کا چلن کیوں کر ہوگا اور کوئی ایسا شاعر جو واقعی اچھی شاعری کرتا ہے وہ خود کو جنوانے میں یوں بھی کچھ زیادہ دلچسپی نہیں لیتا ۔ ایسے میں اردو پریس کلب جیسے مشہور   ادارے اگر ان کو عوام میں روشناس کروانے کا ایک قدم اٹھا رہے ہیں تو یہ کام میرے نزدیک بہت زیادہ اہمیت کا حامل ٹھہرتا ہے کہ کوئی تو ہے جو اس عمل میں آگے آیا۔ میں نے خود شاعر شناسی کے ایک پروگرام میں یہ محسوس کیا کہ جتنے بھی لوگ اس کو سنتے ہیں وہ شاعری کے معیاری لہجے سے کتنا زیادہ متاثر ہوتے ہیں حالاں کہ ان میں بہت سے ایسے بھی تھے جنہوں نے جمال احسانی ، کاشف غائر، علی اکبر ناطق اور عرفان ستار وغیرہ کا نام بھی پہلے نہیں سنا تھا اور نہ صرف یہ کہ یہ پروگرام جس جگہ کیا گیا وہاں اسے لوگوں نے پسند کیا بلکہ اس  کو آن لائن بھی اچھے خاصے لوگوں نے دیکھا اور بہت زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔شاعر شناسی کا یہ سلسلہ شروع ہوا ہے تو میں اس بات کا اعتراف کر رہا ہوں کہ اس سلسلے سے اردو شاعری کے ایک بالکل نئے مزاج کا لوگوں کو علم ہوگا اور لوگ مشاعرے کے عام تصور سے باہر نکلیں گے اور یہ جان پائیں گے کہ اردو شاعری جوش ، فیض اور فراق سے کتنی آگے آچکی ہےاوراگر یہ اسی طرح چلتا رہا تو مجھے امید ہے کہ ایک بڑے پیمانے پر اس بات کا اعتراف  بھی کیا جائے گا کہ اردو میں یہ کوشش تصنیف حیدر اور طارق فیضی نے بر وقت کی کہ شاعر شناسی جیسا سلسلہ شروع کیا جائے۔ جس کی ہم سب کو سخت ضرورت تھی۔

 

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Taleef Haider

Taleef Haider

Taleef Haider is a student of PhD Urdu at Jawahar Lal Nehru University. He is a poet and has written many critical essays for various literary magazines.


Related Articles

زندگی ہے کہ پھر بھی پیاری ہے۔

پاکستان کو بطورریاست اور معاشرہ بہت سے مسائل کا سامنا ہےاور پاکستانی فلم جیسی نایاب جنس اگر ان مسائل کو اجاگر کرے تو اس سے زیادہ خوشگوار احساس پاکستان میں کم ہی نصیب ہوتا ہو گا۔

12 years a slave

‘Twelve years a slave’ is a hard-hitting, heart-wrenching and brutally original film that hardly leaves you with a dry eye.

Making Learning Fun: Account of Children Literature Festival

Qurat-ul-ain Haider Zaidi It started with a bang and a cheerful children’s anthem Humain Kitab Chahiye and ended with the